انسان اور شیطان

کالم نگار  |  نواز خان میرانی
انسان اور شیطان

ہم اکثربعض شرارتی اور نٹ کھٹ بچوں کو پیار سے شیطان کیوں کہتے ہیں اور یہ فقرہ تنگ آنے کی صورت میں ظالم لوگوں کیلئے بھی استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلاں انسان بہت بڑا شیطان ہے۔ شیطان کو ابلیس کہا جاتا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے انتہائی مایوس۔ اس سے مراد شیطان ہے۔ مگر کیا مایوس اور توکل سے خالی اور تقویٰ سے عاری انسان مجرد اس زمرے میں آکر ’’مجرد سب سے اعلیٰ جس کا لڑکا نہ بالا، اور مجرد سب سے اعلیٰ جس سے سُسر نہ سالا‘‘ یہ ایک الگ لمبی اور طویل تکرار ہے۔ ہمارا مقصد و مدعا محض شیطان و ابلیس اور ظالم و مظلوم پہ بحث کرنا ہے۔ ہر ظالم شخص بھی حق تلف ہوتا ہے۔ ظالم شخص بھی شیطان کا چیلا ہوتا ہے، کیونکہ وہ خدا کا حق تلف کرتا ہے۔ دوسرے تمام چیزوں کے حقوق جن کو اس نے نافرمانی کیلئے استعمال کیا اور تیسرے خود اس کا اپنا حق کیونکہ اسکی ذات کا حق یہ ہے کہ وہ اسے تباہی سے بچائے۔ اسی لئے ارشاد ربانی ہے کہ ظالم گنہگار اور گناہ ظلم ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک مسلمان، جس کی اپنی شان اور اپنی ایک منفرد پہچان ہوتی ہے۔ آخر کیوں احکامات ربانی اور شریعت محمدیہ جیسے رہنما فرمان و اصول کو ذاتی منفعت کی خاطر بھول جاتا ہے۔ اس کی وضاحت علامہ اقبالؒ اس طرح سے کرتے ہیں کہ ابلیس اپنے سیاسی فرزندوں کے نام اپنا فرمان اس طرح سے جاری کرتا ہے…؎
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو!
فکر عرب کودے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو!
موجودہ دور میں امت مسلمہ کی زبوں حالی کے پیچھے یہی منصوبہ بندی یہود و نصاریٰ کارفرما ہے کہ اعلانیہ شب بسری کیلئے شہزادے یورپی ماڈل کو کروڑوں ڈالر ادا کرکے خدا کو ناراض اور ابلیس کو خوش کرنے کا سبب بن جاتے ہیں مگر مفتیان وقت کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ ہمارے وطن میں شہدا کی قبور پہ فاتحہ خوانی کی بجائے شمعیں، مشعلیں اور موم بتیاں روشن کی جاتی ہیں۔ مرنے والے کا ماتم مرقدوں پہ دو منٹ کی خاموشی سے کیا جاتا ہے۔ حالانکہ شریعت محمدی میں انکے بارے میں جو احکامات ہیں شاید ہماری شرعی عدالتیں اس سے آگاہی نہیں رکھتیں جبکہ آج کل فیس بک میں یہ شیئر کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے کیلئے تین چیزیں درکار ہوتی ہیں حضرت نوحؑ کی زندگی، ایوب ؑ کا صبر اور قارون کی دولت۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ملک تو کلمے کے نام پہ لیا گیا مگر جس قابض طاقت سے آزادی حاصل کی، قانون اسی کا لاگو اور مسلط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاوٹ، رشوت خوری، ذخیرہ اندوزی، قمار بازی، جوئے خانے، ریس کورسز، ڈانسنگ کلب، مخلوط شراب و شباب کی پارٹیاں، پرندوں اور جانوروں سے فال نکالنا اور پھر اسے چینل پر دکھا کر دنیا میں اسلامی ملک کو بدنام کرنا۔ ہسپتال کو شوہر بنانا، ونی کرنا، قرآن سے شادی کرنا، اپنے صوبے میں حج کرنا، روزانہ کی بنیاد پر کراچی میں معصوم و بے گناہ افراد کو قتل کرنا اور روزانہ درجنوں بچیوں کی عصمت کو لوٹ لینا وغیرہ کے علاوہ قبرستان میں یہ شرط لگانا کہ آنیوالی میت عورت کی ہے یا مرد کی۔ حرام جانوروں کا گوشت بیچنا، زندگی بچانے والی دوائی بھی جعلی بنانا وغیرہ شیطانی عمل ہے اور اس کا تدارک محض اسلامی تعزیرات سے ممکن ہے۔ شیطان بھی خدا کی مخلوق ہے مگر اشرف المخلوقات تو انسان ہے بنی اسرائیل میں ارشاد ربانی ہے بلاشبہ ہم نے اولاد آدم کو تکریم بخشی اور ابلیس کو یہاں تک حکم دیا کہ انسان کے آگے سجدہ کرو اور جب اس نے انکار کیا تو فرمایا کہ تم نے اسے سجدہ کیوں نہ کیا۔ میں نے انسان کو دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔ حضورؐ کا فرمان ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے دل میں اتر کر اسکے دکھ کا اندازہ کرے اور علی ہجویری ؒ شیطان کے بارے میں کہتے ہیں کہ نفس انسانی ہی شیطان ہے اور عبادت کا کمال یہ ہے کہ اسکی مخالفت ممکن ہو جاتی ہے۔اس حدیث پہ سب کا اتفاق ہے کہ سرکش شیطان کو رمضان میں زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر رمضان شریف میں گناہ ظلم و جرائم کا ارتکاب کیوں ہوتا ہے؟ جلال الدین رومیؓ کہتے ہیں کہ جس انسان کے افعال و اعمال درندوں اور شیطان جیسے ہوتے ہیں وہ نیک لوگوں سے بدگمان ہو جاتا ہے۔ انسان ہر حال میں شیطان تو شیطان فرشتوں سے بھی زیادہ بہتر و افضل ہے۔ شیطان انسان کے چاروں طرف حتیٰ کہ خون کی گردش میں بھی شامل ہوتا ہے مگر اسکے باوجود مسجدیں مکمل آباد اور اعتکاف والوں سے بھر جاتی ہیں۔ مختصر یہ کہ مسلمان اس کو کہتے ہیں جو دین محمدیؐ میں شامل ہو جائے اور کلمہ پڑھ لے مگر مومن اس کو کہتے ہیں جو ایمان لانے کے بعد ایمانداری سے باعمل ہو جائے۔ اسی لئے مومن کی فراست کا تذکرہ آسمانوں میں ہوتا ہے اور علامہ اقبالؒ اسی لئے سمجھاتے ہیں کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ حضور ؐ کو معاذ اللہ تلوار پکڑ کر قتل کی نیت سے آنیوالا ایک انسان نما شیطان تھا اور خالی ہاتھ توکل کے کوہِ گراں مومنوں کے باپ تھے۔مختصر یہ کہ فرشتوں سے افضل اور شیطانوں پہ حاوی ایک انسان نہیں بلکہ مومن و مسلمان ہوتا ہے اور شیطانی حربوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مسلمان اپنے ہر عمل پہ سوچے کہ میرے اس کام سے اللہ خوش ہو گا یا شیطان۔