ہمیں کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

کرپشن کے خلاف آگاہی مہم کے طور پر نیب پنجاب نے 9 دسمبر تا 14 دسمبر 2013ءہفتہ انسداد بدعنوانی منانے کا اہتمام کیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف تعلیمی اداروں اور الحمرا آرٹ گیلری میں مختلف نوعیت کے پروگراموں کا انعقاد ہوگا۔ جس میں شہرہ آفاق مصور‘ اساتذہ‘ علماءکرام‘ سرکاری ملازمین‘ این جی اوز کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے اراکین شرکت کرینگے۔ یہ تمام پروگرام اقوام متحدہ کے اشتراک سے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ جن کا مقصد معاشرے میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کی وباءکی روک تھام کے علاوہ عوام الناس میںاگاہی کا پیدا کرنا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کیمطابق نواز شریف کے دورمیں کرپشن کم ہوگئی ہے اور پاکستان کی رینکنگ 10 درجے بہتر ہوگئی۔ سندھ میں موجودہ حکومت پچھلے دور کے مقابلے میں بہتر رہی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سی پی آئی رپورٹ میں پاکستان کی رینکنگ 2011ءمیں 42تھی جو 2012ءمیں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مزید خراب ہوکر 33 تک جا پہنچی اب یہ رینکنگ 2013ءمیں 10درجے بہتر ہوگئی ہے۔ تجزیہ نگار اس رپورٹ کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ کرپشن اس رپورٹ سے کہیں زیادہ ہے پاکستان عوامی تحریک و تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ حکومت کا ایجنڈا صرف کرپشن ہے کرپشن اور دھوکہ دہی کے تدارک کیلئے 29 دسمبر کو وہ احتجاجی تحریک چلائینگے۔ اس وقت ملک میں چاروں طرف لوٹ مار مچی ہوئی ہے اور سیاست و اقتدار دولت کمانے کا ذریعہ اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے اگر کرپشن کے طوفان کے آگے بند نہ باندھا گیا تو حکومت اور جمہوریت خطر ے میں پڑ سکتی ہے ہمارے ملک میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جن افسران کو عدلیہ کے حکم پر جیل جانا پڑا، انہیں باہر نکالنے کےلئے قیدیوںکی سزا میں تخفیف کر دی گئیں ۔ دوسری جانب این آئی سی ایل اسیکنڈل کی تحقیقات کرنیوالے افسر کی مثال ہے جسے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود محض اس کام سے روکا گیا کہ مذکورہ اسکینڈل کے ملزموں میں حکومتی بڑوں کے قریبی عزیز شامل ہیں ۔ موجودہ حکومت پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی لوگ احتساب کا غیر جانبدار قومی ادارہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اسلئے بھارت کی مثال قابل تقلید ہونی چاہےے جہاں سیاسی جماعتوں اور حکومتی پارٹی نے رشوت کے کرپشن اور کالا دھن ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ ہمارے پاکستان میں بھی ایسا ہی ہونا چاہےے لیکن ہمارے حکمران اور سیاستدان کبھی ایسا نہیں ہونے دینگے۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی ایف بی آر اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل سمیت دیگر اداروں کی رپورٹس کیمطابق ملک میں روزانہ ہونیوالی کرپشن کا حجم 10 سے 12 ارب روپے ہے ۔ نیب نے اس کا تخمینہ 7 ارب روپے لگا یا ہے ۔ ریگولیٹری نظام کا خاتمہ پاکستان کو ناکامی کی طرف لے جا رہا ہے اس حقےقت کو اب تسلیم کرلینا چاہےے کہ ہم ایک کرپٹ قوم بن چکے ہیں تاہم اس تاثر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی بجائے متحدہو کر نظام کو بچانے کےلئے کرپشن کیخلاف جدوجہد کرنی ہوگی۔ من حیث القوم اگر ہم میں یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ اگر ملک میں روزانہ دس سے بیس ارب روپے کی کرپشن کی مکمل طور پر روک تھام نہ بھی ہو سکے تو کم از کم کرپشن کی روک تھام کےلئے کئے گئے اقدامات کے نتیجے میں اگر روزانہ چھ ارب روپے ہی کرپشن کی نذر ہونے سے بچائے جا سکیں تو مہینے میں ایک سو اسی ارب روپے سے ہماری معیشت کو جو سہارا ملے گا اسکے نتیجے میں سا ل میں تقریبا دو ہزار ایک سو ساٹھ ارب روپے سرکاری خزانے میں عوامی فلاحی اقدامات کےلئے دستیاب ہونگے۔جن کو توانائی کے بحران اور دیگر نافع منصوبوں پر خرچ کرنے سے بہت جلد مسائل و مشکلات کا حل بھی نکل آئیگااور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر بھی گامزن ہو سکتا ہے ۔ حال ہی میں امریکہ نے آئندہ بیس سال کے ممکنہ عالمی منظر نامے کی رپورٹ جاری کر دی ہے رپورٹ میں کہا گےا ہے کہ 2030 ءتک پاکستان کو مزید سیاسی و معاشی مسائل کا سامناہوگا۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کو نسل کی رپورٹ میں پاکستان کو ناکامی کے خدشے سے دو چار ریاستوں میں 12 واں نمبر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان ،افغانستان، بنگلہ دیش اور صومالیہ میں کمزور حکمرانی مسائل میں اضافہ کریگی ۔ مستقبل قریب میں توانائی اور خوراک کا بحران پاکستان اور افغانستان کےلئے سنگین مشکلات پیدا کریگا۔اگر اسکی روک تھام نہ کی گئی اور وطن عزیز پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا تو آمد ہ سالوں میں خدانخواستہ پاکستان واقعی مشکلا ت میں گھر سکتا ہے دیکھا جائے تو اس کی ابتدا ہو چکی ہے کرپشن اور بد عنوائی کی روک تھام کےلئے سپریم کورٹ سے لےکر حکومتی خزانے سے فنڈ لینے والے تمام چھوٹے بڑے اداروں میں شفاف طریقے سے آڈٹ ہونا چاہےے اور کسی بھی جانب سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے پر سخت احتساب اور قانونی کار وائی سے احتراز نہیں کیا جانا چاہےے۔