قوم کی توقعات ہی امتحان

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
 قوم کی توقعات ہی امتحان

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا بلوچستان میں جیپ پر نواز شریف کے ساتھ بیٹھنا پچھلے ہفتے زیر بحث رہا۔کسی کی رائے یہ تھی ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیچ پر ہے تو کسی نے کہا کہ پالیسی اور جیپ کو ڈرائیو کرنے والے واضح ہیں۔ جبکہ کسی پر نواز شریف اور جنرل راحیل کا ساتھ سفر کرنا بجلی بن کر گرا۔ اس سے پہلے بھی افواہیں آرمی چیف کی مدت ملازمت کو لے کر گردش کر رہی تھی ۔ میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان کے نام سے چار آپشن کی بھی سوشل میڈیا پر دھوم رہی۔ ایک جنرل کیانی آپشن کہ چپ کرکے بیٹھ جائیں اور سیاستدان ملک کے ساتھ جو کر رہے ہیں کرنے دیں۔ دوسرا جنرل جہانگیر کرامت آپشن کہ اگر دبائو بڑھ جائے تو استعفی دیکر خود چلے جائیں۔ تیسرا جنرل کا کڑ آپشن ہے کہ ان کو چلتا کریں۔چوتھا پرویز مشرف آپشن ہے کہ ٹیک اوور کر لیں اور ملک کو مصیبت سے نکالیں ۔مگر اصول پسند چیف نے توسیع نہ لینے کا اعلان قبل ازوقت کر کے ان سب افواہوں کو ختم کر دیا ۔ اسٹیبلشمنٹ ، آرمی کاسیاست میں رول تاریخ کا حصہ ہے ۔
مگر اسی رول نے آرمی کے لیے کئی روڑئے اٹکائے اور فوج کے باوقار ،مثبت کردار اور شہادتوں کے باوجود چند جنرلزکے فیصلوں نے اس کی ساکھ کو متاثر کیا۔مسلم لیگ ن جب اقتدار میں آئی تو ایک ہمالیہ جیسا فیصلہ آرمی چیف کی تعیناتی کا تھا کیونکہ نواز شریف کے اس سے پہلے جنرل مشر ف کے فیصلہ نے ہی ان کی حکومت کا بوریا بستر گول کیا ۔ جنرل راحیل شریف کا بطور آرمی چیف تقرر اب تک نوازشریف صاحب کے فیصلوں میں اہم فیصلہ تھا اور حسن اتفاق کہ یہ نہ صرف نواز شریف کی حکومت کیلئے درست رہا بلکہ اس قوم اور ملک کیلئے بھی پروفیکٹ رہا۔اس کی وجہ سے نوازشریف کی دانشمندی یا اصول نہیں بلکہ جنرل راحیل شریف کا اپنا ایک مکمل پس منظر ہے ۔
جب جنرل راحیل شریف نے فوج کی کمان سنبھالی تو اس وقت دہشت گردی کا ناسور وطن عزیز کی جڑو ں کو کھوکھلا کر رہا تھا۔جنرل راحیل شریف نے اب تک نہ صرف دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قوم کو ایک کیا بلکہ محاذ ہو یا داخلی معاملات سب میں ملک کے دفاع کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ ملک سے کرپشن جیسی لعنت پر بھی قوم کی بھرپور ترجمانی کی۔ پاکستان کا امیج بہتر بنانے جیسے بڑے کام کیے ہیں بلکہ فوجی جوانوں میں بھی ایک جذبہ ملک و قوم کی خاطر جنگ لڑنے کا حوصلہ پیدا کیا۔ اور اس وقت دنیا کے بہترین ملٹری کمانڈر کی لسٹ میں نمبر ون ملٹری کمانڈر ہیں۔
آرمی چیف نے اب فوکس دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان کو کیا ہے تاکہ مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے اسے کسی انجام کو پہنچائیں۔ اور وہ ہمیں کراچی میں آرمی چیف کی زیرصدارت اجلاس، پشاور اور دوسرے اعلی سطی اجلاس سے بخوبی پتہ چلتا ہے۔ اور دوسرا جنرل راحیل شریف کے توسیع نہ لینے کے فیصلے کے بعد لوگوں نے جنرل راحیل شریف کے حق اور ان کی ضرورت کے حالات کی خاطر کے مطالبے شروع کر دئیے ہیں۔ اسلام آباد پنڈی کی سڑکوں پر آجکل جنرل راحیل کے حق میں مہم چل رہی ہے۔ مختلف کھمبوں پر پوسڑز جنرل راحیل شریف کیلئے لگائے ہیں جن پر لکھا ہے کہ ’’خدا کیلئے۔ جانے کی باتیں جانے دو‘‘۔ یہ مہم فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لائونچ کی ہے اس نے اپنی ایک سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرر بھی کروائی ہے جس کا نام ہے Move on Pakistan اب اس شخص کے کیا مقاصد ہیں۔ یہ تو خدا جانتا ہے۔ کیا یہ شخص آرمی چیف کی شہرت کو اپنی سیاسی پارٹی کیلئے کیش کروانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہو۔ یا پھر عام شہری اور قوم کا فرد ہونے کی حیثیت سے اظہار کر رہا ہے۔ جو پاکستانی قوم جنرل راحیل شریف کی شخصیت میں دیکھ رہی ہے۔ یہ چیلنج جنرل راحیل شریف نے خود لیا ہے ابھی تک جتنے بھی فیصلے‘ اقدام کیے۔ وہ سب قوم کی امنگوں اور ملک کی بقا کے عکاس ہیں۔ مگر ایسے میں جنرل راحیل شریف کے لیے مشکل مرحلہ اور سخت وقت ہو گا۔ کہ وہ قوم کی توقعات کے ساتھ ساتھ اپنی ساکھ کو برقرار رکھیں۔ قوم کی توقعات بنیادی طور پر یہ ہیں کہ جنرل راحیل شریف ملک کو دہشت گردی، بیرونی چیلنجز سے نکال سکتے ہیں مگر اس کے ساتھ، دھوکا، جھوٹ، فریب کرنے والوں کو بھی بے نقاب کریں۔ دہشت گردی اور کرپشن ایسی بیماریاں ہیں جو ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہیں۔ اگر اب بھی اس سے نجات نہ ملی تو آئندہ نسلیں بھی اس ناسور کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔ اب یہ توقعات ہی جنرل راحیل شریف کیلئے امتحان بھی ہے اور چیلنج بھی۔ مگر ایک فیصلہ پھر وزیراعظم نوازشریف نے کرنا ہے کہ وہ جنرل راحیل شریف کو کسی طرح روک لیں۔ شاید حکومت کے لیے ناگزیر ہوگا کہ وہ جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت کے بعد بھی ڈرائیونگ سیٹ پر رکھے۔ مگر مشکل یہ ہو گی کہ آرمی چیف اپنی اس مقبولیت کو اپنی مدت کے بعد اسی آب وتاب کے ساتھ قائم رکھ پائیں گے یا نہیں۔