ڈرامہ دَور۔۔۔اور کشمیر ایشو

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

پاکستان میں کئی دور گزرے، کبھی آمریت مسلط رہی، کبھی جمہوریت کا دور دورہ، اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے بعد کے دورکا تجزیہ کیا جائے تو اسے ”ڈرامہ دَور“ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ بلاامتیاز اسکے کہ کئی سال تک آمریت رہی جس کی آغوش میں نیم جمہوری حکومت پروان چڑھی اور اسکی کوکھ سے ملوکیت قسم کی جمہوری حکومت نے جنم لیا۔ آج کی حکمرانی اُسی کا تسلسل ہے ۔ تیرہ چودہ سال سے ملک میں ڈرامہ بازی زیادہ ہی نظر آرہی ہے۔ سنا تھا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوںاور حکام کے اسی طرح دو چہرے یا چہرے کے دو رُخ ہیں۔عوام کے سامنے والا اُجلا اُجلا، نکھرا نکھرا اور روشن روشن جبکہ دوسر اسکے برعکس ہے۔ اداروں میں بھی ڈرامہ بازی جاری ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اس میدان میں سب کو مات دے گئے۔ وہ میڈیا ڈالرنگ بننے کا فن جانتے تھے اور اس شعبے کے مایہ ناز فنکار ثابت ہوئے۔ لاپتہ افراد کے کیس میں ان کا جلال اور اشتعال سوا نیزے پر نظر آیا۔ جو کچھ آج کہا یہ سال ڈیڑھ سال قبل کہہ اور کرسکتے تھے۔اعلیٰ عدلیہ کے پہلو میں بڑا شور رہا ، ماتحت عدلیہ کے سائلین متواتر سرخ آندھی کے بگولوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ان کا فرمان ہے کہ وزیراعظم چاہیں تو لاپتہ افراد 24 گھنٹے میں پیش ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم ایسا کیوں نہیں چاہتے؟ اس کا جسٹس صاحب سمیت سب کو علم ہے۔ البتہ ان کا یہ سوال درست ہے کہ لوگوں کو حراست میں رکھنا ہے تو قانون سازی کرلی جائے یا آرڈیننس جاری کر دیا جائے۔ حکمران ایسا شاید اس لئے نہیں کر رہے کہ کل اپنے اعمال اور کمالات کے نتیجے میں خود بھی اسی قانون کی زد میں آ جائینگے ۔۔۔ یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں فارغ کر دیا گیا۔ جو کیس گیلانی کی رخصتی کا باعث بنا اس کا کوئی نتیجہ نکلا؟ سوئس کیس کھلا نہ وہاں موجود 6 ملین ڈالر واپس آئے۔ شریف برادران کے مقدمات کبھی نہ کھل سکے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈرامہ بازیوں کے باوجود جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدلیہ کے مصلحتوں اور حکمرانوں کی فرمانبرداری سے گہنائے چہرے کو ایک نیا روپ ضرور ملا۔ دیکھئے عدلیہ کے چہرے پر یہ نکھار کب تک رہتا ہے۔
 جنرل کیانی اور جسٹس افتخار کے جمہوریت پر فدا ہونے کے جذبے کے باعث زرداری حکومت کی ڈرامہ بازیوں کا ”سنہری دور“ تھا۔ ملک میں امن، حالات، معیشت اور ادارے لوٹ مار سے تہ و بالا ہو گئے۔ سپہ سالار اعظم اور قاضی القضاة نے جمہوریت کو ڈی ریل نہ ہونے دیا۔ یہ کیا کرتے؟ کیا فوج مارشل لاءلگا دیتی اور عدلیہ معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیتی؟۔۔۔ نہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ زرداری دور کے وزیر حج قید ہوئے۔ ان سے کہیں بڑے چور آزاد رہے ۔ راجہ پرویز اشرف کی کرپشن ثابت ہوئی حکم کیا آیا؟ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ این آئی ایل سی ، ایفیڈرین جیسے بے شمار کیس ادھورے رہ گئے۔ ۔۔ زرداری حکومت نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کیاتو جنرل کیانی تڑپ اُٹھے۔انہوں نے ایسا نہ ہونے دیا۔ کیری لوگر بل میں فوج کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس کو واپس کراکے دم لیا۔ جب ملک لٹ رہا تھا‘ ادارے تباہ ہو رہے تھے تو کیانی مارشل لا نہ لگاتے ان کا وہی رویہ ہوتا جو مذکورہ دو معاملات میں اپنایا گیا۔
