آج قائد زندہ ہوتے تو…

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
آج قائد زندہ ہوتے تو…

قائداعظم کو دنیا سے رخصت ہوئے 66برس گزر گئے اس دوران مملکت خداداد میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ حوادثات کا ایک منظر تاحد نگاہ پھیلا ہوا ہے۔ ہماری محرومیوں کی داستان خاصی طویل ہے بدقسمتی سے قائداعظمؒ کا ویژن، فلسفہ، تصور جمہوریت اور نظریہ پاکستان انکے ساتھ ہی رخصت ہو گیا تھا۔ پاکستان کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے اور جمہوری نظام کی استواری کے حوالے سے قائد کا تصور ابتدا میں ہی بکھر گیا تھا۔ قائد کی رحلت کے بعد ملک میں جو کچھ ہوا اسے انتشار، پراگندگی اور سیاسی بازیگری کا کھیل ہی کہا جا سکتا ہے۔ قائداعظم نے 25 جنوری 1948 میں کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ رسولؐ اللہ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ آپؐ نے جس چیز میں ہاتھ ڈالا کامیابی نے آپؐ کے قدم چومے۔ تجارت سے لیکر حکمرانی تک، ہر شعبہ حیات میں آپؐ مکمل طور پر کامیاب رہے۔ رسالت مآبؐ پوری دنیا کی عظیم ترین ہستی تھے۔ تیرہ سو سال میں آپؐ نے جمہوریت کی بنیادیں رکھ دی تھیں‘‘ لیکن جمہوریت کیلئے قائم کردہ قائد کے ملک میں جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا۔ 67 سالوں میں سے نصف عرصہ یعنی تینتیس سال چار آمروں نے آئین و قانون کو پامال کرکے جمہوریت کو گھر چلتا کیا۔ باقی عرصہ وزرائے اعظم میں بٹا ہے جو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح آئے اور جاتے رہے ہمارے پیاروں عزیزوں نے مدینہ طیبہ کی طرز کی اسلامی ریاست کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اپنے گھروں کو چھوڑا، بڑوں کی قبروں کو الوداع کہا اور اپنے خوابوں کی سرزمین پر چلے آئے جن کا مقدس لہو سفر ہجرت میں رزق خاک بنا، آج انکی روحیں آسمان کے جھروکوں سے جھانک رہی ہیں اور پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر تڑپ رہی ہیںاور ہماری سیاست کا حال ہے طوائف تمائش بینوں میں گھری ہوئی جیسا ہے۔ جمہوریت کی گاڑی اگر پٹڑی پر چلنا شروع ہوتی ہے تو جمہوریت کی گردان پڑھنے والے سیاستدان ہی رہزن بن جاتے ہیں، وہ ملک جسے قائداعظمؒ نے اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کیلئے حاصل کیا تھا لیکن آج اس ملک میں نوجوان نسل کو نچایا جا رہا ہے۔ یاد رہے ناچ گانے کے ذریعے انقلاب نہیں سیلاب آتے ہیں۔ اسلام کی تجربہ گاہ والی ریاست میں اگر لوگوں کی مائوں بہنوں اور بیٹیوں کو سرعام ڈی چوک پر نچا کر انکے جذبات سے کھیلا جائے گا تو قائد کا خواب کیسے پورا ہو گا؟ قائداعظمؒ نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں 26 مارچ1948 کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ… ’’آزادی کا مطلب بے لگام ہو جانا نہیں ہے۔ آزادی کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں اور مملکت کے مفادات کو نظرانداز کرکے آپ جو چاہیں کر گزریں، آزادی حاصل کرنے کیلئے جنگ جویانہ جذبات اور جوش وخروش کا مظاہرہ آسان ہے اور ملک وملت کی تعبیر کہیں زیادہ مشکل ہے‘‘۔ لیکن آج ہمارے سیاست دان آزادی مارچ کا اعلان کرکے بے لگام ہو چکے ہیں۔ انکے دعوئوں سے یوں لگتا ہے کہ وہ قائداعظمؒ سے بڑے لیڈر ہیں اگر قائداعظم آج زندہ ہوتے تو یہ سیاست دان قائداعظم کیساتھ بھی ایسا ہی کرتے۔ قائداعظم کی ریذیڈنسی کیساتھ کیا ہوا ہے؟ دہشتگردوں نے موقع ملتے ہی اسے منہدم کر دیا۔ عمران خان اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس وقت ضد اور انا سے زیادہ عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہیں۔ اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ جمہوریت دشمن اور ملک دشمن عناصر یکجا ہو چکے ہیں۔ ہمارے سلامتی دائو پر لگ چکی ہے، ہمارے ائرپورٹ، پارلیمنٹ، مساجد، سکولز محفوظ نہیں۔ ہمارے ہی دستر خوان پر پلنے والے افغانی آج ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ سیاست دان قائداعظم کی روایات کو لے کر آگے چلیں تو ہم ایک مرتبہ پھر کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم ایٹمی طاقت بن چکے ہیں۔ معیشت مضبوط ہو چکی ہیں۔ صنعتیں قائم ہیں۔ شفاخانے، سکولز، کالجز، یونیورسٹیز، سیکرٹریٹ کام کر رہے ہیں۔ ماضی کی نسبت ہم نے بہت ترقی کی ہے اب ہم سب قائداعظم کے ملک کو مضبوط مستحکم خوشحال بنانے کیلئے ایک دوسرے کے گریبان نوچنے کی بجائے اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے حصے کا کام کریں کیونکہ دنیا کے کامیاب ترین انسان کے پاس بھی دن میں 1440 منٹ ہوتے ہیں اور ناکام ترین کے پاس بھی اتنا ہی وقت ہوتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ کامیاب لوگ اپنے وقت کو اصل مقاصد کے حصول کیلئے انوسٹمنٹ کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ انہیں نہایت چھوٹا، کم تر اور عارضی نوعیت کے کاموں میں ضائع کر رہے ہیں۔ قائداعظمؒ نے اپنے اسی وقت کو اچھے مقصد کیلئے استعمال کرکے ہم سب کو ایک ملک بنا کر دیا تھا جب کہ ہمارے آج کے رہبرو رہنما اس وقت کو اپنی ذاتیات پر خرچ کرکے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پہلے سے مشکلات میں گھرا پاکستان اب کسی نئے بحران، طوفان، ہیجان کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا خود پرست سیاستدان اپنے کرخت مطالبات میں لچک پیدا کرکے قائداعظم کے ملک کو مضبوط بنائیں۔