سینٹ کے نئے ارکان سے عوام کی توقعات

کالم نگار  |  ادیب جاودانی
سینٹ کے نئے ارکان سے عوام کی توقعات

ایوان بالا یعنی سینٹ کی 52 نشتوں میں سے 48 نشستوں کے انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اور وفاقی دارالحکو مت اسلام آباد کی تمام نشستوں پرکامیابی حاصل کر لی ہے۔ سینٹ کے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پارلیمانی نشستوں کی تعداد کے تناسب سے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہو گئی ہے۔ جن میں نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے والی تحریک انصاف بھی شامل ہے۔ ایوانِ بالا یعنی سینٹ پاکستان میں پارلیمان کے تسلسل اور وفاق کی علامت ہے اس لیے ہر تین سال بعد نصف ارکان کا انتخاب ہوتا ہے۔ عام انتخابات کے نتائج کے مطابق سینٹ میں بھی پارٹی پوزیشن میں اتار چڑھائو ہوتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کی وجہ سے سینٹ انتخابات کو عوامی اہمیت بھی حاصل ہو گئی تھی ورنہ سیاسی جماعتوں کی نشستوں کے حساب سے نتائج کا پہلے سے علم ہوتا ہے۔ سینٹ کے انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ کی وجہ سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بائیسویں آئینی ترمیم کی تجویز پیش کی ، لیکن خود حکومتی جماعتوں کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے اس تجویز پر عمل نہیں ہو سکا۔ اس عمل نے پاکستان کے سیاسی نظام میں موجود خرابیوں بالخصوص دولت کے استعمال کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا تھا۔ انتخابات میں پیسے کے استعمال کے بارے میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں کے سخت انتباہ کے بعد ذرائع ابلاغ نے بھی اس مسئلے کو نمایاں کیا۔ جس کی وجہ سے سینٹ کے انتخاب کی معمول کی سرگرمی بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی تھی۔ سیاسی رہنمائوں کے شور اور ذرائع ابلاغ کی نظر کے باوجود یہ مسئلہ موجود تھا۔ جس کے اثرات خیبر پی کے اور بلوچستان میں نظر آئے۔ خیبر پی کے میں پولنگ میں تعطل پیش آیا، اس مرتبہ واحد آزاد امیدوار کا انتخاب بلوچستان سے ہوا ہے جبکہ آخری مرحلے پر صدارتی آرڈیننس راتوں رات نافذ ہونے کی وجہ سے فاٹا کے الیکشن نہ ہو سکے اس لیے ابھی تک ایوان مکمل نہیں ہے اور جس کا اثر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پر پڑے گا۔ پنجاب اور قومی اسمبلی کی ساری نشستیں جیت لینے کے باوجود ابھی بھی مسلم لیگ (ن) کو سب سے بڑی جماعت کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں ابھی بھی 2 عدد کی برتری حاصل ہے۔ گزشتہ سینٹ کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کی موجودہ الیکشن میں نمایاں کامیابی نظر آئی۔ مسلم لیگ (ن) کی ایوان بالا میں صرف سولہ نشستیں تھیں، جن میں سے آٹھ ارکان ریٹائر ہو گئے تو اس کے ارکان کی تعداد صرف آٹھ رہ گئی، لیکن گزشتہ روز کے انتخابات میں اسکے سب سے زیادہ سینٹر منتخب ہوئے۔ اٹھارہ نئے ارکان کے ساتھ سینٹ میں اب مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی کل تعداد چھبیس ہو گئی ہے، جبکہ فاٹا کے چار ارکان کے انتخاب کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ فاٹا کی روایات کے مطابق وہاں پر وفاق میں بڑی پارٹی کے مطابق سینٹ کے لیے بھی ارکان منتخب ہوئے ہیں۔ اس بنا پر توقع کی جا رہی تھی کہ نئے ایوان بالا میں مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ گزشتہ سینٹ میں پیپلز پارٹی کے چالیس ارکان تھے، جن میں سے اکیس ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ اس نے صرف آٹھ نئے افراد ایوان بالا میں پہنچائے ہیں۔ اس طرح سینٹ میں پیپلز پارٹی کے اب کل 27 ارکان ہوں گے۔ ایم کیو ایم نے اپنی سودے بازی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ سات سینٹرز کے مقابلے میں اس بار اپنے آٹھ ارکان کے ذریعے سینٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان عوامی نیشنل پارٹی کو پہنچا ہے۔ جس کے بارہ کے بجائے صرف سات ارکان سینٹ میں موجود ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام کی بھی موجود سینٹ میں ایک نشست کم ہو گئی ہے۔ فی الوقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی نشستیں تقریباً برابر ہونے کی وجہ سے اگلا مرحلہ مزید مشکل نظر آتا ہے، جو سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے ہو گا۔ دونوں جماعتیں پچھلے پونے سات سال سے بعض اختلافات کے باوجود مفاہمت کی جس پالیسی کے تحت ایک دوسرے کو برداشت کر رہی ہیں، اس کے پیش نظر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدے بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) آپس میں بانٹ لیں گی۔
فی الحال تو مسلم لیگ نے حاصل بزنجو کو چیئرمین سینٹ نامزد کر دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے روبینہ خالد کو ڈپٹی چیئرمین نامزد کر دیا ہے اور چیئرمین کے لئے فاروق نائیک، اعتزاز احسن، رحمان ملک اور رضا ربانی کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی آمنے سامنے آ چکی ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق بالآخر دونوں پارٹیاں باہمی تعاون سے ہی سینٹ کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کریں گی۔ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں مفاہمت نہ ہوئی تو پھر گھمسان کا رن پڑے گا۔
قارئین کرام! جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی سینٹ کے رکن منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کی کامیابی کو اس لحاظ سے تاریخی قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ واحد سینٹر ہوں گے، جو مال و دولت نہ رکھنے کے باجود محض اپنی کارکردگی کی بنیاد پر سینٹ میں پہنچے ہیں۔ وہ اس بات کو فخریہ بیان کرتے ہیں کہ ایک چرواہے کا بیٹا ہونے کے باوجود جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت کے امیر اور اب سینٹر بھی ہیں۔ عالمی بینک اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار معاشی امور میں ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ اگر پاکستان کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے ذریعے ہر قسم کی دھونس ، دھاندلی اور دولت کی ریل پیل سے پاک صاف و شفاف انتخابات کا طریقہ رائج ہو جائے تو سراج الحق جیسے کئی دیانت دار ، صاحب کردار اور باصلاحیت لوگ اسمبلیوں اور سینٹ میں پہنچ کر عوام کی قسمت بدلنے میں اہم کردار ادا سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں سینٹ کے انتخابات جیسے بھی ہو گئے اور جو لوگ بھی سینٹرز بن کر ایوان بالا میں پہنچ رہے ہیں، عوام انہیں مبارکباد دیتے ہوئے ان سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ خدارا اب تو ملک و قوم کی تقدیر بدلنے میں کوئی تاریخی کردار ادا کر جائیں۔