باتیں شیخ روحیل اصغر کی

کالم نگار  |  بیدار سرمدی
باتیں شیخ روحیل اصغر کی

لاہورمیں قومی اسمبلی کے جو دو تین ارکان عوامی اور قومی مسائل پر اپنے جماعتی (مسلم لیگ ن) نقط نظر کا کھل کر اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی نقطہ نظر بھی رکھتے ہیں اور طویل سیاسی تجربات کی بنیاد پر اپنی پارٹی میں اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنے حلقے میں ایک وسیع حلقہ اور ووٹ بھی رکھتے ہیں ان میں شیخ روحیل اصغر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ لاہور میں قومی اسمبلی کا حلقہ 124 لاہور کے ان علاقوں پر مشتمل ہے جن کا ووٹ بنک مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے حالیہ دور اقتدار میں ترقیاتی کاموں کی بجائے جذباتی وابستگی کی بنیاد پر مسلم لیگ ن کا تصور ہونے لگا ہے۔ ماضی میں مغلپورہ اور اس سے وابستہ ریلوے آبادیاں اور دوسری بستیاں سابق وزیراعظم بھٹو اور بعد میں ان کی جماعت کے امیدواروں کا یقینی ووٹ بنک رہیں۔ اب صورت حال اور ہے، شیخ روحیل اصغر کی اپنی خاندانی تاریخ بھی کشمکش کی آئینہ دار رہی ہے۔ اب ان کی فیملی میں سکون کا دور آیا ہے تو سیاسی محاذ پر وہ اپنی ٹیم کے ساتھ جن میں ان کے فرزند خرم روحیل اصغر بھی شامل ہیں۔ خدمت خلق کے کاموں میں مصروف ہیں۔ اسی پس منظر میں گذشتہ روز ایک نشست آزاد ویلفیئر فاﺅنڈیشن رجسٹرڈ کے پلیٹ فارم پر منعقد ہوئی جس میں فاﺅنڈیشن کے سر پرست پاکستان مزدور محاذ کے جنرل سیکرٹری اور منشور کے ایڈیٹر شوکت چوہدری نے بھی خاص طور پر شرکت کی۔ یہ ایک مخصوص اجتماع تھا جس میں خون کا عطیہ دینے والے، سپورٹس، کلچرل، سٹڈی سرکل اور علمی ونگ سمیت مختلف شعبوں کے صدور اور چیئرمینوں نے بھی شرکت کی اور فاﺅنڈیشن کے صدر انیب ظفر نے تفصیل کے ساتھ عوامی خدمت میں اپنے ساتھیوں کی خدمات کا تذکرہ کیا۔ اہم باتیں شیخ روحیل اصغر کی تھیں جو اس وقت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے بھی چیئرمین ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب روٹین کی عدالتوں اور پولیس پر خوف کے سائے مسلط ہوں گے تو دہشت گردی جیسے واقعات کے ملزموں کا ٹرائل کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کا علاج یہی تھا کہ فوجی عدالتوں میں ایسے مقدمات کا فیصلہ ہو۔
مسلم لیگ ن نے حالیہ ماحول میں جس طرح کے سخت فیصلے کئے ہیں کوئی اور سیاسی جماعت ایسا نہیں کرسکتی تھی۔ ان کا یہ کہنا درست تھا کہ تمام ممالک اپنے اپنے مفادات کی بات کرتے ہیں۔ جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے، تو ہمارے ہاں بعض ممالک کے بارے میں خوش فہمی ہے کہ وہاں سب کچھ ٹھیک ہے کرپشن نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے انتظامی حالات بہت بہتر ہیں۔ دوسرے ملکوں میں منظم کرپشن ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں تو سادگی بدنامی کا باعث بن گئی ہے۔ ”کسی نے پٹواری سے فرد لینی ہو تو وہ سب کے سامنے کہہ دیتا ہے، نکالو پیسے“ ہمارے ہاں دہشت گردی کے خوف نے اقتصادی صورت حال کو جام کر کے رکھ دیا ہے۔ اب نئے فیصلوں سے جب دہشت گردی کا جن قابو میں آئے گا تو اقتصادی حالات بھی تیزی سے بدلیں گے۔ ایک اہم بات روحیل اصغر نے یہ کہی کہ ہماری تنظیموں اور جماعتوں میں کارکنوں کی اصطلاح ختم ہونی چاہئے اصل میں رشتہ بیٹیوں اور بھائیوں کا ہونا چاہئے۔ وہ آزاد ویلفیئر فاﺅنڈیشن کے کارکنوں کے جذبے سے کام سے متاثر ہیں اور ان کو کارکن کی بجائے بیٹے اور بھائی کہہ کر پکارنا پسند کریں گے۔ ان کا کہنا تھا لاہور میں فلاح و بہبود کا جذبہ محمد اقبال ظفر جیسے دوستوں کی وجہ سے زندہ ہے جو دیوانوں کی طرح لوگوں کو متحرک رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہی جذبہ سیاسی جماعتوں میں بھی زندہ ہونا چاہئے کیونکہ ماضی میں بعض سیاسی جماعتوں پر سیاست برائے خدمت کی بجائے سیاست برائے دولت کا تاثر ابھرتا رہا ہے۔