عسکری قیادت کا دانشمندانہ فیصلہ

کالم نگار  |  خواجہ عبدالحکیم عامر
عسکری قیادت کا دانشمندانہ فیصلہ

آج کوئی مانے نہ مانے لیکن اس سچ کو ایک نہ ایک دن تسلیم کرنا پڑیگا کہ جن طالبان کو ان پڑھ، جانوروں اور جاہلوں کے القابات سے نوازا جاتا ہے زبردست قسم کے منصوبہ ساز اور عقل و دانش سے مالا مال ہیں انہوں نے گزشتہ کچھ دنوں سے جس خوبصورتی اور کامیابی کے ساتھ حکومت اور حکومتی نمائندوں کو کھلایا ہے اس کی تعریف نہ کرنا بخل کے زمرے میں آئیگا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جس بات کا ادراک سیاسی قوتوں کو ہونا چاہئیے تھا اس کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان کی عسکری قیادت نے خود کو مذاکرات کے کھیل سے الگ رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے بیانگ دہل کہہ ڈالا ہے کہ دہشت گردی جاری ہے فضائی کارروائیاں نہیں رکنی چاہئیں۔ عسکری فیصلے کیمطابق کسی مجرم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے یہ جذبات 18/19کروڑ غیرتمند پاکستانیوں کے بھی ہیں۔ یہ وہ باضمیر پاکستانی اور عسکری قیادت ہے جو سیاسی گند اور مصلحتوں سے مبرا ہونے کے علاوہ صرف اور صرف پاکستان کی سالمیت اور بقا کی خاطر سوچتی ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی قیادت اس سب کچھ سے نابلا ہے شائد اورکھنے والے تو کہتے ہیں اور کہنے والوں کو کوئی روک بھی نہیں سکتا کہ سرکار کو دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہوا ہے اور فریق مخالف وقت پٹائو پالیسی پر عمل پیرا ہے اور سیاسی حکمران مصلحتوں کا شکار ہو کر مخالفین کو مضبوط اور مزید منظم ہونے کا موقع دیئے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ پوری کی پوری حکومت تذبذب اور کنفیوژن کا شکار ہے فیصلہ نہیں کر پا رہیں کہ کرے تو کیا کرے۔ پاکستان کے مفاد میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔یہ سچ ہے کہ حکومت اور سرکاری مشینری دو حصوں میں بٹ چکی ہوئی ہے۔ یوں تو یہ بات ثابت کرنے کیلئے کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مگر ایک تازہ مثال وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا یہ بیان ہے جو یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ وطن عزیز میں خصوصاً حکومت وقت کے ایوانوں میں آج بھی با اصول و باضمیر پاکستانی نظر آ رہے ہیں جو اکثر سچ بولتے ہوئے نظر آئے خواجہ آصف نے پاکستانی لوگوں کی اکثریت کی ترجمانی کی ہے فرماتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں خواجہ آصف اور ان جیسی سوچ رکھنے والے پاکستانیوں کو اگر گوشہ تنہائی میں لے جا کر انکی رائے لی جائے تو وہ یقیناً مذاکرات کو مخص ایک کھیل ڈھونگ اور ضیاء وقت قرار دینگے اور سچ بھی تو یہی ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے مذاکرات مذاکرات کھیل کر حکومت نے کیا پایا ہے کیا حاصل کیا ہے کچھ بھی تو نہیں جبکہ دوسری طرف فریق مخالف ایک وقت میں دو دو کام کر کے حکومت کو مفلوج و پریشان کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے قوم پوچھتی ہے کہ عرفان صدیقی مذاکراتی ٹیم نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کیا حاصل کیا ہے سوائے ناکامی کے کچھ بھی تو نہیں۔ اس ضمن میں کم از کم میرا دل تو اس بات کو تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نہیں کہ حکومت اور فوج ایک ہی بیج پر ہیں ۔ حکومت کے اندر ہی سے بھانٹ بھانٹ کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ وزیر داخلہ کی بولی کچھ ہے اور وزیر دفاع مختلف راگ الاپ رہے ہیں۔ فوجی قیادت نے انہی نت نئی بولیوں کا توڑ کرنے کیلئے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ کسی مجرم کیساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے لیکن اس کھلے ڈلے بیان کے بعد پرویز رشید کا یہ فرمانا پس منظر میں رہ کر حکومتی کمیٹی کی معاونت کریگی خدا جانے کیا ثابت کر رہا ہے جو کچھ میں سمجھ پایا ہوں یہ ہے کہ حکومت پاکستان سخت کنفیوژن کا شکار ہے اور درست سمت کا تعین نہیں کر پا رہی۔کیا پاکستانی حکومت وزیرستان اور قبائلی علاقوں سے فوج کو واپس بلا سکتی ہے کیا؟ یقیناً نہیں۔ پاکستانی حکومت ملک میں شریعت نافذ کرنے کی پوزیشن میں ہے ناممکن نہ سہی بہت زیادہ مشکل ضرور ہے جبکہ طالبان کے یہی بنیادی مطالبات اور شرائط ہیں جو یقیناً قابل قبول ہیں تو پھر مذاکرات کیسے؟ مجھے نیشن کے ایڈیٹر سلیم بخاری کی یہ بات بہت اچھی لگی کہ پرویز مشرف پاکستان کا قانون معطل کرے تو سابق آرمی چیف ہونے کے باوجود پابند سلاسل کر دیا جائے اور اسکے خلاف دفعہ 6 کی باتیں اور مطالبات ہونے لگیں اور ایک 18 ویں گریڈ کا مولوی پاکستان کے آئین کو نہ ماننے کا بار بار اعلان کرے اور اسے روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہو قانون گونگا، بہرہ اور اندھا ہو جائے۔پاکستان کی عسکری قیادت نے کور کمانڈر کانفرنس کے اختتام پر آپریشن کا عندیہ دیا ہے اور سیاسی قیادت کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ ہم مجرموں کیساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے عسکری قیادت انہی جذبات کے جواب میں طالبان کمیٹی کے اہم رکن مولانا سمیع الحق نے کہہ دیا ہے کہ دس سال بھی کارروائی کرتے رہے امن قائم نہیں ہو گا اس نوعبت کے جذبات کا اظہار عمران خان بھی کرتے رہتے ہیں کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔دعا ہے‘ اللہ میرے پاکستان کو ہر شر سے محفوظ رکھے آمین!