 ڈرامہ بازیوںاور کہہ مکرنیوں میںآج کے حکمران بھی کسی سے کم نہیں، کرپشن کا خاتمہ ترجیحات میں شامل تھا کرپٹ مافیا کو بھاٹی گیٹ میں گھسیٹنے اور پائی پائی وصول کرنے کے دعوے کیے گئے اب شاید اپنے ہی اُسی طرح کے اعمال کا تحفظ مقصود ہے کہ بالکل خاموشی ہی۔آج سب سے بڑی ڈرامہ بازی کشمیر ایشو پرہورہی ہے ،اسے سودے بازی کہاجائے تو بھی غلط نہ ہوگا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے میاںنواز شریف نے جو خطاب کیا وہ قوم کی آواز تھا۔” مسئلہ کشمیر سات دہائیوں سے حل طلب ہے ۔اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردارادا کرنا ہوگا۔ لوگوں کی مشکلات کو نظر انداز نہ کیاجائے، حقِ خود ارادیت کا مکمل احساس کیاجائے ۔کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیاجائے “۔ یہی پاکستان کا دیرینہ اور اصولی موقف رہاہے۔ اس سے محسوس ہوا کہ نواز شریف بھارت کے مقابلے میں کشمیریوں سے کہیں زیادہ محبت کرتے ہیں لیکن انکی دورخی اس وقت سامنے آئی جب لاہور میں ادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ ویزے کے خاتمے کی خواہش عود کر آئی اور اس کا اظہار بھی فرمادیا۔
پیپلز پارٹی نے بھارت کو MFN کا درجہ دینے کا فیصلہ اگلی حکومت پر چھوڑدیا تھا۔اگلی حکومت ن لیگ کی بنی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے اعلان فرمایا، بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا باب بند ہوچکا ہے ۔قوم نے ایسا ہی سمجھا لیکن حکمرانوںکے اجلے نکھرے اور روشن چہرے کے ساتھ دوسرا رخ اس وقت سامنے آیا جب تجارت کے نیم وزیر خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کیلئے 82 فیصد فوائد دے دئیے ہیں باقی 18فیصد کیلئے وہ بھارت سے ماحول کو سازگار بنانے کی حسرت لیے بیٹھے ہیں۔
 بھارت پاکستان کا بد ترین دشمن ہے۔اسکے سر لاکھوں پاکستانیوں کا خون ہے۔ اُس کو یہ خون معاف کردئیے جائیں تو بھی وہ دوستی کے قابل نہیں البتہ اسکے ساتھ اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات اس صورت میں قائم ہوسکتے ہیں کہ وہ تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل ہونے دے جو کشمیریوں کیلئے استصواب کی متقاضی ہے۔سیاچن خالی کردے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے اقدامات سے باز رہے۔اگر بھارت یہ سب نہیں کرتا تو ہمارے حکمرانوں کی بے پایاں خواہشات کے باوجود اسکے ساتھ پائیدار تعلقات قائم ہوسکتے ہیں نہ دوستی ہوسکتی ہے۔دوستی کے نام پر جو کچھ بھی ہورہا ہے اسکی حیثیت ریت کی دیوار اورپانی کے بُلبلے سے زیادہ نہیں ہوسکتی ۔پاکستانی قوم کی بھارت سے نفرت اظہر من الشمس، بھارتی پاکستانیوں سے اس سے دس گنا زیادہ نفرت کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کی نفرت کی وجہ تقسیم کے موقع پر قتل و غارت ، کشمیر پر قبضہ، مشرقی پاکستان میں علیحدگی میں کردار اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں۔ بھارتیوں کی نفرت کی وجہ پاکستان کا مسلم ریاست ہونا اور مسلمانوں کا انگریزوں سے آزادی کے بعد ہندو کی غلامی سے نکل جانا ہے۔ان کا ایجنڈا ہی تقسیم کی لکیر مٹا کر پھر سے اکھنڈ بھارت کی تکمیل ہے۔گویا جب تک دونوں ملک اپنا اپنا وجود رکھتے ہیں ،مسئلہ کشمیر کے حل سمیت تمام تر تنازعات طے ہونے کے باوجود بھی دوستی ہو ہی نہیں سکتی۔وزیر ریلوے سعد رفیق کو ریلوے کی ترقی کیلئے بھارت کی یاد ستانے لگی ہے‘ خادم اعلیٰ کی خواہش ہے کہ واہگہ کے راستے رراﺅنڈ دی کلاک تجارت جاری رہے۔
ضرورت نیشنلز م کی ہے جس کا ہمارے ہاں کے کچھ طبقات میں فقدان ہے یہ حکومت میں آجائیں تو ملک کی اس سے بڑھ کر بد قسمتی نہیں ہوسکتی۔ ویزہ اور سرحدیں ختم، تو نظریہ پاکستان کہاں رہ گیا؟ تقسیم کی ضرورت ہی کیا تھی؟۔۔۔ ذاتی تجارت کی خاطر قومی غیرت کا جنازہ اٹھا دینا قائد و اقبال کے ملک پر ستم ہے جن کے جانشین اور وارث ہونے کے یہ دعویدار ہیں۔ انکے وہ ساتھی بھی سوچیں جن کا ضمیر اپنے عہدے کو دوام بخشنے کی خاطر لیڈر کی جنبش ابروپر180 ڈگری کا ٹرن لے لیتا ہے۔انکی اپنی نسلیں میر جعفر، میر صادق، یحییٰ،جنرل نیازی اور ان لوگوں کی نسلوں کی طرح شرمندہ شرمندہ پھرا کریں گی جو قیام پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے ۔