بی بی آمنہ رضی اللہ عنہ تیری گود کو سلام

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی
بی بی آمنہ رضی اللہ عنہ تیری گود کو سلام

ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں حضور پر نور محمد مصطفے کی حیات طیبہ قرآن ناطق ہے۔ 12ربیع الاول کو وحدہ لاشریک یعنی لا الہ الا للہ، ایمان کی تکمیل یعنی محمد الرسول اللہ کا موجب بنا۔
جب کائناتِ خدا میں احمد مجتبیﷺ کی آمد ہوئی تو وہ لمحے اسی کائنات کے لئے پرکیف بنے۔ کائنات کا ہر ذرہ جگمگا اٹھا، درود و صلٰوة کے غنچے کھل اٹھے اور شان رحیمی نے خود اشارہ دیا ”اے نبی ہم نے آپ کو گواہی دینے والا (شاہد) ڈرانے والا (نذیر) اللہ کی طرف بلانے والا (داعی اللہ) اور روشن چراغ (سراج المنیر) بنا کر بھیجا۔
پھر قرآن نے فرمایا لقد کان لکم فی رسول للہ اسوة حسنہ بے شک اے نبی آپ اخلاق کے بہترین درجے پر ہیں۔ یہ وہ عظیم ہستی کی آمد کا دن ہے کہ جس ہستی کو، فتح مبین، حوض کوثر، کتاب روشن عطا ہوئی۔ 12 ربیع الاول کا دن ایسا معتبر دن ہے کہ جس دن پہچان حق کےلئے وسیلہ رحمت اس دنیا میں آیا۔ اس دنیا میں آنے والی ذات مقدس کسی گروہ، قوم یا قبیلے کےلئے نہیں تھی بلکہ پوری نوع انسان کے لئے رشد و ہدایت کا بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے رہنمائی و رہبری کا وسیلہ تھی۔ وما ارسلنک الا رحمتہ اللعالمین اے نبی بے شک ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ اللہ عزوجل پوری کائنات اور کائنات کے اندر موجود ہر نوع پر ہر طرز مخلوق کا خالق ہے، مالک ہے، ازل سے ابد اور ظاہر و باطن ہے اور اسی کی ذات واحد نے قائم و دائم رہنا ہے اس کے تصرف میں ہر شے ہے آدمؑ تا سید الانبیائ جتنے پیغمبر اس روئے زمین پر تشریف لائے ان میں ذات باری تعالیٰ نے نبی آخر الزماں کی ہستی کو فرش سے اٹھایا اور عرش کی سیر پہ لے گیا۔
پھر نبیوںؑ کی امامت کرنے کا اعزاز بخشا، آسمانی فرشتے راہ ہوئے تو بارگاہ الٰہی نے عرش پر آمد رسول کو اس طرح زیبا بنایا کہ نبی سے خود کلام کیا۔ دوزخ و جنت کے تمام نظارے ہویدا کئے۔ گویا کہ اللہ نے خود اپنے اس رحمتوں والے کو اپناراز دار بنایا اور محبوب بنایا۔
قرآن سورة الطور کی آیت 148 میں فرماتا ہے ”کہ آپ ہماری آنکھوں کے قریب ہیں“۔ اللہ نور ہی نور ہے۔ تو آپ کی ہستی اللہ کے نور میں سے ہے یہ آپ ہی کی ذات ہے کہ جسے نور من نور اللہ لکھا گیا۔ وہ نہ سردار ہے، نہ رئیس عرب ہے اور نہ شہنشاہ ہے، بادشاہت اس کے پاس نہیں حاکمیت کا وہ مالک نہیں بس وہ نور الٰہی کا حصہ ہے.... وہ یتیم ہے، غریب ہے، فاقوں میں ہے، مسکین ہے، پیٹ پر پتھر باندھنے والا ہے مگر اس کی شانِ نور کی تجلی دیکھو کہ وہ مالک ارض و سماءکا محبوب ہے۔ جس کے بدن مبارک پر کھردری، سخت چٹائی کے نشان ہیں مگر اس اللہ کے نورکی رحمت آسمانوں تک ہے جسے دولت کے انبار، حسن کی دیویاں اور بڑی سے بڑی ترغیب دینے والے قدموں میں راحت و عیش رکھنے کے خواہش مند ہیں مگر آپ یا امتی یا امتی پکارتے اور فرماتے ہیں کہ میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج بھی رکھ دو تو امت کی بھلائی کا سودا نہ کر پاﺅ گے کہ آپ رحمة للعالمین ہیں۔ سبحان اللہ!
