سزائے موت بحالی....عدم برداشت سے برداشت تک

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
سزائے موت بحالی....عدم برداشت سے برداشت تک

سزائے موت پر کئی سال عمل معطل رہا۔اب جیلوں میں سزائے موت کے آٹھ ہزار سے زائد قیدی پڑے ہیں۔ کسی انسان کا قتل بلاشبہ ظلم ہے۔ یہ ظلم کرنے والا پھانسی لگتا ہے تو اس پر بھی شادیانے نہیں بجائے جا سکتے تاہم فطری طور پر یہی مناسب ہے کہ جو اس نے کیا اس کی سزا بھُگت لی اور دوسروں کےلئے عبرت بن گیا۔ متعدد مغربی ممالک کا استدلال ہے کہ جس قاتل نے انسانی جان لے لی یہ افسوسناک ہے۔ اسکی پاداش میں دوسری جان تو نہ لی جائے۔ ان ممالک نے اس دلیل کے تحت اپنے ہاں سزائے موت کا خاتمہ کر دیا۔ ہمارے ہاں سزائے موت کا خاتمہ نہیں ہوا، محض عارضی طور پر عمل رکا تھا جس سے مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے۔سزائے موت پر عمل معطل ہونے کے بعد ایسی وارداتوں اور واقعات میں اضافہ ہو گیا جن کی سزا موت ہے۔ مشرف دور میں آصف علی زرداری نے جیل سے رہائی پائی تو ان پر قید کے اثرات نمایاں تھے۔ اب تو گھوڑے کی طرح دوڑتے نظر آتے ہیں ان دنوں کھونٹے کے سہارے چلتے تھے۔ اس وقت زرداری صاحب نے قتل کیس کی دہشت ان الفاظ میں بیان کی ” قتل کسی درخت پر ڈال دیا جائے تو وہ بھی سوکھ جاتا ہے۔“ زرداری صاحب اقتدار میں آئے اور ملک کے سیاہ سفید کے مالک بنے تو ایسی اصلاحات تو نہ کر سکے کہ وطن عزیز سے جرائم کا خاتمہ ہو جاتا البتہ سزائے موت کے قیدیوں پر نوازش کرتے ہوئے ان کی سزاﺅں پر عمل روک دیا۔ سات آٹھ سال یہ عمل رکا رہا تو مجرموں کو اپنی زندگی کی بقا کا یقین ہو گیا، کئی نے ایسے ہی یقین کے ساتھ انسانیت کو شرما دینے والے جرائم کا ارتکاب کیا۔ جب سزائے موت پر عمل ہوتا تھا تو مجرم کا سزائے موت کا حکم سنتے ہی خوف سے چہرے سے خون گویا نُچڑ جاتاتھا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ موت کا حکم سننے پر مجرم کے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔ کئی عدالت میں کھڑے ہو کر وکٹری کا نشان بنائے دیکھے گئے۔ سزائے موت کے مجرموں نے جیل میں باقاعدہ نیٹ ورک بنالیے تھے۔ اندر بیٹھ کرباہر کی دنیا کو کنٹرول کیا جاتا۔ سزائے موت پر عمل شروع ہونے کی خبریں میڈیا میں آئیں تو پھانسی کے قیدیوں میں ایک افراتفری پھیل گئی۔ انکے جرائم کیلئے فعال نیٹ ورک یک لخت بند ہو گئے۔ جن لوگوں سے شراب منگواتے تھے ان کو آب زم زم لانے کو کہہ رہے ہیں۔ بہت سے قیدیوں کا موت کو سامنے رقصاں دیکھ کر کھانا پینا چھوٹ گیا۔ اپنے لواحقین سے بار بار ایک ہی رو رو کر فریاد کرتے ہیں کہ کسی طرح مقتول کے لواحقین سے صلح کر لو ۔کچھ انکے نیٹ ورک بند ہونے سے اور کچھ سزاﺅں کے خوف سے روز مرہ اور سنگین جرائم میں واضح کمی نوٹ کی گئی ہے۔ ایسے جرائم سے بلاشبہ معاشرے میں انارکی موجود تھی اور ہے مگر آج ملک و قوم کےلئے سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے جس نے ملک کو ہلا کے رکھ دیا تھا جس کےخلاف اب پوری قوم کھڑی ہو گئی ہے۔ ملک میں خصوصی عدالتیں بنائی جا رہی ہیں جن کیلئے آرمی ایکٹ اور آئین میں ترمیم کی گئی ہے۔
