رضا ربانی نیا چیئرمین سینٹ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
رضا ربانی نیا چیئرمین سینٹ

پاکستان اور بھارت نے برطانیہ سے جمہوریت کا تصور لے کر اپنایا۔برطانیہ میں ایک سیٹ کی اکثریت سے بھی حکومت بنتی اور اپنی مدت پوری کرلیتی ہے۔ وہاں پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد اگلے الیکشن تک بغیر کسی رد و بدل کے یکساں رہتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایک سیٹ کی اکثریت سے حکومت بنی اس نے آئینی مدت بھی پوری کی ۔یہ مدت تین وزراء اعظم نے مل کر پوری کی۔ بالترتیب ظفراللہ جمالی، چودھری شجاعت اور شوکت عزیز وزیر اعظم بنے۔ شوکت عزیز کو دونوں سے بڑھ کر ووٹ ملے۔ ظفر اللہ جمالی ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیر اعظم بنے۔
ہمارے معزز اور فاضل ارکان پارلیمنٹ سیاسی وابستگی تبدیل کرنے میں اپنی مثال آپ اور اسے کار خیر سمجھتے ہیں۔ ضیاء الحق دور میں وزیر اعظم جونیجو کی حکومت کیلئے ایک مختصر سی اپوزیشن تھی حاجی سیف اللہ اسکے روح رواں تھے۔ وہ حکومت کو مشکلات میں ڈالے رکھتے تھے۔ پھر اچانک انکے دل میں حکومت کیلئے نرم گوشہ پیدا ہوا اور انکے سر پر وزارت کا تاج سجا دیا گیا۔ میانوالی کے شیر افگن خان نیازی 2002ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ حلف برداری کیلئے قومی اسمبلی میں داخل ہونے لگے تو ’’آمریت مردہ باد‘‘ کا نعرہ مستانہ بلند کیا۔ کچھ عرصہ بعد مشرف زندہ باد کہتے نظر آئے۔ شیرا فگن دنیا فانی سے کوچ کر گئے وہ پارٹیاں بدلنے والوں کیلئے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایک پارٹی کے ٹکٹ سے جیت کر دوسری پارٹی جائن کرنے کی حوصلہ شکنی کیلئے18 ویں ترمیم لائی گئی ۔ اسکے مطابق رکنِ پارلیمنٹ پارٹی سربراہ کی ہدایت و حکم پر ووٹ دینے کا پابند ہے۔ اس پر اعتراض اس لئے نہیں ہونا چاہیے کہ امیدوار کو اس کا علم ہے پھر بھی وہ ٹکٹ کیلئے رشوت کے طور پر پارٹی فنڈ سمیت ہر کلیہ اور فارمولہ استعمال کرتا ہے۔انٹرویو کیلئے گھنٹوں گیٹ پر کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔ عزت نفس، خودداری اور وقارتو یہیں پر خاک میں مل جاتاہے۔ اندر جا کر مٹی کا مادھو بنے رہنے کی قسم سے پارٹی قائد کو مائل بہ کرم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ غیرت اور حمیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ خود کوکسی کی غلامی میں دے ہی نہ اگر دیا تو اصول کی پابندی کرے۔ کامیابی کے بعدپارٹی پالیسی سے انحراف کی آئینی طور گنجائش نہیں رہتی پھر بھی کچھ ارکان ٹیڑھی چال چلتے نظر آتے ہیں۔عموماً کسی اصول کی خاطر اور ضمیر کی آواز پر نہیں، محض عہدے کے لالچ اور ذاتی مفاد کی تکمیل کیلئے۔ 5 مارچ کو سینٹ الیکشن ہوئے ان میں مسلم لیگ ن کے کئی امیدوار بِک گئے۔ انکی پارٹی قیادت کو تلاش ہے۔ تحریک انصاف کے بھی کئی امیدوار بھٹکنے کے بعد سنبھلے تاہم ایک باغی ہو گیا۔ جاوید نسیم کو تحریک انصاف نے ان کیخلاف ریفرنس بھجوایا ہے،جاوید نسیم کہتے ہیں کہ وہ قانونی جنگ لڑیں گے،گویا وہ امید رکھتے ہیں کہ لڑھکنے کے عمل کو جائز قرار دلا لیں گے۔ مسلم لیگ ن نے خیبر پی کے سے اپنے رکن اسمبلی وجیہہ الزمان کو پارٹی سے نکال دیا۔ وجیہہ الزمان نے سینٹ انتخابات میں سرمایہ دار آزاد امیدوار وقار خان کو تجویز کیا تھا۔ مسلم لیگ ن نے یہی کلیہ جان جمالی پر لاگو نہیں کیا جنہوں نے اختر مینگل کی پارٹی کے امیدوارکو ووٹ دیا۔
