داعش کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں

کالم نگار  |  خالد بیگ
داعش کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں

ملک کے مختلف شہروں میں”وال چاکنگ“ تحریک طالبان پاکستان کے کچھ عناصر کی داعش میں شمولیت کے اعلان اور پاکستان کے چند بڑے سیاستدانوں کی داعش کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق بیانات نے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ساتھ ہی میڈیا پر داعش سے متعلق نشر ہونیوالی خبروں سے بھی لوگوں نے یہی مطلب لیا ہے کہ اگر القاعدہ طالبان کی ہمارے خطے میں موجودگی ممکن ہو سکتی ہے تو داعش کے امکانات غلط کیسے ثابت ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں 16 دسمبر کو پشاور میں سکول کے بچوں پر دہشتگردوں کے وحشیانہ انداز میں حملے نے بھی عوام الناس کے خوف میں اضافہ کیا جبکہ شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کی کمین گاہوں اور خفیہ ٹھکانوں پر آپریشن ضرب عضب کے دوران ہونیوالے تابڑ توڑ فضائی و زمینی حملوں کے بعد ٹی ٹی پی یا بیرونی امداد سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کو جاری رکھنے والوں کے پاس ملک میں کوئی ایسی جگہ نہیں رہی جہاں سے ملک میں دہشتگردی کے خونی عمل کو جاری رکھا جا سکے اور پشاور میں بچوں پر حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان ہی سے کنٹرول کی گئی۔ یہاں داعش پر مزید بات کرنے سے پہلے پاکستان میں دہشتگردی کی مسلط کردہ جنگ کو ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں جس سے قارئین کو صورتحال سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ امریکی صدر اوبامہ کے 2010 ءمیں بھارت پہنچنے پر ممبئی میں ایچ آر کالج برائے کامرس و اکنامکس کے دورے میں طالب علموں سے ملاقات کے دوران ایک مسلمان طالبہ افشین ایرانی نے سوال کیا کہ:
 "Why is Pakistan so important and ally to America so as Amrica naver called it a Terrorist state p"
جواب میں صدر اوباما نے کیا کہا وہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن بھارتی خفیہ اداروں نے جس طرح کا سوال کرایا اس بھارتی ”مائنڈیسٹ“ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سات ہزار فوجی افسر و جوان اور پچاس ہزار غیر مسلح عام لوگ کسی جنگ میں نہیں بلکہ صرف دہشت گردی کی کارروائیوں کی نذر ہو گئے اور بھارت پاکستان کو دہشت گرد ریاست ڈیکلیئر کراناچاہتا ہے؟ تاہم جب آپ بھارت میں آئی بی کے سابق سربراہ اجیت کمار دوول (وزیراعظم نریندرا مودی کے مشیر برائے نیشنل سکیورٹی ) کی نیو دہلی میں پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی و میڈیا کو دی گئی بریفننگ سنتے ہیں تو پاکستان میں جاری دہشتگردی کیلئے بھارتی مقاصد اور پاکستان سے متعلق سفاکانہ بھارتی حکمت عملی واضح ہو جاتی ہے۔ اجیت کمار دوول کہتا ہے کہ ”ہم نے پاکستان کیخلاف Defensive offence کی جنگی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ اس حکمت عملی کا مطلب ہے ہم وہاں کارروائی کرتے ہیں جہاں سے ہمیں حملے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان چونکہ ایٹمی قوت ہیں لہٰذا ہم پاکستان کےخلاف روایتی جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے اور جب ہم Defensive offence کی بات کرتے ہیں تو اس میں ہمارا ہدف پاکستان کی معیشت‘ سیاست‘ پاکستان کا داخلی امن و امان‘ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں‘ پاکستان کو افغانستان میں غیر مقبول کرنا‘ وہاں اس کیلئے مشکلات پیدا کرنا۔ پاکستان کیلئے داخلی سکیورٹی اور استحکام کو مشکل بنانا۔ جس کی مزید تفصیل یہاں بتانا غیر ضروری ہو گا۔ بس اتنا ہی کافی ہے کہ جب آپ اس طرح کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو مقصد پاکستان کو احساس دلانا ہوتا ہے کہ اگر ممبئی جیسا ایک بھی وقوعہ بھارت میں ہوا تو اس کو بلوچستان سے ہاتھ دھونا ہونگے۔ جس کیلئے نہ تو فوج کے استعمال کی ضرورت ہے نہ ہی اسلحہ کے استعمال کی۔ پاکستان میں اڑھائی برسوں کے دوران چالیس ہزار لوگ طالبان نے مار دئے۔ تین سو فوجی چار کرنلوں سمیت اغوا کر لئے گئے اور اب پاکستان کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ کیا کرے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ اگر طالبان پاکستان میں کامیاب ہو گئے تو وہ بھارت کا رخ کریں گے تو میں اس مسئلے پر اتنا ہی کہتا ہوں کہ ہمارے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں طالبان سے کوئی خطرہ وہ جب بھارت کا رخ کرینگے تو ان سے نبٹ لیں گے پہلے پاکستان خود تو ان سے نبٹے وغیرہ وغیرہ“
 امریکہ چین کا براستہ بلوچستان و صوبہ خیبر پی کے‘ گوادر تک رسائی کو روکنا چاہتا ہے تو بھارت پاکستان کی سلامتی کے در پے ہے اور اگر بھارت افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ اور مضبوط رابطوں کی بات کرتا ہے تو کچھ غلط نہیں کہتا۔ اس کی تازہ مثال ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اﷲ کے مارے جانے سے متعلق افغان انٹیلی جنس کی طرف سے جاری کردہ افواہ ہے جسے بغیر تصدیق کے گلف نیوز جیسے اخبار کے ڈپٹی ایڈیٹر نے اخبار کے پہلے صفحہ پر اپنے نام سے شائع کیا۔ مقصد ٹی ٹی پی کی قیادت کو تحفظ اور پاکستان کو دھوکہ دینا تھا تاکہ آئندہ بھی پاکستان میں دہشت گردی کے کھیل کو جاری رکھا جا سکے۔ جہاں تک پاکستان میں داعش کے حوالے سے وال چاکنگ یا پکڑے گئے لٹریچر اور انکے حمایتیوں کی موجودگی کا مسئلہ ہے تو یہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کے متحد ہونے اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے م¶ثر کارروائیوں کے بعد دہشتگردوں میں پھیلنے والی مایوسی کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ پھر داعش کی طرف سے جاری کردہ اسلامی اسٹیٹ کے نقشے میں صوبہ خراسان (جس میں پاکستان و افغانستان کو اس کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے) کا ذکر بھی متاثر کن ہے اور ہمارے خطے میں لوگ داعش کی شام و عراق میں موجودگی کے اصل عوامل اور اس کی پشت پر موجود سی آئی اے ‘ موساد اور ایم آئی 5 کے کردار پر غور کئے بغیر اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ جسے بھارت اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ طالبان و القاعدہ کی گم ہوتی شناخت کو نیا نام دے کر یہاں خونی کھیل کو جاری رکھا جا سکے۔