 جن کی تقلید میں ہم سزائے موت کے خاتمے کےلئے بے قرار رہتے اب وہاں بھی سزائے موت کی بحالی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔فرانس میں توہین آمیز کارٹون شائع کرنیوالے میگزین پر حملے کے ایک روز بعد فرانس فرنٹ نیشنل کی لیڈر میرین لی پین نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ منتخب ہو گئیں تو وہ ملک میں سزائے موت بحال کرانے کیلئے ریفرنڈم کی تجویز دینگی۔ اس خاتون رہنما نے ٹی وی چینل فرانس ٹو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ”میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ سزائے موت دینے کا قانون بھی ہمارے قانونی ہتھیاروں کے اسلحہ خانہ میں ہونا چاہئیے۔ سزائے موت فرانس میں قرون وسطی سے 1977ءتک نافذ العمل رہی کیونکہ مجرموں کے سر کاٹنے کا یہی ایک قانونی طریقہ ہے۔“ واضح رہے فرانس میں جس آخری شخص کو پھانسی دی گئی تھی وہ تیونس سے تعلق رکھنے والا حمیدہ جندوبی تھا۔ اسے ستمبر 1977ءمیں سزائے موت دی گئی تھی۔ بعد ازاں 9 اکتوبر 1981ءکو سزائے موت پر قانوناً پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
ہمارے ہاں بدامنی، لاقانونیت بلکہ انارکی دہشتگردی اور فرقہ واریت کی وجہ سے ہے۔ دہشتگردی میںکئی لوگ مذہب کواستعمال کرتے ہیں جس کو مذہبی دہشت گردی کہا جاتا ہے جسکے خاتمے کےلئے آئین میں ترمیم ہوئی اور فوجی عدالتیں قائم ہو رہی ہیں۔ فرقہ واریت اور مذہبی دہشت گردی میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ ان میں کہیں کہیں تال میل بھی نظر آتا ہے۔ فرقہ واریت پاکستان میں پرانی اور موذی بیماری ہے۔ خصوصی طور پر سنی شیعہ انتہا پسند گروپ ایک دوسرے کوناقابل برداشت قرار دیتے ہیں۔ کافر قرار دے کر ایک دوسرے کی جان لینے کو عین فرض سمجھتے ہیں اور ایسا کرتے بھی ہیں جس کے باعث ایک دوسرے کے بڑے لوگوں قتل کیا جا چکا ہے ۔ ایسے جرائم پر دونوں طرف موت کی سزائیں ہو چکی ہیں اور ان پر عمل بھی ہوا تاہم کئی اب بھی ایسے کیسوں میں اپنی سزاﺅں پر عمل کے منتظر ہیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ کہنا مکمل سچ نہیں کہ انتہا پسند شیعہ (لشکر محمد) اور سنی( سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی) ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ اکرام الحق نے 2001ءمیں شور کورٹ میں فرقہ واریت پر 5 افراد کو قتل کیا۔ ان کو فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سزائے موت سنائی جس پر 8 جنوری کو عمل درآمد کا حکم دیا گیا۔ جھنگ کے سابق ایم این اے وقاص اکرم شیخ کہتے ہیں کہ جب اکرام الحق، اسکے لواحقین اور تنظیم کے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اب پھانسی ٹلنے والی نہیں تو یہ لوگ بھاگے بھاگے مقتول کے ورثاءکے پاس جا پہنچے۔ وہاںدیت کی بات ہوئی۔ دوسرے فرقے نے تین کیس واپس لینے کی شرط رکھی اور معاملات طے پا گئے۔ اس پر اکرام الحق کی وقتی طور پر پھانسی ٹل گئی۔ کل کے ایک دوسرے کی جان کے دشمن اور ایکدوسرے پر کافر کے فتوے لگانے والے پھانسی گھاٹ دیکھ کر بھائی بھائی بن گئے۔ اگر قتال کے بعد عدم برداشت، برداشت کے روپ میں سامنے آسکتی ہے تویہ برداشت کا جذبہ انتہا تک جانے سے قبل پیداہو سکتا ہے۔ دونوں تنظیموں کے شدت پسندوں کو اپنی ہی قائم کی ہوئی مثال سے رہنمائی لینی چاہئیے۔ پھانسی گھاٹ دیکھ کر تلملانا اورجاں بخشی کیلئے گھوڑے دوڑانا ہربار سود مند نہیں ہوسکتا۔