عظیم سیاستدان

کالم نگار  |  حاجی عرفان الحسن بھٹی
عظیم سیاستدان

بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ایک عظیم رہنما تھے جنہوں نے ایک غلام قوم میں آزادی کا جذبہ پیدا کیا اور عظیم مفکر و دانشور  شاعر پاکستان مشرق حضرت علامہ اقبال کے افکار کے مطابق ان میں خودی بیداری اور خودداری کا قیادت و سیادت کا جوہر پیدا کیا یہ سب کچھ انہوں نے اپنے عزم و ہمت اور عزم و یقین، بصیرت اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ایک ایسی قوم میں پیدا کیا جو پسماندگی اور باہمی انتشار اور بے عملی کی وجہ سے اپنا وصف آزادی کھو چکی تھی۔بابائے قوم قائد اعظم کی ساری سیاست فہم و فراست اور عقل و دانش کیساتھ مسلسل جدوجہد انتھک محنت اور جمہوری اصولوں کیمطابق مسلمانوں کی ہندوئوں اور انگریزوں کی دوہری غلامی اور پسماندگی سے نجات کیلئے تھی انہوں نے نہایت مہارت سے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی در غلامی سے نجات دلانے کیلئے انکی قیادت اس وقت سنبھالی جب برصغیر میں بدقسمتی سے مسلم سیاست نیشنلزم اور مذہبی عناصر میں تقسیم تھی اور یہ دونوں متحد بھارت یا اکھنڈ بھارت کے سحر میں گرفتار تھے۔ اس وقت صرف قائد اعظم کی ذات ہی ایسی تھی جو منتشر اور ان بکھرے مختلف الخیال مسلمان گروہوں کو متحد کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دانائے راز مصور پاکستان علامہ محمد اقبال نے لندن سے قائد اعظم کو واپس بلوا کر مسلمانوں کی قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سونپی جو قائد اعظم نے اس خوبی سے نبھائی کے کوئی لالچ کوئی دبائو اور دھونس حتی کے ان کو لاحق جان لیوا بیماری بھی انہیں اس راہ سے نہیں ہٹا سکی۔ انہوں نے قوم کی آزادی کیلئے طویل سیاسی جنگ لڑی۔ دوسری طرف دیکھیں تو گاندھی اور اسکے حامی ہندو اور مسلم نیشلسٹ رہنما دھرنوں، جلائو گھیرائو اور آئے روز کے ہڑتالوں کی سیاست میں مصروف رہے۔ قائد اعظم نے تحریک پاکستان کے تمام عرصہ جدوجہد میں کبھی لاٹھی گولی، قید اور ہڑتال یا دھرنے اور جلائو گھیرائو کی سیاست کی راہ یا طریقہ نہیں اپنایا۔ اپنے دلائل اور سیاسی سوجھ بوجھ سے بنا لاٹھی گولی اور طاقت کے یہ جنگ اس طرح جیت کر دکھائی کہ ساری دنیا حیران ہے اور ہم بڑے فخر سے انکی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے۔
ملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح
ہم جسم ہیں تو جان ہے محمد علی جناح
کا نغمہ جانفراء گاتے ہیں اور گاتے رہیں گے۔ آج ان کے یوم وفات پر بدقسمتی سے ملک میں ایک طرف دھرنے بازوں کا میلہ لگا ہوا ہے جس کے قائدین کھلم کھلا خود گاندھی کی دھرنا پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں تو دوسری طرف قائد اعظم محمد علی جناح کے حقیقی اور سچے پیروکار تمام تر مشکلات پریشانیوں اور قدرتی آفات کے باوجود جمہوری نظام اور اصولوں کی پاسداری کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اب یہ فیصلہ قوم نے کرنا ہے کہ گاندھی کے دھرنا بازوں کا ساتھ دیتی ہیں یا قائد اعظم کے حقیقی جانشین میاں نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں۔ حقیقت میں یہی وہ وقت ہے جو ملک و قوم نے اپنے بہتر مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے اور اپنے آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال اور پرامن مستقبل دینے کے لئے شریف برادران کا ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