کرپشن کا ناسور!

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ

وطن عزیز ویسے تو ان گنت مشکلات سے دوچار ہے۔ مسائل کا ایک کوہِ گراں ہے۔ مصائب کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ معاشی ناہمواریاں ہیں۔ معاشرتی ناصبوریاں ہیں۔ کئی ملاقاتیں بیک وقت اس کی سلامتی اور خوشحالی کے درپے ہیں لیکن سب سے بڑی لعنت جسے ام الخبائث کہا جا سکتا ہے کرپشن کی ہے۔ باقی سب برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ نااہلی، جھوٹ، بددیانتی، مکروفریب، نااہلی کے متعلق کہا جاتا ہے یہ کرپشن کی بدترین قسم ہے۔ اس کے لغوی معنی بھی یہی ہیں۔ یہ اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے۔ گلی سڑی بدبودار ایسی کیفیت جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہ جونک کی طرح چمٹ کر اسے دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راشی اور مرتشی دونوں کو راندہ درگاہ قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کرپٹ صرف اس کو کہا جاتا ہے جو مبلغات کے لین دین میں ملوث ہو۔ درحقیقت وہ شخص بھی اتنا ہی سزاوار ہے جو intellectually dishonest ہو۔ ہمارے کچھ سیاستدان ایسے ہیں جو پیسہ تو نہیں لیتے لیکن اپنے اور حواریوں کے ناجائز کام کروانے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں اور اس طرح کار سرکار میں مداخلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ ببانگ دہل اتراتے پھرتے ہیں کہ ایماندار ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت بھی ایسا ہی سمجھتی ہے۔ اس سے کسی قوم کے ETHDS انداز فکر کا پتہ چلتا ہے۔
بدقسمتی سے بیس کروڑ آبادی کے اس ملک میں کرپشن ایک NORM بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرز زندگی۔ ہر شخص کو پتہ ہوتا ہے کہ زمین کا فرد حاصل کرنے کیلئے پٹواری کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے۔ جائز مقدمہ درج کرانے کیلئے بھی تھانے والے نذرانہ طلب کرتے ہیں۔ مقدمہ جیتنے کیلئے عدالت کو رام کرنا پڑتا ہے۔ موگے سے پانی لینے کیلئے محکمہ انہار کو نہال کرنا پڑتا ہے۔ محکمہ تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر محکمہ جات کے اہلکار بھی اپنے حصے کا pound of flesh مانگتے ہیں۔ یہ معاملات صرف سرکاری محکموں تک محدود نہیں۔ ہماری تاجر برادری بھی حسب استطاعت اس کار خیر میں حصہ لیتی رہتی ہے۔ ایک عظیم رائٹر کے الفاظ میں ہماری تجارت کے سنہری اصول کیا ہیں؟ دودھ میں پانی، ادب میں عریانی، آٹے میں برادہ، مذہب پر نفرت کا لبادہ، گھی میں تیل، حکومت میں رشوت کا میل“
کرپشن کی وجوہ کیا ہیں؟ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ تنخواہیں اس قدر کم ہیں کہ ڈیرہ چلانے کیلئے اہلکار رشوت لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ostentation نام و نمود کی خاطر لوگ ایک ایسی طرز زندگی کے خوگر اور خواہاں ہو جاتے ہیں جو جائز آمدنی میں ممکن نہیں ہوتا۔ نتیجتاً اس ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنا پڑتی ہے۔ جب ایک مرتبہ آدمی کو رشوت کی لت پڑ جائے تو پھر وہ ضمیر کی ہر خلش سے آزاد ہو جاتا ہے اور اپنے اعمال کے جواز کیلئے بودی دلیلیں تلاش کرتا رہتا ہے۔ ٹیکس چور کہتے ہیں ہم کیوں پورا ٹیکس ادا کریں۔ یہ رقم کون سی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی ہے۔ یہ حکمرانوں کی عیاشیوں اور اللوں تللوں پر صرف ہو گی۔ سرکاری اہلکار کہتا ہے میرے ایماندار ہونے سے کیا فرق پڑیگا۔ سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ راستی اپنے آب و دانے میں۔ سادہ لوحی ہے اس زمانے میں۔ ہر کوئی دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ اپنے حصے کی شمع نہیں جلاتا۔ یہ دوغلا پن دراصل حکمرانوں سے شروع ہوتا ہے اور پھر بتدریج نیچے آتا ہے۔ حکمران اگر اڑتیس کروڑ کی گھڑی باندھیں گے تو پھر اہلکاروں سے سادہ زندگی گزارنے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ان لوگوں کی اربوں روپوں کی جائیداد لندن، پیرس اور نیویارک میں ہیں۔ یورپ کا کوئی ایسا بنک نہیں جہاں انہوں نے کھاتہ نہ کھول رکھا ہو۔ مشرق وسطیٰ اور بعید میں کارخانوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ باایں ہمہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ لوگوں کو تلقین کرتے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری کریں۔ منافقت ہماری سیاست اور ثقافت کا سکہ رائج الوقت بن گئی ہے۔ کیا آپ نے کسی ایسے ارب پتی شخص کو دیکھا ہے جو نہایت دکھ بھرے انداز میں عوامی شاعر حبیب جالب کی مشہور نظم دیپ جس کے محلات ہی میں جلیں پڑھ کر ہزاروں کے مجمعے سے داد پاتا ہو۔
ترقی پذیر ممالک میں کرپشن کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ یہ نچلی سطح پر تو کسی نہ کسی رنگ میں رہتی ہے لیکن جس بے حیائی اور ڈھٹائی کے ساتھ میگا کرپشن سکینڈلز سامنے آ رہے ہیں اسکی ہماری چھیاسٹھ سالہ قومی زندگی میں مثال نہیں ملتی۔ لیاقت علی خان، غلام محمد، سکندر مرزا، سہروردی، چودھری محمد علی، فیروز خان نون اس ملک کے سربراہ رہے۔ آج انکے خاندان گوشہ گمنامی میں چلے گئے ہیں۔ ایوب خان کے متعلق بڑا شور سنتے تھے۔ اسکے بیٹے شوکت ایوب کو 1965ءمیں حبیب بنک نے تین لاکھ روپے کا قرضہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یحیٰی خان قومی مجرم تھا لیکن ہوس زر سے کوسوں دور تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک پائی تک کی کرپشن نہیں کی۔ ضیاءالحق کے خلاف بھی ذاتی طور پر کوئی مالیاتی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ اعجازالحق کا معیار زندگی دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پھر وہ کون لوگ ہیں جن کے یورپ میں محلات ہیں۔ ان کے سوئس بنکوں میں صرف اکاﺅنٹ نہیں ہیں چاہیں تو وہ بنک خرید بھی سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جس بے دردی، دیدہ دلیری اور سینہ زوری سے ملکی دولت کو لوٹا وہ قومی المیہ ہے۔ آصف علی زرداری، گیلانی اور راجہ رینٹل ناتجربہ کار تھے۔ کھانے کا ”صحیح طریقہ“ نہیں جانتے تھے اس لئے زیادہ بدنام ہوئے ان کی چوریاں پکڑی گئیں۔ موجودہ حکمران نہایت زیرک ہیں۔ آخر تجارت اور تجربہ کاری کا کچھ فائدہ تو ہونا چاہئے۔ غالب نے ویسے ہی تو نہیں کہا تھا شرع و آئین پر مدار سہی۔ ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی!