بے سبب۔ نظریۂ پاکستان سے دوری کی جانب!

بے سبب۔ نظریۂ پاکستان سے دوری کی جانب!

پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں مینارِ پاکستان اور اُس کے سائے میں علامہ اقبال کے مزار سے بہت ساری یادیں وابستہ ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح اور اُن کے بعد پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان تک تو ہمیں نظریۂ پاکستان یاد تھا۔ مگر سیکولر قیادت کی آمد کے ساتھ حالات بگڑتے چلے گئے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں سیاسی سیکولر قیادت منظر عام پر آئی تو پاکستان کے لئے خطرات پیدا ہوتے چلے گئے۔ الیکشن کے ایک برس بعد ہی پاکستان دولخت ہو گیا۔ اُس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے کہا کہ انہوں نے ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کو بحرا عرب میں غرق کر دیا ہے۔آنجہانی اندرا گاندھی کے دعوے سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ وہ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کے وجود، طاقت اور سحر سے آگاہ تھیں۔ تب ہی انہوں نے نظریۂ پاکستان پر اپنے غصے کا اظہار اِس انداز سے کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نظریۂ پاکستان کی اہمیت سے خود آگاہ نہیں تھے۔ یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ سیکولر سیاسی قیادت پَر پھیلاتی چلی گئی اور نظریۂ پاکستان کے حوالے سے شخصیات کے اثر و رسوخ اور قوم کے جذباتی لگائو کو ختم کرنے کی خاموش مہم کا آغاز ہو گیا۔ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا تعلق پنجاب کی ایک ریاست کرنال سے تھا۔ قائداعظم نے اپنے معتمد کو جو مہاجر تھے، فہم و فراست اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے پہلا وزیراعظم مقرر کیا۔ 16 اکتوبر 1951ء کو لیاقت علی خان راولپنڈی کے جلسۂ عام میں شہید کر دیئے گئے۔ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کوئی وجہ بتائے بغیر اِس تعطیل کو ختم کر دیا۔ قائد ملت کو بھلا دیا گیا۔ 21 اپریل کو مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال کی تعطیل ہوتی تھی۔ یہ اُن کا یومِ وفات تھا۔ اللہ جانے کس مصلحت اور حکمت کے تحت یہ تعطیل ختم کر دی گئی اور 9 نومبر علامہ کے یومِ پیدائش کی تعطیل کا آغاز ہو گیا۔ چلئے یہ بھی ٹھیک، مگر پھر یوں بھی ہوا اور حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ 9 نومبر کی اِس تعطیل کو ’’فرزندِ لاہور‘‘ جناب نواز شریف نے ختم کر دیا۔ کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اور تو اور جناب نواز شریف نے خود قائداعظم بانیٔ پاکستان کے یومِ وفات کی تعطیل پر بھی جو 11 ستمبر کو ہوتی تھی ہاتھ صاف کر دیا۔ گذشتہ برس صوبہ سندھ میں دیوالی کی عام تعطیل کی گئی۔ اِس سال اُس روز اتوار تھا۔
سوال تعطیلات کا نہیں ہے۔ اہلِ علم و فکر بخوبی آگاہ ہیں کہ تعطیلات کا مقصد اُن نامور شخصیات سے خصوصی وابستگی اور تعلق کا اظہار ہوتا ہے جو تاریخی طور پر قوم کو محبوب ہوتی ہیں۔ یوں بھی ہم کس قدر کام کرنے والی قوم ہیں، سب کو معلوم ہے۔ یہ الگ بحث ہے۔ اِس پس منظر میں حکومتی اقدامات کے اثرات بھی یقیناً مرتب ہوئے ہیں اور نظریۂ پاکستان کے حوالے سے دوری کی جانب سفر بلاضرورت شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ رائیونڈ میں اپنی ذاتی رہائش گاہ کو جناب نواز شریف نے ’’جاتی امرائ‘‘ کا نام دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب کہ حکومتی اقدامات سے پاکستان سے وابستہ شخصیات کی یادوں کو فراموش کرنے کا عمل جاری ہے۔ نظریۂ پاکستان کو فراموش کرنا ہمارے حق میں نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے دورے میں جناب نریندر مودی نے جو بھارت کے وزیراعظم ہیں، بنگلہ دیش کی وزیراعظم محترمہ حسینہ واجد کی موجودگی میں فرمایا کہ بھارت نے 1971ء میں چڑھائی کر کے بنگلہ دیش قائم کیا ہے۔ اِس حقیقت کے باوجود کہ بنگلہ دیش میں ظالمانہ انداز میں نظریۂ پاکستان کے علمبرداروں کو پھانسی پر لٹکایا جارہا ہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ تقسیم کا نظریۂ بحرا عرب میں غرق ہو گیا ہے تو یکساں زبان، کلچر، لباس اور ثقافت کے باوجود ’’بنگلہ دیش اور بھارت کا مشرقی بنگال‘‘ ایک ملک کیوں نہیں بن جاتا۔! اِس سوال میں ہی اُن سوالات کا جواب موجود ہے جو بھارت کی قیادت، نئی ہو یا پرانی اُٹھاتی رہی ہے۔ یہ تاریخی سوال ہے کہ نظریۂ پاکستان کیا ہے اور اُس کی حقیقت کیا ہے۔ آخر کیوں قائداعظم کی قیادت میں پاکستان قائم ہوا۔؟نظریۂ پاکستان کی بنیاد بلاشک و شبہ اسلام تھا۔ اِس کے مصور علامہ اقبال تھے اور سب سے بڑے علمبردار قائداعظم محمد علی جناح۔ 1947ء میں زبان، لباس، کلچر یکساں ہونے کے باوجود مشرقی بنگال اور مشرقی پنجاب کی علیحدگی اور بھارت میں شمولیت اِس حقیقت کا روشن اور بین ثبوت ہے۔
نظریۂ پاکستان روح ہے اور پاکستان، جسم۔ جسم کو روح سے علیحدہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ دورِ جدید اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کا شعور ضروری ہے۔ ہم اپنی ’’شناخت‘‘ سے غافل ہوں گے تو بربادی ہمارا نصیب بن جائے گی۔ ہمارے رہنما اُن حقائق کو نظرانداز کر رہے ہیں جو ہمارے دشمنوں کو یاد ہیں۔ ’’تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن‘‘۔