’’مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے امریکہ کی رخصتی‘‘

’’مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے امریکہ کی رخصتی‘‘

میں نے اپنی کتاب ’’پاکستان بقاء کی جنگ‘‘ (اشاعت 1/2011 اشاعت دوم 2014) کے صفحہ 109 میں لکھا تھا ’’وہ وقت دور نہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشرق وسطیٰ سے نکلنا پڑے گا‘‘ کتاب ہذا کے صفحہ 230 پر لکھا ہے ’’ستمبر 2012 میں چین کے اعلیٰ عہدیدار کے اہم دورہ کابل کے دوران بیجنگ نے افغانستان کے ساتھ سکیورٹی اور اقتصادی سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں۔ ان سمجھوتوں کو 2014 تک نیٹو فورسز کے انخلاء سے قبل چین کا افغانستان میں اثر و نفوذ بڑھانے کے مقصد کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ چین کے اندرونی سلامتی کے سربراہ ژوبانگ نے بھی 20 ستمبر کو کابل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مذاکرات کر کے باہمی تعاون کو مستحکم کیا۔ چین، روس، ایران اور پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان سے مکمل انخلاء کریں اور 2014 کے آخر تک تمام امریکی اور اتحادی افواج افغانستان سے نکل جائیں تو اسی صورت میں چین، روس، پاکستان اور ایران مل کر افغانستان میں امن اور استحکام کو یقینی بنائیں۔اس پس منظر کی روشنی میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے حالیہ دورہ انڈیا اور بعد ازاں صدر اوباما کی پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو اور اپنے دورہ انڈیا کے دوران پاکستان سے متعلقہ معاملات کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف کو آگاہ کرنا اور پھر انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کیساتھ روابط بڑھانا، جنوبی ایشیا کی بین الاقوامی سیاسی صورتحال میں پاکستان کے حق میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ اس تمام تبدیلی میں مشرق وسطیٰ اور افغانستان سے امریکی مفادات کی بیدخلی اور پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی معاشی سرمایہ کاری، پاکستان کی خطہ میں اقتصادی راہداری کی اہمیت اور اس راہداری سے اقوام عالم کی مستفیظ ہونے کی آرزو کا بڑا عمل دخل ہے۔ پاکستانی عوام کے ذہن کے گوشہ میں نقش ہے کہ امریکہ، جنوب ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ان داتا (گاڈ فادر) اور اب بھی واحد سپر پاور ہیں مگر حقیقت میں اب ایسا نہیں رہا۔ صدر جارج ڈبلیو بش کے آٹھ سالہ دور حکومت اور صدر باراک اوبامہ کا آٹھ سالہ (اگلے برس ختم ہونیوالا) دور میں امریکی جنگجو یا نہ اعمال نے امریکہ کی سیاسی اور معاشی طاقت کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کا مربی بن کر پاکستان کے عوام اور معیشت کو جس طرح لہو لہان کیا ہے اس تمام اتحادیوں کو ملا کر مشرق، مغرب اور جنوب سے پاکستان پر یلغار کے منصوبے بنائے اور پاکستان کے اندر قتل و غارتگری کو فروغ دیتا رہا مگر 13 برس کے طویل مدت اور تمام وسائل کو بروئے کار لا کر، پاکستان کو ختم نہیں کر سکے۔ آخری حربہ کے طور پر دھرنا بازی اور دیگر سازشوں کو فروغ دے کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ناکام رہا تو امریکی پالیسی سازوں نے طے کیا کہ اب پاکستان کیساتھ ڈپلومیسی کے ذریعے برابری کی بنیاد پر روابط کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی کو فروغ دینا چاہیے اور امریکی مفادات کو حاصل کیا جانا چاہیے انڈیا جو کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ کے ذریعے پاکستان سے اپنے مفادات کی تمنا کئے ہوئے تھے وہ بھی اب تنہا رہ گئے۔ انہیں بے شک امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہو، مگر وہ امریکہ کے ذریعے پاکستان سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ انڈیا کے سیکرٹری خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کو انڈین میڈیا نے سارک یاترا کہا ہے مگر حقیقت ہے کہ انڈیا کے سیکرٹری خارجہ، جے شنکر کے 3 مارچ 2015 کے دورہ پاکستان کے دوران ان پر واضع کر دیا گیا ہے کہ انڈیا، سارک کے کھاتے میں پاکستان سے اقتصادی راہداری حاصل نہیں کر سکتے نہ ہی امریکہ کی کوششوں سے انہیں راہداری سے مستفیظ ہونے کی سعادت حاصل ہوگی۔ کشمیر، سرکریک، سیاچن اور پانیوںکے معاملات طے کئے بغیر انڈیا کو مراعات ملنا ممکن نہیں۔ بے شک پوری دنیا کو اقتصادی راہداری سے مراعات دیئے جائیں پھر بھی انڈیا کی حیثیت دشمن ملک کی رہے گی اور دشمن ملک کیلئے باقی اقوام عالم سے متعلق اصول لاگو نہیں ہوتے۔ دشمن ملک کو مراعات نہ دینا پاکستان کا استحقاق ہے۔ پاکستان تب تک انڈیا کو مراعات نہیں دیگا جب تک پہلے کشمیر، سر کریک، سیاچن اور پانیوں کے مسائل حل نہیں کرتا۔انڈیا کے امرائ، صنعت کاروں اور تاجروں نے ملک کر نریندر مودی کو ملک کا وزیراعظم بنوایا کہ وہ انہیں پاکستان سے اقتصادی راہداری دلوائیں گے۔ مگر نریندر مودی انہیں ’’مشرق کے جانب دیکھنے‘‘ پر راغب کر رہے ہیں جبکہ مشرق میں جاپان، کوریا، آسٹریلیا، ویتنام، تھائی لینڈ، میانمار، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگا پور ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور وہ خود منڈیوں کی تلاش میں ہیں۔ مشرق کی ممالک انڈیا کی منڈیاں نہیں بن سکتیں۔ انڈیا کے صنعت کار اور تاجر وسط ایشیائی ممالک اور روس کی منڈیوں تک قلیل وقت میں تجارتی مال پہنچانے کے خواہشمند ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اپنی فیکٹریوں اور گوداموں سے مال کنٹینروں میں لاد کر ٹرکوں پر روانہ کریں تو پاکستان سے گذر کر اپنے منزل مقصود پر روس اور وسط ایشیائی ممالک تک بلا روک ٹوک جاتے رہیں۔ موجودہ صورتحال میں اقوام عالم پاکستان کے ساتھ براہ راست تعلق بڑھانے میں مصروف ہیں کہ انہیں اقتصادی راہداری مل جائے۔ کوئی بھی ملک انڈیا کو پاکستان سے اقتصادی راہداری نہیں دلا سکتا۔ چار و ناچار انڈیا کو اپنے لئے خود ہی راہ نکالنی ہوگی اور یہ راہ پاکستان کیساتھ کشیدہ معاملات، مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بعد ہی بن سکتا ہے۔سعودی عرب کے فرمان روا شاہ سلمان نے حکمران بنتے ہی ان تمام فتنوں اور مملکت سعودیہ کو لاحق خطرات کا ادراک کیا ہے اور انکے ازالہ کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم کو بھی دعوت دی ہے اور بذات خود ولی عہد کے ہمراہ وزیراعظم نواز شریف کا استقبال کیا ہے۔ انکی یہ کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پھیلی ہوئی آگ کو کیسے ٹھنڈا کیا جائے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ قدیمی دوستانہ تعلقات کے علاوہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں اور اس بناء پر بھی ایرانی اور پاکستانی عوام میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے تو دونوں برادر پڑوسی اسلامی ممالک کا باہمی گہرے تعلقات لازم بن جاتے ہیں ایران کے ساتھ سعودی عرب کے بہتر تعلقات لازم بن جاتے ہیں ایران کے ساتھ سعودی عرب کے بہتر تعلقات استوار کرنے میں اگر کوئی ملک مدد گار و معاون ہوتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے اس بناء پر سعودی حکمران نے پاکستان کے وزیراعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف سے رجوع کیا ہے۔ جنوب ایشیا سے امریکہ رخصت ہو رہے ہیں (ماسوائے انڈیا) اور افغانستان میں امن کی بحالی میں چین اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان اگر ایران کیساتھ تعلقات خوشگوار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ایران کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگ و جدل کی آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہونگے۔ اسی صورت میں امریکہ بحر حال مشرق و سطیٰ سے رخصت ہوگا۔