چیف جسٹس کے الوداعی پانچ نکات اور متوقع دھماکے

کالم نگار  |  ظفر علی راجا

گیارہ دسمبر پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کا ایک یاد گار دن ہے۔ یہ دن ایک ایسے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کا دن ہے جس کے بے خوف عدلیاتی دھماکے ایک سنہری مثال کے طور پر ہمیشہ ےاد رکھے جائینگے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے عدلیاتی تحرک کو بارہا بین الاقوامی طور پر خراج تحسین پیش کیا جا چکا ہے۔ انہیں عالمی اعزاز سے بھی نوازا گیا ۔ اب ان کی رخصتی پر انٹرنیشنل کمشن آف جسٹس نے بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ کمشن رپورٹ کیمطابق 2009ءمیں وکلاءکی عدلیہ بحالی تحریک کے بعد افتخار محمد چوہدری نے عدلیہ آزادی، قانونی بالادستی، آئینی احترام کی سربلندی اور کرپشن کے خاتمے کےلئے سپریم کورٹ کو ایک طاقتور ادارے کی حیثیت سے ابھارا، اور حکومت اور حکومتی اداروں کی غیر آئینی من مانیوں اور طاقت کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان اقدامات نے پاکستانی ریاست کو قانون کی بالادستی اور عالمی اصولی قانون کی پاسداری کے قریب کر دیا ہے۔ نئے آنیوالے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ایک سیمینار میں بیانگ وہل اعلان کیا کہ افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ کیلئے رول ماڈل ہونگے۔ مطلب یہ کہ انکے تاریخی دور کے بعد سپریم کورٹ انکے نقش قدم پر چلتی رہے گی۔ نئے چےف جسٹس نے اس تاثر کی تصدیق یہ کہہ کر کی کہ عوامی مفاد کے مقدمات ان کا پسندیدہ ترین موضوع ہے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ کرپشن اور آئین سے انحراف برداشت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا سپریم کورٹ آئین اور قانون کیمطابق غریبوں، محروم طبقات اور مستحقین کے مقدمات سننے کی روایت برقرار رکھے گی اس تاریخی دور کے بعد بھی یہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہے گی ....ع
 تیری آواز مکے اور مدینے
سندھ اور پنجاب میں بار ایسوسی ایشنوں نے چیف صاحب کے اعزاز میں الوداعی تقاریب منعقد کیں اور انکی بے خوف منصفی کو خراج تحسین پےش کیا۔ چیف صاحب نے وکلاءکا شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا کہ عدلیہ کا کام اداروں کو آئین کے مطابق چلنے پر مجبور کرنا ہے ۔ ہم نے اس سلسلے مےں بھرپور کاوشات کیں اور ثابت کیا کہ اب عدلیہ انتظامیہ سے بالکل علیحدہ ہے۔ ہم نے کرپشن کے معاملات پر عوام کو باور کروایا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ وکلاءکی قربانیوں کا نتےجہ کامےابی کی صورت مےںنکلا اگر ایک مضبوط بار عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہو تو جذبوں میں کبھی کمی نہےںآگے گی۔ انہوںنے انصاف کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا انصاف کی فراہمی اللہ کی خلافت کا مقدس فرےضہ ہے جس کا اجر حقیقی معنوں مےں صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ہی سے مل سکتا ہے۔ سپریم کورٹ مےں بطور جج مےں نے جو کاوشات کیں اور فےصلے صادر کئے وہ میری زندگی کا اہم اثاثہ ہیں۔ عدلیہ کے مقاصد بلند ہیں ہمارا مشن اب رکنے والا نہیں۔ مستقبل کی عدلیہ بھی یہ پرچم بلند رکھے گی اور مستقبل کا مورخ بتائے گا کہ عدلیہ کے فےصلے وطن عزیز کے لئے کتنے کارآمد رہے ہیں۔
اک حقیقت ےا اسے کرتب لکھے
دیکھئے کیا کیا مورخ اب لکھے
جسٹس افتخار نے اپنے ہنگامہ خیز عدالتی تجربے کا نچوڑ پےش کرتے ہوئے جو لمبی الوداعی باتیں کیں ان مےں سے پانچ اہم نکات اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ غریب اور امیر کے درمیان خلاءپر کئے بغیر اور یکساں انصاف مہیا کئے بغیر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ قانون کو اس طرح متحرک ہونا چاہئے کہ ذات، برادری، اثر رسوخ اور دولت اس کے راستے کی رکاوٹ نہ بنیں۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ عدلیہ اس وقت جس طرح آزاد ہے اور نئے چیف جسٹس جس طرح افسر شاہی اور سیاسی دباﺅ کے بغیر ذمہ داری سنبھال رہے ہیں عدلیہ کو اسی طرح آزاد رکھا جائے۔ چوتھا نکتہ یہ تھا کہ ماضی قریب مےں عدلیہ نے اہم شخصیات کے دباﺅ میں آئے بغیر فےصلے صادر کئے اس روش کو برقرار رکھا جائے۔ پانچواں نکتہ یہ تھا کہ قانون کی موثر حکمرانی کے لئے عدلیہ اور بار کے درمیان مضبوط رشتہ قائم رکھا جائے۔ جسٹس افتخار کے بارے مےں ایک تجزیہ نگار نے کیا خوب لکھا ہے کہ چےف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی زندگی اور عدلیہ بحالی تحریک مےں کئی دوست بنائے لیکن یہ امر قابل تحسین ہے کہ انہوں نے عدالت کے کمرہ نمبر ایک مےں (جہاں وہ بطور جج مقدمات کی سماعت کرتے تھے) کسی سے واقفیت کو تسلیم نہیں کیا اورنہ ہی کسی کی طرف داری کی بلکہ انصاف اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھ کر اپنے بہت سے ”محسنوں“ کو پریشان کر دیا ۔ نتےجہ یہ کہ ان ”محسنوں“ میں سے بہت سے ان کے مخالفین کی صفوں مےں شامل ہو گئے۔چیف صاحب نے جاتے جاتے ایک ایسی بات بھی کہی ہے جس نے بہت سے پردہ نشینوں کو چونکا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور جج ان کی ذمہ داریوں اور فرائض کا تقاضا تھا کہ وہ بہت سے سچ بے پردہ نہ کریں لیکن عدالتی فرائض منصبی سے فراغت کے بعد وہ ان پردہ پوش حقائق کو بلا روک ٹوک بے پردہ کر سکیں۔ یہ مبنی پر حقیقت انکشافات یقیناً دھماکہ خیز ہوں گے قوم ان دھماکوں کی منتظر رہے گی :ع
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا