پارلیمانی نظام ہی کیوں ؟

کالم نگار  |  ایم۔ اے سلہری
 پارلیمانی نظام ہی کیوں ؟

ہمارے ہاں جمہوریت کا مطلب پارلیمانی نظام ہی لیا جاتا ہے۔حالانکہ پارلیمانی نظام حکومت میں جمہور کو مرکزی یا صوبائی سطح پر اپنا ریاستی یا حکومتی سربراہ تو دور کی بات ہے کوئی وزیر یا گورنر بھی براہ راست منتخب کرنے کا موقع نہیں ملتا۔عوام صرف مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کا چنائو کر کے فارغ ہو جاتے ہیںاور باقی ساری ذمہ داریاں خود بخود ان اراکین کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں۔وہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی شکل میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے سربراہان کا انتخاب کرنے کے علاوہ سپیکراور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کرتے ہیں۔وہی سینٹ کے اراکین کا انتخاب کرتے ہیں۔ کابینہ کے وزیر بھی اسمبلی یا سینٹ سے ہی لئے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہی اراکین ایک بے اختیار صدر کا انتخاب کرتے ہیںاور یہی قانون سازی بھی کرتے ہیں۔ یہی آئین میں ترمیم کرتے ہیں۔ یہی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کی حیثیت سے ججوں کے تقرر میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ ان سب کی تنخواہوں کے علاوہ اپنی تنخواہوں کا تعیّن بھی خود کرتے ہیں۔ یہ اسمبلی کے اجلاس میں آئیں یا نہ آئیں حلقوں کے ترقیاتی فنڈز ان کے ذریعے ہی استعمال ہوتے ہیں۔ ضلعی پولیس اور انتظامی افسروں کی تقرریوں اور تبادلوں کا کام بھی بہت حد تک عملاً ان کے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے۔یہ امیر ترین ہونے کے باوجود قرضوں تلے دبے غریب ملک کے خزانے سے تنخواہ کے علاوہ پرکشش مراعات بھی لیتے ہے مگر ان کے لئے اپنا بزنس کرنا ممنوع نہیں۔ یوں ایک ایم این اے اور ایم پی اے منتخب کرنے کے بعد ہر چیز عوام کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے اور یہ اراکین اسمبلی جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم ایسے نظام کو ہی جمہوریت کی سند سمجھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں موروثیت بہت بڑا فیکٹر ہے ۔یہاں رکن اسمبلی منتخب ہونے کیلئے امیدوار کا پیسے اور ڈنڈے کے لحاظ سے طاقتور ہونا ضروری ہے۔ دعوے بھلے جو مرضی کرے مگر درحقیت اس کا عوام دوست ہونا یا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں۔ الیکشن میں امیدوار کو کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں ۔اس کا کیا سدّباب ہے۔ عوام کیلئے روزگارکے علاوہ ترقی کیلئے سازگار ماحول اور انصاف کے مواقع یقینی بنا کر کوئی حکومت عوام کی واقعی خدمت کرسکتی ہے اور یہ مواقع صرف قانون سازی سے پیدا کئے جا سکتے ہیں مگر ہماری مجلس قانون ساز کے اراکین اپنی کثیرالجہتی مصروفیات کی وجہ سے عوام کیلئے بہترقانون سازی جیسی اصل ذمہ داری سے کیسے انصاف کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی خوشنودی تک اپنے عہدوں پر رہ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ متعلقہ ممبران اسمبلی پر کیا چیک اینڈ بیلنس رکھ سکتے ہیں۔ اس نظام میں رکن اسمبلی منتخب ہونے کیلئے حلقہ کے رجسٹرڈ ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنا ضروری نہیں ۔ ڈالے گئے ووٹوں کی اکثریت بھی ضروری نہیں۔ حتیٰ کہ ٹوٹل ٹرن آوٹ بھی رجسٹرڈ ووٹوں کا اکاون فیصد ہونا ضروری نہیں۔ امیدوار صرف مد مقابل سے ایک ووٹ زائد حاصل کر کے منتخب ہو سکتا ہے۔ یوں اس نظام میں اکثریت پر اقلیت کی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ جو کسی بھی لحاظ سے جمہوریت ہے نہ انصاف۔ سمجھ سے باہر ہے کہ اس کے باوجود ہم محض پارلیمانی نظام میں ہی کیوں جمہوریت کے متلاشی بن کر رہ گئے ہیں۔کیا جمہوریت میں صدارتی نظام کی گنجائش نہیں؟ ہم نے صدارتی نظام کو ہمیشہ آمریت سے کیوں جوڑ رکھا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں صدارتی نظام کا جب بھی تجربہ کیا گیا کسی فوجی جرنیل نے کیا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدارتی نظام جمہوریت کی نفی ہے۔صدارتی نظام میں عوام کو براہ راست اپنے ووٹ سے اپنے صدر کے انتخاب کا موقع ملتا ہے۔ قوم کا یہ براہ راست منتخب نمائندہ با اختیار بھی ہوتا ہے۔ کابینہ میں قابل، دیانتدار اور ماہر لوگوں کی خدمات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیروں کی فوج ظفر موج کی ضرورت نہیں ہوتی۔خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑتا ہے۔ایک نظم و ضبط کا ماحول ہوتا ہے۔ صدر کو اعتماد سے مستقبل کی منصوبہ سازی کیلئے کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اسے بلا وجہ حکومت گرنے کا خدشہ نہیں ہوتا۔ حکومت کی رٹ نظر آتی ہے۔ معاملات کے سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں۔ہر کام میں سیاسی دھینگا مشتی نہیں ہوتی۔ ادارے اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ صرف قانون سازی پر توجہ دیتی ہے۔عدلیہ اپنا کام آزادی سے کرتی ہے۔ صدر پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے جبکہ عدلیہ کے پاس ’’عدالتی نظرثانی‘‘ کا اختیار ہوتا ہے اور یوں پارلیمنٹ اور عدلیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہوئے حکومتی نظام میں چیک اینڈ بیلنس کا کردار بھی ادا کرتے ہیں ۔ترقیاتی کام کرنے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ بلدیاتی الیکشن بھی تسلسل سے ہوتے ہیں۔اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمشن کی سفارش پر ہی ہوتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔جو ضلعی پولیس کے نگران کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اور یوں جہاں پولیس کے ادارے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے امکانات کم ہوجاتے ہیں وہاں حکومت پر عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو وطن عزیز کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کم سے کم سیاست اور زیادہ سے زیادہ نظم و ضبط ،انصاف اور سیکورٹی یقینی ہو۔کیونکہ جس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن پورے کر رہی ہو وہاں سیاسی شعبدہ بازیوں کی نہیں، روزی روٹی کمانے کے مواقع مہیّا کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ جو غریب اپنے بچوں کی روزی کمانے کیلئے گھر سے باہر نکلتا ہے اسے نہ صرف اپنی سیکورٹی کے خد شات درپیش رہتے ہیں بلکہ اپنے گھر اور اہل وعیال کی سلامتی کی فکر بھی دامن گیر رہتی ہے۔اور ان خدشات سے بے فکری بہتر حکومتی نظام کے بغیر ممکن نہیں۔ بہتر حکومتی نظام سیاسی پولرائزیشن میں کمی کے بغیر ممکن نہیںاور مروجہ پارلیمانی نظام میںسیاسی پولرائزیشن میںکمی کے امکانا ت ہر گز روشن نظر نہیںآرہے۔جبکہ ملک و قوم اس صورتحال کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا وقت آچکا ہے کہ ملک و قوم ہماری اوّلین ترجیح ہو۔ صدارتی نظام کی زیادہ سے زیادہ خامی یہ ہوتی ہے کہ صدر کہیں ڈکٹیٹر نہ بن بیٹھے۔ اگر پارلیمنٹ ربرسٹمپ نہ ہو بلکہ اپنے پائوں پر کھڑی ہو اور عدلیہ آزاد ہو تو صدر کبھی ڈکٹیٹر نہیں بن سکتا۔ اور اگر یہ دونوں ادارے اپنا کام آزادانہ اور منصفانہ طور پر کرنے میں ناکام رہیں تو پارلیمانی نظام میں بھی جمہوریت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ تب بھی در حقیقت آمریت ہی قائم رہتی ہے۔ مفید اور فعال جمہوریت وہ ہے جہاں پالیسی واضح اور فیصلے جلد ہوں مگر چیک اینڈ بیلنس کا نظام اسقدر مضبوط ہو کہ کوئی حکمران قوم کے مفاد کو نظر انداز کر کے من مانی کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