 منتخب ہونے کے بعد ہر پارٹی کے ارکان پھسلتے دیکھے ہیں۔ یونیفیکیشن بلاک کی بات کی جائے تو پیپلز پارٹی کے تو پنجاب اسمبلی میں 50 کے قریب ارکان لڑھک کر ن لیگ کے دستر خوان پر نائو نوش کرتے پائے گئے۔ کبھی نہیں سناکہ متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی ایم این اے، ایم پی اے یا سینٹر پارٹی پالیسی سے ذرا بھی ادھر اُدھر ہوا ہو۔ متحدہ کا ڈسپلن ہی اتنا ٹائٹ ہے کہ اسکے کونسلر سے سینٹر تک ارکان خواب میں بھی پارٹی سے بے وفائی کا سوچ سکیں۔ جو ایسا کرتا ہے ایک بار ہی کرتا ہے پھر اسکے قابل ہی نہیں رہتا البتہ جس پر ترس آ جائے اسے مصطفی کمال کی طرح ملک بدر ہونے کی رعایت دے دی جاتی ہے۔
ایوان بالا میں بڑے اصول پرست بھی آئے جو ووٹ اور ضمیر خرید کر آئے وہ ہر لمحہ بکنے اور ضمیر فروشی پر مائل ہوتے ہیں۔ پانچ مارچ سے قبل وہ ارکان کی بولی لگاتے تھے اسکے بعد انکی بولی لگتی رہی۔ ن لیگ نے کھوتوں کی تلاش میں اپنے گھوڑے دوڑا دیئے ۔ سینٹ میں اپنی اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کی پوری کوشش کی مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اس مکدر فضاء میں جو صورت حال سامنے آ رہی تھی اس کا تجزیہ برادرم دلاور چودھری نے کیا ہے۔ جس سے صورت حال واضح ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کیمپ میں ممکنہ طور پر57 سینٹرز تھے اور ن لیگ کی حمایت 36 سے نہ بڑھ سکی۔
اصولی طور پر پیپلز پارٹی کی اکثریت کو دیکھ کر مسلم لیگ ن کو اچھل کود اور بھاگ دوڑ نہیں کرنی چاہیے تھی مگر وہ آخری حد تک گئی انگو ر کھٹے دیکھ کر اپوزیشن کے امیدوار رضا ربانی کے پر اتفاق کرلیا۔ رضا ربانی چیئرمین سینٹ کیلئے مناسب شخص ہیں لیکن ان سے آپ پاکستانیت اور عظیم تر حب الوطنی کی توقع نہ رکھیں۔ یہ زرداری صاحب کے وفا دار ہیں جنہوں نے پارٹی وفاداری کو ضمیر کی آواز اور آئین و قانون کی روح پر ترجیح دینے کا خود اعتراف کیا ۔ بہرحال متفقہ چیئرمین کے انتخاب سے پاکستان کی سیاست میں بڑھتی کشیدگی میں کمی واقع ہوگی۔یہ صورتحال کچھ لوگوں کیلئے تکلیف دہ ہے ۔ سینٹ الیکشن میں سب سے بڑا معرکہ مولانا فضل الرحمن نے مارا۔ انکے برادر خورد عطاء الرحمن 2013ء میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے۔ان کو پارٹی الیکشن میں بھی جے یو آئی کے لوگوں نے مسترد کر دیا۔ سینٹ کی سیٹ مکمل طور پر مولانا فضل الرحمن کی مٹھی میں تھی جو انہوں نے اپنے بھائی کو تھما دی۔ مولانا اپنے بھائی کو ڈپٹی چیئرمین یا عبدالغفور حیدری کو وفاقی وزیر مذہبی امور بنوانا چاہتے تھے۔کبھی زرداری کے ہاں تو کبھی نواز شریف کے یاں،اپنے فیصلہ کن ووٹ شو کراتے رہے۔ سیاست میں اگراصولوں کو جگہ دے دی جائے تو ہارس ٹریڈنگ سمیت بہت سی قباحتوں اور منافقتوں کا خاتمہ ممکن ہے۔