یعنی جس طرح اللہ تبارک و تعالی رب اللعالمین ہے اسی طرح آپ رحمة اللعالمین ہیں آپ کو مسلمین کے لئے رحمت اسی طرح نہیں سمجھا جا سکتا جس طرح مالک کل جہاں کو مسلمین کا رب محض نہیں کہا جا سکتا۔ یہی فلسفہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عنایات مشرق و مغرب شمال و جنوب ہر چار سو موجود نظر آ رہی ہیں اور ایسے ہی تعلیمات نبوی کے پرچار کا احاطہ وسیع و عریض کل کائنات کو سمیٹے ہوا ہے۔
 انصاف، مساوات، رواداری، عفودرگزر، قناعت، سادگی، احترام آدمیت، صبر و تحمل، نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون، برائی کے کاموں سے بچنے و بچانے میں ایک دوسرے کا ساتھ (امربا المعروف و نہی عن المنکر)، بچوں پر شفقت، عورتوں سے بھلائی، بزرگوں کا لحاظ، شیریں گفتگو، دل کی صفائی، فکر کی پاکیزگی، یتیموں، مسکینوں، غریبوں ضرورت مندوں کی حاجت روائی، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات پہ آقا نے خود عمل پیرا ہو کر دکھایا۔ اگر اس وقت بھی احساس ہو گیا ہے کہ ہم منافقت، غیبت، عیب جوئی، حق تلفی، دشنام طرازی و زمانہ جاہلیت کے خرافات میں پڑ کر دنیا کے عارضی فائدے کے لئے عاقبت کا سودا کر رہے ہیں تو بھی رحمة اللعالمین کی طرف سے تزکیہ نفس کی طرف پلٹ جانے کی تعلیم و ترغیب آخری دم تک موجود ہے۔ توبہ استغفار کی قبولیت کے لئے صرف دل کے اندر سچا احساس ہونا ضروری ہے اور بندئہ خدا اس طرح ہو جائے گا کہ جیسے گناہ کیا ہی نہ ہو۔
 توبہ کا سہارا بھی ذات عالی شان محمد مصطفے کی رحمت کی بھیک ہے جس سے ہم سب خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں کلمہ، نماز، روزہ، حج، زکوة، ایمان والوں کے ایمان کے لئے بنیادی ستون ہیں تو حقوق العباد کی ادائیگی جنت کی ضمانت ہے۔ جنت کے حصول کی شرط بہترین شخص ہونا ہے اور ہمارے حبیب کے نزدیک بہترین شخص وہ ہے جو متقی ہے، بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں، بہترین شخص وہ ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہے.... اور پھر عرب جو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے عالم، ذاکر، عابد، زاہد بن گئے۔
 ڈاکو اور لٹیرے محافظ بن گئے۔ کہیں مجسم شیطان سمجھنے والے اور کہیں جھوٹی غیرت میں آ کر زندہ درگور کرنے والے عورت کو قابل تکریم سمجھنے لگے۔ عربی، عجمی، کالے گورے کے فرق مٹ گئے، بادشاہ غلام ایک صف میں کھڑے ہو کر ایک رب کے آگے سر بسجود ہو گئے، دولت، جاہ و حشمت، رنگ، نسل خاندانی نخوت کے تراشے بت ٹوٹ گئے۔ آج بھی نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر یا امتی یا امتی پکارنے والا تیرے لئے رحمتوں کا سوال کر رہا ہے کہ تم امن والے بننے کی سوچ تو پیدا کرو۔ اے بی بی آمنہؓ تیری گود کو سلام۔