کیانی، افتخار کی بے کنار صلاحیتیں

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
 کیانی، افتخار کی بے کنار صلاحیتیں

ہم پاکستانیوں، بالخصوص صحافیوں کی سونے سے قبل اور جاگنے کے بعد خبروں پر نظر اور زبان پر خیر کی خبر کی دعا ہوتی ہے۔ ہم قسمت کے دھنی واقع نہیں ہوئے کہ ہر روز خوشخبری مقدر بنے۔ دہشت، وحشت، قتل و غارت، پُلس مقابلے، زیادتی اور تھر میں قحط جیسی خبریں دل جلا کے اور روح تڑپا کے رکھ دیتی ہیں۔ جلتی پر تیل کا کام اشرافیہ کی بیان بازی کرتی ہے۔ بے درد بھی خود کو قوم کا ہمدرد باور کراتے ہیں۔ اپنی پارسائی، وطن سے محبت اور عوام کی راہوں میں کہکشائیں بچھانے اور انکی خاطر آسمان سے تارے توڑ کر لانے جیسے دعوے کرتے ہیں۔ تھر میں ایک قیامت گزر گئی اس پر بدستور حکومت سندھ کی بے حسی موجود ہے اس پر مخالف کہتے ہیں سیاست کے بجائے متاثرین کی مدد کی جائے حالانکہ یہ بیان بھی سیاست ہے۔ تھر میںایک طرف سرکاری میلہ دوسری طرف ہاری کی فاقہ کشی کا جھمیلا لگا رہا۔سندھ حکومت کے فیسٹیول پر وہ لوگ بھی تعریض کر رہے ہیں جو پنجاب میں فیسٹیول منا رہے ہیں جبکہ چولستان کی صورتحال تھر سے بہتر نہیں۔ تھر میں امدادی ٹرکوں کی لائن لگ گئی ہے آپ پنجاب کو سنبھالیں، چولستان کی خبر لیں،مہنگائی ،لاقانونیت اور پینے کے آلودہ پانی سے عوام کی جان چھڑائیں۔
حاکموں کی طرف سے مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، دہشتگردی اور توانائی بحران کے خاتمے، ہر طرف امن کے وعدے و دعوے اب سبز باغ بن گئے ہیں اور وہ باغ بھی اُس ٹرک میں سجا ہے جس کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا اورہم دیوانہ وار بھاگ رہے ہیں۔ ایسی خبروں سے فرصت ملے تو سرسری سی نظر عالمی خبروں پر بھی پڑ جاتی ہے۔کئی کو بغور پڑھیںتو معمہ بن جاتی ہیں۔ مثلاامریکی سی آئی اے کے سابق پائلٹ جان لیئر نے عدالت میں داخل اپنے بیان حلفی میں نائن الیون کے حکومتی دعوئوں کے برعکس کہا ہے کوئی بھی جہاز ٹوئن ٹاورز سے نہیں ٹکرایا۔ فزکس کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ناممکن ہے۔ حقیقت میں بوئنگ 767 جہاز 14 انچ موٹے کالم سے ٹکرائے تو جہاز کو پچک جانا چاہئے۔ ٹوئن ٹاورز کے لوہے کے کالم 39 انچ موٹے تھے۔ کوئی بھی بوئنگ 767 جہاز 1000 فٹ کی بلندی پر 540 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر ہی نہیں سکتا۔ اب اس کی تصدیق کیسے ہو؟ کوئی بار بار مولوی صاحب سے پوچھ رہا تھا مرنے کے بعد یہ ہو گا تو کیسے ہو گا، یہ ممکن نہیں، وہ ممکن نہیں، میں کیسے یقین کر لوں؟ مولوی صاحب نے کہا ’’مر کے دیکھ لو!‘‘جان لیئر کے بیان کی تصدیق کے لیے ایک جہاز ایسے ٹاور سے ٹکرا کے دیکھ لیا جائے ۔ اس خبر نے تو میٹر ہی گھما دیا۔’’ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے 7ویں مرتبہ دنیا کی طاقت ور خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ 65 سالہ برازیلین صدر ڈیما اوسف دوسرے نمبر پر ہیں۔ تیسرے نمبر پر مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی اہلیہ ملنڈا گیٹس‘ چوتھے نمبر پر امریکی خاتون اول مشل اوباما، سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری پانچویں نمبر پر ہیں۔‘‘خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان معزز و محترم خواتین نے طاقت کا مظاہرہ کیا اپنے میائوں کو پچھاڑ کر کیا۔
