پاکستانی میڈیا اور بدلتے معاشرتی اقدار

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ
پاکستانی میڈیا اور بدلتے معاشرتی اقدار

پاکستان میں میڈیا ایک متحرک ترین حیثیت حاصل کر چکا ہے ۔ سیاسی دباﺅ اور پابندیوں کے باوجود میڈیا اپنی راہ بنائے چلا جا رہا ہے۔ آزادی کے حصول کے اس عمل میںجہاں صحافتی قدروں کو عزت ملی وہاں تجارتی مفادات اور سنسنی خیزی نے بھی اسی رفتار سے میڈیا میں اپنی جگہ بنائی۔ میڈیا نے یہ آزادی تین دہائیوں کی شبانہ روز محنت اور نا مساعد حالات کا مقابلہ کر کے حاصل کی ہے۔میڈیا کی آزادی کی وجہ سے ہمارے سیاسی نظام اور نو زائیدہ جمہوریت کے تمام پہلو بتدریج عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔سیاسی قائدین پر چڑھا ”ملمعہ“ بھی اتر رہا ہے۔آج کی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خبر ہے اور یہی خبر کل کی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ " News is the First rough draft of History" ےعنی خبر آنے والے دنوں کی تاریخ کا پہلا رف مسودہ ہے۔ آج کی تحریر کل کی تاریخ ہو گی۔پاکستانی میڈیا کی کہانی در اصل پاکستان کی کہانی ہے ۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک جو بھی خبریں لکھی ،سنی،پڑھی اور تبصرے شائع ہوئے وہ تاریخ کا پہلا "رف مسودہ" ہوتی تھیں۔پاکستانی میڈیا کا تجزیہ کریں تو اس میں کثیر السانی، کثیرالقومی اور متحارب سماجی گروپنگ سامنے آئی ہے، اسی طرح اردو اور انگریزی میڈیا کے درمیان بھی واضح فرق موجود ہے۔ اردو اخبارات کے قارئین کی اکثریت دیہات میں رہتی ہے جبکہ انگریزی صحافت کے دلدادہ لوگوںکی اکثریت پاکستان کے شہری علاقوں کے مکینوں پر مشتمل ہے۔ انگریزی صحافت، اردو صحافت کی نسبت زیادہ پیشہ وارانہ لیکن آزاد منش خصوصیات کی حامل ہے۔ ٹی وی کے اردو اور انگریزی چینلز کی صورت حال پرنٹ میڈیا سے خاصی مختلف ہے۔ اردو چینلز کو ملک میںجو پذیرائی ملی ہے اسکی دس فی صد مقبولیت بھی انگریزی چینلز کو حاصل نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ دھوم دھڑکے سے شروع ہونیوالے کئی انگریزی چینلز کو اپنی نشریات بند کرنا پڑیں اور ان میں سے کچھ کو تو اپنے انگریزی چینل کو اردو چینل میں منتقل کر دیا۔ٹیکنالوجی کی ترقی نے میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کو ایک مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ ٹی وی کا ریموٹ ہو، انٹرنیٹ کا ماﺅس یا موبائل فون یہ سب ایسی علامتیں ہیں جنہوں نے دنیا کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ٹی وی ریموٹ کا ایک بٹن دباتے ہی لاکھوں میل دور کی آواز، تصویر اور حرکات آپکے سامنے ہوتی ہیں۔ ماﺅس کو چھیڑتے ہی علم، تحقیق اور اخلاقیات کے جدید رجحانات لمحہ بھر میں الیکٹرانک صفحات پر بکھر جاتے ہیں ۔اسی طرح موبائل فون کے ذریعے ہم اپنے پیاروں سے لمحہ بھر میں ہر طرح کی بات کر سکتے ہیں اور اب تو تصویر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔آج کے دور میں طرز فکر کو تشکیل دینے اور انسانی رویوں پر اثرانداز ہونے میں، مٹھی میں بند یہ تین چیزیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ جن قوموں کا کنٹرول ان تین چیزوں پرہے، وہی عملاً دنیا پر کمانڈ کر رہی ہیں۔آج کے دور میں کوئی قوم یا ملک اس وقت تک عالمی سطح پر اپنی برتری ثابت نہیں کر سکتا جب تک وہ ذرائع ابلاغ یا میڈیا کو دانش مندانہ طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔اس حوالے سے مجھے ایک قاریہ محترمہ عمارہ مجیدنے خط لکھا ہے وہ ہم سب کیلئےEye Opener ہے۔ وہ لکھتی ہیں"میں علم ابلاغیات کی طالب علم رہی ہوں اورراولپنڈی کے ویمن کالج میں ابلاغیات کی مدرس بھی رہی ہوں۔ میںجب بھی ٹی چینل دیکھتی ہوں تو پاکستانی میڈیا کے کردار پر بڑی تشویش ہوتی ہے۔ ابلاغ کے اس اہم ترین ذریعے نے جہاں پاکستانی عوام کو اطلاعات تک رسائی دی ہے وہاں اس کی مدر پدر آزادی اور بے مقصدیت نے عوام کے ذہنوں میںکئی سوال پیدا کر دئیے ہیں۔ اکثر ٹی وی پروگرامز میں ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ والدین اور اولاد،بہن اور بھائی کے درمیان قائم شرم و حیا کے پردے کومیڈیا نے بے حس کرنا شروع کر دیا ہے ۔میڈیا کو قوم کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے۔ اس چوتھے ستون کو تو ہمیںمعاشرتی اور اخلاقی قدروں کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ تو چینل کے مالکان، ایڈیٹر صاحبان اور حکومت وقت کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس طرح کی ایڈیٹوریل آزادی پاکستانی معاشرت کو کس قدر نقصان پہنچا رہی ہے۔اس حوالے سے پیمرا جیسا ادارہ موجود ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔میڈیا کے اس کردار کی وجہ سے ہماری معاشرتی ثقافت پر کاری ضرب لگ رہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ قوموںکے عروج و زوال کا تعین انکی معاشرتی اقدار اور نئی نسل کے چلن سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ سنہری دور تھا کہ نسلوں کو پروان چڑھانے اور معاشرتی اقدار کی تشکیل کا کام دانشوروں کیساتھ ساتھ اساتذہ اور خاندان کے بزرگ ہی کیا کرتے تھے لیکن آج معاشرتی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ میڈیا بن چکا ہے۔ہمارے ٹی وی چینلز کے اکثر پروگرام دیکھنے کے بعد مجموعی طور پر ایک عجیب سی مایوسی اور جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے۔ ناظر کے طور پر ذہن پر شدید دباﺅ محسوس ہوتاہے۔ خاص طورپر نیوز ٹی وی چینلز مجموعی طور پر عوام کی تربیت اور رہنمائی کرنے کی بجائے خوف و ہراس کی فضا قائم کر رہے ہیں۔ ایک ہی خبر کو بار بار چلا کر انسانی ذہن پر ہتھوڑے مارتے ہیں۔اس ہیجانی رپورٹنگ کی وجہ سے شہری خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ تفریحی مقامات کا رخ نہیں کرتے۔ ہر گھر اور دفتر میں ہمہ وقت سنسنی خیزی اور پریشانی کی سی کیفیت طاری رہتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی جنگ ہے اس حوالے سے عوام کی تربیت کرنے میں بھی میڈیا نے کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔سیاسی تماشوں، سکینڈلز اور شادیوں کی خبروںپر گھنٹوں صرف کر دئیے جاتے ہیں لیکن تعمیر قوم اور اخلاقی اقدار کی ترویج کیلئے میڈیا کے پاس وقت نہ ہے۔میڈیاکے قومی کردار کے حوالے سے ماہرین ابلاغ، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں پر مشتمل افراد کی خصوصی کمیٹی کو سفارشات تیار کرنی چاہئیے اس پر ملک گیر بحث یا پارلیمنٹ میں Debate کی جا سکتی ہے۔جن امور پر اتفاق رائے ہو ان کو قانونی تحفظ دیا جائے تا کہ تعمیر قوم کے تقاضے پورے ہوں۔۔ میڈیا اب صرف اطلاعات کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک اور قوم کے تحفظ کا ایک اہم ترین ذریعے بھی ہے"۔
پاکستان کے اس درد مند شہری نے جس جانب نشاندہی کی ہے وہ اپنی جگہ بڑی اہم ہے۔ صحافت کے شعبے سے منسلک افراد خواہ ان کا تعلق پرنٹ میڈیا سے ہو ےا الیکٹرانک میڈیا سے انہیں معاشرے کی جانب سے بڑی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کی تحریر ا ور ان کی قوت اظہار ایک بڑی امانت ہے۔ اس حوالے سے رپورٹرز ، تجزیہ نگار ، کالم نویس ا ور اینکر مین کی شخصیت ، ان کی علمیت ا ور طرز اظہار پر سیر حاصل بحث کی ضرورت ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہمارے ملک میں شرح خواندگی کم ہے۔ اس لیے سنجیدہ ٹاک شوز وہ ریٹنگ حاصل نہیں کر تے جتنا کہ شور شرابے اور کھینچا تانی والے شوز کی ہوتی ہے ۔ کمرشل ازم کے اس دور میں اکثر ٹی وی چینلز نے ان ٹاک شوز کو اطلاعات کی فراہمی اور تجزیات کی بجائے کھیل تماشہ بنا دیا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) اور وزارت اطلاعات و نشریات اس طرف توجہ دے اور قومی سطح پر اصلاح کی راہ تجویز کرے۔ محترمہ عمارہ مجید نے اپنے خط میں جس جانب توجہ دلائی ہے اس کو پیش نظر رکھنا بھی معاشرتی تشکیل کے لئے ضروری ہے کیونکہ مضبوط معاشرتی تشکیل میںاخلاقی اقدار کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