فوری فیصلہ

کالم نگار  |  رخسانہ نور
 فوری فیصلہ

کہتے ہیں زخموں کا وقت پر علاج نہ کیا جائے تو وہ ناسور بن جاتے ہیں ایسے میں کبھی انگلی بچاتے بچاتے ہاتھ کاٹنا پڑ جاتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے بقول بلاول زرداری پارلیمنٹ کو اپنا چہرہ بچانے کیلئے ناک کٹوانا پڑی۔ اس میں شک نہیں کہ ایس ناک کٹوائی رسمیں تقریباََ ہر سیاسی جماعت میں مفادات کے حصول کی خاطر بیسوں بار ہوتی رہی ہیں۔ کبھی چہرہ بچانے کیلئے ناک کٹوائی، تو کبھی ناک بچانے کے دامن کے ساتھ ساتھ چہرہ بھی داغدار کیا۔ ہر دوسرے دن دھرنوں میں چھ ماہ ضائع ہونے کی تسبیح حکومتی زبان سے سنتے رہے اور دوسری جانب دھرنا دھمال کے حصول میں ریحام خان یقیناََ پی ٹی آئی کے حامیوں کیلئے باعث مسرت ہے۔ یہ الگ بات ہے پی ٹی آئی گھریلو مصروفیات کی بنیاد پر ملکی مسائل کیلئے وقت نہ نکال پائی ایسے میں اکیسویں آئینی ترمیم کیلئے کچھ اونچی ناک والوں کو نہ منایا گیا نہ اعتماد میں لیا گیا۔ اگر APC کی طرح کچھ ”باہمی رضا مندیوں“ کا دستر خوان بچھا لیا جاتا تو خبروں کے بازار میں آگ کم لگتی۔ اب ہماری گزارش یہی ہے کہ سیاسی شعلہ بیانیوں پر فقط اتنا ہی دھیان دیا جانا چاہیے جتنا کہ چھ سالہ مزدور کے بیٹے کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل پر مسجد کے موذن کے اقبال جرم پر قانون ”حرکت“ میں آیا۔ جس ملک کے قانون کو ”گھٹنوں کا درد ہو“ اور انصاف لمبی تانے سو رہے وہاںسماجی، اقتصادی، ابتری، بین المذاہب رواداری کا فقدان و تصادم، مذہبی منافرت وانتہا پسندی کے برہم طوفان ریلوں کے سامنے بند باندھنے کیلئے شاید یہ ضروری ہو گیا تھا کہ عجلت میں سہی، ایسا قانون بنا لیا جائے جس کے تحت اس منہ زور لاقانونیت کے بد مست بھینسے کو قابو کیا جا سکے۔ سنا تو یہی ہے کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جہاں آوے کا آوا بگڑا ہو، وہاں لوہا کیا کرتا ہے؟ کٹھن تو یہ ہے کہ جہاں ابھی تک اجناس خریدنے اور بیچنے کے حجم پیمانے مقرر نہ ہو سکے ہوں وہاں رشتوں اور جذبوں کی قدروں کی روایت کے کمزور پڑنے کا گلہ بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ جس ملک میں پھانسی سے صرف تیس سیکنڈ پہلے مقتول کے لواحقین سے خون کا سودا ہو جائے، وہاں آخر کس مذہبی، انسانی، اخلاقی، سماجی حد بندیوں کی تعظیم ہو سکتی ہے؟ حیرت انگیز کمال ہے کہ یہاں مذہبی و سیاسی جماعتیں اپنا دامن جھاڑنے کیلئے گرد جمہوری قدروں پر ڈالتے ذرا بھی نہیں چوکتیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے معاشرے میں ہونے والی اُتھل پُتھل پر انہیں احساس ندامت ہوتا ہے کیونکہ ان کیلئے کم وقت میں ہونیوالے فیصلوں کو دل سے قبول کرنے کی روایت موجود ہی نہیں! شاید اسی لئے ایسے تمام فیصلے انکے تئیں ”عالمی ایجنڈے“ کی پیشرفت کے مترادف ہیں۔ کچھ دہشت گردی کیخلاف قوانین کو ”وقتی ضرورت“ کے تحت تسلیم کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ کیلئے جاری نہ رکھنے کی ”تنبہیہ“ کرتے ہیں۔ یہ دراصل انکی ”فیس سیونگ“ ہے جو اب ”با شعور عوام“ سمجھ بھی رہے ہوتے ہیں لیکن سیاسی قلا بازیوں کا چسکا اپنی جگہ موجود ہے۔ سنجیدہ بات تو یہ ہے لمحہ لمحہ بدلتے حالات میں مفادات کی کشتی بھی کئی مرتبہ گرداب میں پھنستی ہے۔ ایسے سودے بازیوں میں کس کا سر جاتا ہے اور کس کی ناک؟ شاید ابن الوقتوں کو اسکا دھیان نہ رہے لیکن اب کچھ آنکھیں مسلسل دیکھ رہی ہیں۔ جو کسی بھی لمحے انکے سامنے آجائینگی۔ پارلیمنٹ میں اکیسویں آئینی ترمیم میں دہشت و بربریت کے جس کھیل پر مجرموں کو فوری کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے عمل درآمد کا اعادہ کیا گیا، اُن میں مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے بھی شامل ہیں۔ فوری نافذ العمل قرار دیئے جانیوالے قانون کا فوری اثر راولپنڈی چٹیاں ہٹیاں میں امام بارگاہ پر خود کش حملے سے ہوا۔ اب ہمارے ہاں ”بے مول“ قیمتی جانوں کے چلے جانے کا سوگ لمحوں میں ہوا کرنے کا سامان نہ کیش ہونیوالے چیکوں کی صورت ادا ہوتا ہے۔ مذمتوں کی گردانیں جگالی کی جاتی ہیں اور بس! خدا جانے ہماری امام بارگاہیں کب محفوظ ہونگی۔ اب عوام کو مذہبی و سیاسی جماعتوں کے بیانات میں بین السطور پیغامات کو سمجھنے کیلئے اپنی آنکھیں اور سماعتوں کو کھلا رکھنا ہوگا۔ اپنے دوستوں دشمنوں کو پہچاننے میں دیر کی عادت ترک کرنا ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر بہت دیر ہو جائے۔ جو لوگ مدارس و مساجد کی طرف بُری نیت سے بڑھنے والے ہاتھوں کو روکنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ اُن کو پہلے ان جگہوں سے مذہبی لبادہ اوڑھے بھیڑیوں کی کھالیں اتارنا ہوں گی! سماج اور قوم کی تربیت سے پہلے ان ہم ذہنوں کی انسانی تربیت کرنا، ان مذہبی جماعتوں کیلئے بہت ضروری ہے، ورنہ روز روز کے اخباری بیانات ہو سکتا ہے انہیں صفحات میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہیں لیکن تاریخ کے اوراق میں انکے بدرنگے چہرے آنیوالی نسلوں کیلئے باعث شرم ہوجائینگے۔ جماعت اسلامی کے نزدیک اسلام پسندوں کو پھانسی چڑھا کر مغرب کو خوش کر سکتے ہیں۔ اللہ کو نہیں! ایسی ہلا شیری دینے والوں کی نظریں کم سن بچوں سے زیادتی کے بعد ان کا قتل کرنے والوں کی اصلاح کیلئے کیوں نہیں اٹھتیں۔ یہاں خون کا بدلہ خون کیوں دین کے عین مطابق نہیں؟ آخر معصوم بچوں اور بچیوں کی عزت اور جان کے بدلے چوک چوراہوں پر پھانسی گھاٹ عبرت کے نشان کی مصداق کیوں نہیں لگائے جاتے؟ ایسے درندوں کو صرف قید کی کیوں سزا دی جاتی ہے؟ کیا اہل سیاست و اقتدار نہیں جانتے کہ صرف پچھلے ایک سال میں تقریباََ دو ہزار بچیوں اور بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا یا کچھ کو عمر بھر تڑپنے کیلئے چھوڑ دیا۔ آخر نفسانی دہشت گردی پر کب کوئی عدالت فوری فیصلہ سنائے گی؟