ڈاکٹر اجمل نیازی اور میری رفاقت کے 47 برس

کالم نگار  |  تنویر ظہور
ڈاکٹر اجمل نیازی اور میری رفاقت کے 47 برس

ڈاکٹر اجمل نیازی سے میری دوستی کی ابتدا 1968ء میں ہوئی جب وہ ’’ڈاکٹر‘‘ نہیں تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے (اردو) اور میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں بی اے کا سٹوڈنٹ تھا۔ ان کی اور میری بعض عادات و اطوار ایک ہیں یہاں تک کہ پیدائش کا سن بھی ایک ہے یعنی 1947ء 2015--ء میں ڈاکٹر اجمل نیازی سے میری رفاقت کو 47 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ڈاکٹر اجمل نیازی گورنمنٹ کالج لاہور کے میگزین ’’راوی‘‘ اور میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کے میگزین ’’فاران‘‘ کا ایڈیٹر تھا۔ اس بنا پر میری تحریریں اور شاعری ’’راوی‘‘ میں اور انکی تحریریں اور شاعری ’’فاران‘‘ میں شائع ہوتی رہی۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کی پنجابی مجلس اور میں اسلامیہ کالج سول لائنز کی پنجابی مجلس کا سیکرٹری تھا۔ یوں ہم دونوں کی اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان و ادب سے وابستگی بھی اسی دور میں شروع ہو گئی۔ مگر انکی گورنمنٹ کالج لاہور میں کئی اور جہتیں تھیں۔ وہ ’’پطرس‘‘ بزم نذیر اور مجلس اقبال کے سیکرٹری رہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کی طرف سے 1969ء میں انہیں سب سے بڑا اعزاز رول آف آنر دیا گیا اور اسی سال انہوں نے ایم اے کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے صد سالہ جشن کے موقع پر ڈاکٹر اجمل نیازی یہاں طالب علم تھے۔ ایک سو پچیسویں سال تاسیس کے وقت وہ اس کالج میں استاد تھے۔ڈاکٹر اجمل نیازی منفرد لہجے کے شاعر اور ادیب ہیں۔ انکے شعر اور نثر کا آہنگ ملتا جلتا ہے۔ انکی نثر بھی شاعری ہوتی ہے۔ وہ لفظوں سے کھیلتے ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی جب گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علم تھے تو ڈاکٹر سید نذیر احمد پرنسپل تھے جو درویشی کی معراج پر تھے۔ اساتذہ میں ڈاکٹر اجمل‘ ڈاکٹر سلطان‘ پروفیسر منور‘ پروفیسر نواز‘ ڈاکٹر خیال‘ جیلانی کامران‘ قیوم نظر‘ صابر لودھی اور کئی دوسرے صاحبان تھے۔ تب استاد اور طالب علم کے درمیان ایک سچا اور زندہ رشتہ استوار تھا۔ کالج کے دور میں ڈاکٹر اجمل نیازی کے ساتھیوں میں غضنفر علی گل‘ سلیم گیلانی‘ سعادت اللہ خان‘ سرمد صہبائی‘ اشرف عظیم‘ آفتاب احمد شاہ‘ ظہور الحق شیخ‘ شاہد محمود ندیم اور ممتاز اقبال ملک بعدازاں معروف اور اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے 125 سالہ جشن کے موقع پر ڈاکٹر اجمل نیازی نے مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’’روایت‘ محبت اور عظمت کا دائرہ‘‘ یہ مضمون ’’راوی‘‘ میں شائع ہوا۔1992ء میں ڈاکٹر اجمل نیازی کا میں نے انٹرویو کیا تو ان سے ایک سوال یہ کیا کہ اگر آپ کی شادی کسی شاعرہ سے ہوئی ہوتی تو کیا ہوتا۔
