قائد اعظمؒ کا تصور جمہوریت!

قائد اعظمؒ کا تصور جمہوریت!

آج 11 ستمبر ہے بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ کو ہم سے جدا ہوئے تقریباً 66 سال ہو چکے ہیں 14 اگست 1947ء کو وطن عزیز معرض وجود میں آیا اور 13 ماہ بعد ہی قائد اعظم ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ بانیان پاکستان کے پیش نظر جو مقاصد تھے جن کی تکمیل کیلئے یہ مملکت خدا داد حاصل کی گئی۔ تقریباً نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد ہی کیا ہم ان مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوئے ہیں یا ہمیں ان کا عمل بھی ہے کہ نہیں۔ یا ہمارے حکمران جان بوجھ کر ان سے روگردانی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ قائد اعظمؒ سے جب بھی پوچھا جاتا کہ پاکستان کا آئین کیا ہو گا تو آپ فرماتے کہ وہ تو قرآن مجید کی شکل میں ہمارے پاس پہلے ہی موجود ہے۔ جمہوریت کے بارے میں قائد اعظمؒ نے بار بار فرمایا کہ جمہوریت تو ہم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی سیکھ لی تھی۔ آج سے تیرہ سو سال پہلے سے قائد اعظم بار بار رہنمائی حاصل کرتے۔ دوسروں الفاظ میں بانی پاکستان آئین پاکستان اور جمہوریت کو قرآن و سنت کے تابع سمجھتے تھے۔ آج سے تیرہ سو سال قبل والی جمہوریت کا منبع و مرکز خاتم النبینؐ کی تعلیمات اور خلفائے راشدین کے ادوار ہیں۔ اس جمہوریت میں ایک عام آدمی کو بھی خلیفہ وقت حضرت عمرؓ سے باز پرس کا حق حاصل تھا کہ جناب آپ کا وظیفہ تو اتنا ہے نہیں تو یہ مال کہاں سے آگیا؟ خلیفہ وقت جواب دینے کے پابند تھے۔ لیڈر اور رعایا میں ظاہری طور پر کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ جب چند صحابہؓ شدت بھوک سے نڈھال ہو کر آپؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھنے کے بارے عرض کرتے ہیں تو میں اور میرے ماں باپ آپؐ کے مبارک جوتوں کے نشانات پر قربان جائیں تو آپؐ صحابہؓ کو اپنا پیٹ مبارک دکھاتے ہیں کہ دیکھو میرا بھی بھوک سے یہی عالم ہے اور میں نے دو پتھر باندھ رکھے ہیں۔ حضرت علیؓ خلافت کے دوران جب مقدمہ کے سلسلہ میں مخالف کے ساتھ قاضی کی عدالت میں جاتے ہیں تو وہ حضرت علیؓ کے احترام میں اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے تو مولا علیؓ فرماتے ہیں کہ یہ تمہاری ناانصافی ہے یہ جمہوریت کی اصل حقیقی روح تھی۔ جس کا قائد اعظم پاکستان میں عملی مظاہرہ دیکھنے کے خواہاں تھے۔ بلاشبہ آج بھی جمہوریت کے نام پر ہی حکومت فرائض سر انجام دے رہی ہے اور اس سے بہتر طرز حکومت کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ 67 سالوں میں اس ’’جمہوریت‘‘ کے ثمرات عام آدمی تک منتقل کیوں نہیں ہو سکے۔ ماضی کو چھوڑئیے سابقہ پانچ سالہ د ور کو بھی زرداری کی صدارت میں ’’جمہوری‘‘ دور ہی تھا۔ اب بھی ڈیڑھ سال سے جمہوری حکومت قائم و دائم ہے۔ بیشک الیکشن کے ذریعے لوگ پارلیمنٹ میں جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ووٹ دینے والوں کی حالت تو پانچ سال بعد پہلے سے بھی بدتر ہو جاتی ہے مگر ووٹ لینے والے پانچ سال میں اربوں کھربوں پتی بن جاتے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ تک ہی فنڈز محدود کیوں ہو جاتے ہیں۔ عوام تک ڈیلیور کیوں نہیں ہوتے؟ عوام کے بنیادی مسائل بھی حل کیوں نہیں ہوتے؟ جمہوریت کے ’’ثمرات‘‘ اور خاطر خواہ فائدے اراکین پارلیمنٹ کی ذاتی ملکیت ہی کیوں بن جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ شاید خوف خدا و خوف آخرت کا نہ ہونا ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہی نہیں ہے؟ حال ہی میں دیکھئیے عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنوں کے باعث پارلیمنٹ کے اجلاس باقاعدگی سے جاری ہیں۔ ’’جمہوریت‘‘ کو بچانے کے حق میں معزز اراکین لمبی لمبی تقاریر کرتے نظر آتے ہیں جو کہ بالکل جائز ہے مگر وہاں عوام کے مسائل حل کرنے اور انہیں حقوق دینے کی آواز کہیں سے بھی سنائی نہیں دیتی۔ لوڈشیڈنگ کے علاوہ بیروزگاری مہنگائی اور روزانہ کی بنیادوں پر بجلی کی قیمت میں اضافہ پارلیمنٹ میں موضوع بحث ہی نہیں اگر اسی طرح ’’مفاہمت‘‘ کے نام پر اور ’’ذاتی مفادات‘‘ کی خاطر سابقہ ’’لٹیروں‘‘ سے بھی محبت کی پینگیں بڑھائی جاتی رہیں گی تو کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ کیسے ہو گا؟ اور کب تک ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر پارٹیاں لوٹتی رہیں گی۔ اور عوام کی حالت بد سے بدتر ہوتی جائیگی۔ اگر ’’جمہوریت‘‘ مضبوط بنیادوں پر قائم و استوار ہوتو دو چھوٹی سی پارٹیوں کے ’’دھرنوں‘‘ سے خائف کیوں؟ بجائے یہ کہ کل لٹیروں کو ساتھ ملایا جائے دونوں دھرنوں کے جائز مطالبات مان کر انہیں چلتا کیا جائے۔ بہر حال سوال یہ ہے کہ بانی پاکستان نے وطن عزیز میں آج سے تیرہ سو سال پہلے والی جمہوریت کے نظام کا جو خواب دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر کب ہو گا‘ ہو گا بھی یا نہیں؟ ایک جمہوری حکومت عام آدمی کے مسائل کب حل کریگی؟