ہمارے ہاں آج بھی بے شمار گرما گرم خبریں ہیں، ان میں ایک چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور دوسرے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے حکومتی کمیٹی کی تشکیل ہے۔ وزیراعظم صاحب نے طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے مشورے پر حکومتی کمیٹی تحلیل کر دی۔ اب شش و پنج میں دکھائی دیتے ہیں کہ ’’محلول ‘‘ممبران کا کیا کریں اور نئی کمیٹی میں کس کو شامل کریں۔ بہتر ہے کہ مولانا سمیع الحق سے پوچھ لیں کہ ان کو کمیٹی میں کون کون سے مقتدر افراد پسند ہیں۔ کیوں نہ حکومتی کمیٹی کی سربراہی جنرل کیانی کو سونپ دی جائے۔ جنرل کیانی سے زیادہ کوئی پاکستانی طالبان کے بارے میں معلومات رکھتا ہے نہ انکی منصوبہ بندی ،کارروائیوں کے طریقہ کار، انکی طاقت اور کمزوری حتیٰ کہ کمین گاہوں، نقل و حرکت کے بارے میں جانتا ہے۔ جنرل کیانی کی بطور ڈی جی، آئی ایس آئی اور بعدازاں 6 سال آرمی چیف انکی ان سب پر گہری نظر رہی ہے ۔وہ طالبان کے ساتھ کئی امن معاہدوں میں وہ شامل نہیں بھی تھے شاہد ضرور ہیں۔ طالبان اور حکومتی کمیٹیوں کے مابین مذاکرات کو کچھ لوگ طالبان کے ساتھ طالبان کے مذاکرات قرار دیتے رہے ہیں۔ حکومت کی مذاکرات کیلئے بے کلی دیکھ کر کئی تجزیہ کار’’ن‘‘ لیگی حکومت کو طالبان حکومت قرار دیتے ہیں۔ آج جنرل راحیل جس طرح دہشت گردی کا نقد جواب دیتے ہیں‘ ایسا جنرل کیانی کے دور میں نہیں ہوتا تھا حالانکہ ایسا ہو سکتا تھا۔کیانی صاحب شاید شریعت کے نفاذ کیلئے سر بکف مجاہدین کا خون بہانا پسند نہ کرتے ہوں۔ یوں بھی وہ حکومتی کمیٹی کی سربراہی کے میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔ انکی تعیناتی کیلئے آئین میں اُس طرح کی ترمیم بھی نہیں کرنی پڑیگی جو رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کیلئے زیر عمل ہے۔ اس ترمیم کے بعد صدر کی صوابدید پر تعیناتی کی ر اہ میں ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی دو سال کی شرط رکاوٹ نہیں رہے گی۔
آج کے حالات میں جسٹس افتخار محمد چودھری سے بہتر کوئی چیف الیکشن کمشنر نہیں ہو سکتا۔ ان کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی ہراول دستہ تھی۔ اس نے پسپائی اختیار کی تو مسلم لیگ (ن) نے سالارِکاروانِ بحالی کا علم اُٹھا لیا ۔ میاں نوازشریف اُس لانگ مارچ کے روح رواں اور سالاراعظم تھے جو ابھی دوچار گام ہی چلا تھا کہ جنرل کیانی نے جسٹس افتخار کی بحالی کا یقین دلایا اور قافلہ فتح کے شادیانے بجاتا لوٹ آیا۔ انتخابات میں شفافیت لانی ہے تو افتخار محمد چودھری کو چیف الیکشن کمشنر بنا دیا جائے ۔ بلدیاتی انتخابات بھی جلد ہو جائینگے جن کے انعقاد کا جمہوری حکومت کی رواں مدت کے دوران امکان نہیں ۔ حکومت جسٹس افتخار کو وزیر قانون و انصاف بنا کراس شعبے میںانکی خدمات سے استفادہ کر سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ کربھی لیا ہو اور ایجنسیاں انکے پیچھے لگا کر انکی سکروٹنی اور سکیورٹی کلیئرنس کی جا رہی ہو۔ جنرل کیانی اور جج افتخار نے زرداری جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا۔ آج جمہوریت کے اُسی سایہ دار اورثمربار شجر پر نواز لیگ کا آشیاں بنا ہے‘ اس میں سمانے کی تھوڑی سی جگہ جمہوریت کے محسنوںکودیکر ان کی چھلکتی صلاحیت اورموجزن اہلیت سے استفادہ کیا جائے ۔