ڈرون حملے اور ہماری حالت زار

کالم نگار  |  محمد یوسف عرفان

ڈرون حملوں کا واحد حل ڈرون گرانے والوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنا ہے۔ زیادتی ‘ زیادتی ہی ہے خواہ یہ دوست کی طرف سے ہو یا دشمن کی جانب سے ہو۔ قائداعظم کا فرمان ہے کہ ان کی ضمانت جنگ کی تیاری ہے۔ جو قوم نڈر ہو کر مرنا نہیں جانتی‘ سے ڈرا کر مار دیا جاتا ہے عرب شاعر زھمیر بن ابی سلمیٰ کہتا ہے کہ جس گھر کے لوگ اپنے صحن کی حفاظت مسلح ہو کر نہیں کرتے‘ وہ صحن مسمار کر دیا جاتا ہے جو دشمن کو دبا کر نہیں رکھتا‘ اسے دبا لیا جاتا ہے۔
حملہ آور کو دبانے‘ بھگانے اور مارنے کے لئے افراد‘ احزاب فوج اور اسحلہ اتنا ضروری نہیں ‘ جتنا محنت‘ ہمت اور جرات کا ہونا لازمی مسلمان کی جنگ ایمان سے ہوتی ہے‘ بے ایمانی سے نہیں‘ سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کے پاس فوج‘ اسلحہ‘ نیت جرات اور ایمان موجودتھا‘ مگر میر جعفراور میر صادق کی بے یمانی کامیاب رہی کیونکہ میر جعفر سراج الدولہ کی فوج کے توپخانے کا سربراہ اور میر صادق ٹیپو سلطان کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھا اور یہ دونوں افراد اپنی اپنی ہم خیال ٹیم کے ساتھ حملہ آوروں کے حلیف تھے۔ روس نے 27 دسمبر 1979ءکی شب افغانستان پر حملہ کیا روس کا ہدف پاکستان کے بہترین وسائل اور بے بہا ذخائر تھے۔ اس وقت ضیاءانتظامیہ کے پاس دو آپشنز تھیں کہ وہ پاکستان کو روس کی ذیلی استعماری یانظریاتی آزاد ریاست رکھیں‘ عالمی برادری کے بقول (بحوالہ ریڈرز ڈائجسٹ‘ امریکی ایڈمیشن دسمبر 1988ئ‘ افغانستان اندرونی کہانی از فریڈ بارنیز) جنرل محمد ضیاءالحق نے روس کے شدید اور بے انتہا دباﺅ کی مزاحمت کی جو روس نے افغان مزاحمتی مجاہدین کا ساتھ چھوڑنے کے لئے ان پر ڈالا تھا۔ جنرل ضیاءالحق نے روسی ریچھ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اس حد تک مقابلہ کیا کہ اس سرخ ریچھ کو آنکھ چھپکنا پڑی“
روسی ناکامی کے کئی اسباب ہیں افغانستان سے روسی فوجی انخلاءکے وقت ‘ جرمن چانسلر نے بیان دیا تھا کہ افغان عوام کی کامیابی کا بنیادی سبب پاکستان جیسا ہمدرد‘ حامی اور معاون ہمسایہ ہے اگر ضیاءالحق کا پاکستان جرمنی کا ہمسایہ ہوتا تو دیوار برلن نہ بنتی۔ پاکستان کی اصولی مزاحمت نہ صرف افغانستان‘ بھارت بلکہ جنوبی ایشیاءکی جغرافیائی سلامتی کی ضمانت رہا ہے۔ کامیابی کا دوسرا سبب پاکستان کی فضائی برتری تھی۔ ضیاءالحق دور میں پاکستانی فضا میں داخل ہونے والے تمام روسی جہاز گراﺅنڈ کر لئے گئے اور عملہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ بینظیر نے اپنے دور اول میں پہلا حکم مذکورہ جہازوں اور عملے کی خیرسگالی واپسی تھا۔ جب مجاہدین نے افغانی فضا میں بھی روسی جہاز گرانے شروع کر دئیے اور سرخ افواج کے لئے افغانی زمین گوریلا حملوں کے باعث تنگ ہوگئی تو روس نے واپسی میں عافیت سمجھی جبکہ روس کی جنگی و غیر جنگی (کمک) سپلائی نسبتاً محفوظ کیونکہ روس کی سرحد افغان‘ سرحد سے ملتی تھی وادی پنج شیر کے شیر احمد شاہ مسعود نے روسی سپلائی اور پسپائی کو بھی بھرپور نشانہ بنا رکھا تھا۔ 15 فروری 1988ءکو روسی فوج انخلاءہوا مگر روس نے پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے حملہ اور امریکہ و اتحادی ممالک کے ساتھ امن اور دوستی کا نام نہاد معاہدہ کیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنا دفاع کر سکتا ہے؟ یا تماشائی اور حلیف رہ کر (خاکم بدہن) معدوم ہو جائے گا؟ امریکی فوجی انخلاءروسی فوجی انخلاءکی طرح دھوکہ ہے آئندہ امریکہ خطے میں قوت بن کر رہے گا اور خرچہ بھی کم ہو گا نیز پاک افغان علاقوں میں خیالات شدید ترین ابتری کا شکار ہوں گے۔ پاکستان نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور دباﺅ پالیسی سے آزاد ہو کر خود مختار پالیسی نہ اپنائی تو پاکستان اندرونی و سرحدی بربادی کا منظر پیش کرے گا۔ اس وقت پاکستان میں سیاسی عسکری اور مزاحمتی کھچڑی بنی ہوئی ہے۔ اکابرین میں مزاحمت اور حمایت بیک وقت ہے۔ نیٹو سپلائی کو روکنے کےلئے دھرنا‘ سی آئی اے کے خلاف امریکہ میں مقدمہ وغیرہ شامل ہیں افغان جہاد کا دور اول ضیاءالحق کا تھا‘ جو مضبوط اور مستحکم قومی پالیسی کا دور تھا جس میں پاکستان ایٹمی قوت‘ بہترین میزائل ٹیکنالوجی‘ اور بحری‘ بری اور فضائی برتری کا حامل ملک بنا۔ دشمن کو پاکستان کی طاقت کا اندازہ ہے اور وہ پاکستان کو طاقتور جواب سے قبل ہی شکست وریخت کا شکار کرنا چاہتے جیسے پاکستان کو ذیلی یا آزاد ریاست میں ہے ایک کادو ٹوک فیصلہ جلد یا بدیر کرنا پڑے گا۔ ڈرون حملے اور ٹارگٹ کلنگ پاک افغان مزاحمتی قوتوں کو بانجھ کر دے گی۔