ڈاکٹر اجمل نیازی کا جواب یہ تھا ’’پیدائش‘ شادی اور موت کے حوالے سے ’’اگر‘‘ کا لفظ بے معنی ہے۔ یہ واقعات بس ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں شادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے زیادہ مضبوط بندھن کوئی نہیں اور یہ کمزور ترین بندھن بھی ہے۔ اس ضمن میں بڑے بڑے لطیفے بنے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ شادی ایک ایسا قلعہ ہے کہ جو لوگ اندر ہیں وہ باہر آنا چاہتے ہیں اور جو باہر ہیں وہ اندر جانا چاہتے ہیں۔ میری یادوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ میں نے کسی شاعرہ کیساتھ شادی کا سوچا ہو۔ البتہ ایک آدھ نثر لکھنے والی خاتون ایسی ہے کہ جس سے مل کر محسوس ہوتا ہے کہ اسکی تحریریں کچھ عرصے پہلے پڑھی ہوتیں تو شاید ایسا خیال دل میں پیدا ہوتا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جس کیلئے میرے دل میں سب سے بڑا جذبہ بیدار ہوا‘ اس سے بھی شادی کا خیال دل میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ میری بیوی رفعت نے اپنی ذات کے اندر بڑی قربانیاں دی ہیں اور مجھے اسکا احساس ہے۔ڈاکٹر اجمل نیازی کو سانولا رنگ پسند ہے۔ انکے خیال میں جب حیا کی سرخی لہراتی ہے تو پوری دنیا اس رنگ میں رنگی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انکی ایک دوست نے نیلے رنگ کے کپڑے پہنے تو ڈاکٹر اجمل نیازی کو محسوس ہوا جیسے پوری فضا میں نیلاہٹ لہرانے لگی تھیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی ایک زمانے میں عملی تصوف کی واردات سے بھی گزرے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص صوفی ہوتا ہے یا اسے صوفی ہونا چاہئے۔ جب کوئی دل کا کہا مانے گا تو صوفیانہ عمل ہی کرے گا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کے دادا کہا کرتے تھے کہ دوست اصل جائیداد ہیں۔ غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں۔ ڈاکٹراجمل نیازی کو کوئی محبت سے دیکھ لے تو اس کو دوست سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن کیلئے ادبی دنیا میں قربانیاں دیں اور جن کیلئے مصیبتیں جھیلیں وہی لوگ خود غرض نکلے تو دکھ سا ہوا مگر ایک مقام زندگی میں آتا ہے کہ جب دکھ اور سکھ گھل مل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے میرے اردو شعری مجموعے اور بعض نثری کتابوں کے فلیپ لکھے۔ 2002ء میں میرا اردو شعری مجموعہ ’’آنکھ‘ حسن اور خوشبو‘‘ شائع ہوا۔ اس شعری مجموعے کا فلیپ ڈاکٹر اجمل نیازی نے لکھا۔ چند جملے پیش ہیں۔ ’’تنویر ظہور اپنی اصل میں پنجابی ہے اور اس نے پنجابی زبان و ادب اور پنچایت کے فروغ کے لئے اپنی ساری عمر لگا دی ہے… تنویر ظہور ایک سچا لاہوری ہے۔ ملنگ آدمی ہے۔ اسے مجذوب بھی کہا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی دانش اور عقل و فکر کے اعتبار سے بہت معتبر آدمی ہے مگر اتنا ہی بے نیاز ہے۔ اسکے ساتھ میری برس ہا برس کی رفاقت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ وہ دوست آدمی ہے اور ہمیشہ اپنی لگن میں مگن رہتا ہے۔ وہ ایک رومانٹک آدمی ہے۔ رومانٹک آدمی ہی انقلابی ہوتا ہے۔ تنویر ظہور خواہشوں سے بھرا ہوا ایک گہرا اور سچا آدمی ہے۔ میں نے اس کی زندگی کو بھی دیکھا ہے اور اسکی شاعری کو بھی پڑھا ہے۔ اسکے ساتھ میری محبت میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ مجھے جب کسی پکے لاہوری کو دیکھنا ہوتا ہے تو میں تنویر ظہور کو ضرور ملتا ہوں‘‘ ڈاکٹر اجمل نیازی میرے بارے میں کلمہ خیر لکھنے اور بولنے کیلئے کوئی نہ کوئی موقع تلاش کر لیتے ہیں۔ان پر لکھنے کا موقع میرے ایک دوست گوجرانوالہ کے صدام ساگر انصاری نے فراہم کیا جو اپنے رسالے ’’نوائے ادب‘‘ کا ڈاکٹر اجمل نیازی نمبر 6 شائع کرنا چاہتے ہیں۔