افتخار چودھری، آپ بھی ذرا سنبھل کے!

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری

آج کا سورج چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کا پیغام لیکر طلوع ہوگا۔ عدلیہ کا سب سے بڑا عہدہ ہر آنیوالے لمحے میں ان کا ماضی بنتا جائیگا لیکن اس عہدہ سے وابستہ ان کا کردار آنیوالے ہر لمحے آئندہ عدلیہ کیلئے روشنی کا مینار رہے گا۔ افتخار محمد چودھری کوئی مافوق البشر ہستی نہیں ہیں وہ عام انسانوں کی طرح ہیں، وہ بشری کمزوریوں سے ماوراءنہیں ہیں ہر انسان کی طرح تمام جبلتیں انکی ذات کا حصہ ہیں ان جبلتوں کے تحت انکی شخصیت میں مثبت اور منفی افکار و اعمال کو تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن انکی ذات کا ایک پہلو جو سب پر حاوی ہے وہ ہے پاکستان میں عدل و انصاف کی علمبرداری، یہ ایک ایسی خوبی ہے کہ اس پر انکی بڑی سے بڑی خامی اور کوتاہی کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسی خوبی ہے جس نے پاکستان میں آزاد عدلیہ کے خواب کو تعبیر دی ہے جب پاکستان کے عوام کی بہت بڑی اکثریت نے جن کا تعلق ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سے تھا یہ والہانہ نعرہ لگایا ”چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار“ یہ دراصل چیف پر اعتماد کا اظہار تھا اور جواب میں چیف نے اس اعتماد کو ٹھیس نہیں لگنے دی اور انکے مفاد کا جس بانکپن سے تحفظ کیا وہ زندہ تاریخ بن کر رہ گیا ہے۔ سٹیل مل ، پی آئی اے سمیت بڑے بڑے اداروں کو لٹنے سے بچانے اور اربوں کی کرپشن کے آگے قانون کا بند باندھنے کے جو اقدامات کئے اور سب سے اہم ترین لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ایسی تگ و دو جیسے وہ خون انکے قریبی رشتے دار ہوں پاکستان کی سطح پر روشن چشم فلک نے کب یہ حیران کن منظر دیکھا تھا کہ کوئی عدالت باوردی فوجی افسروں کو طلب کرے انکے خلاف احکامات جاری کرے، عدالت عظمیٰ نے چیف کی سربراہی میں طاقتوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی منفرد مثال قائم کی۔ پاکستان میں ایک نئی عدلیہ وجود میں آئی ایسی عدلیہ جو پاکستان کے محروم عوام کیلئے امید کی کرن بن گئی لوگ چھوٹے چھوٹے مسئلوں کیلئے بھی ”چیف جسٹس نوٹس لیں“ کی دُہائیاں دینے لگے۔ یہ عوامی نمائندوں سے مایوسی کا برملا اظہار ہے اور ساتھ ہی ملک کے نظام پر عدم اعتماد بھی ہے جو عوام کے ہر سطح پر مسائل حل کرنے میں ناکام رہے اب تک جتنی حکومتیں آئیں وہ سول تھیں یا فوجی تھیں ملکی نظام کی اصلاح کرنے میں ناکام رہیں کسی بھی محکمے اور شعبے سے واسطہ پڑے اگر رشوت دینے کی استطاعت نہ ہو اور سفارش کرنے کیلئے بہت بااثر شخص میسر نہ ہو تو مہینوں خواری کے باوجود ایسا شخص ناکام و نامراد ہی رہے گا جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مسائل میں گرے اور حالات کے ستائے عوام اپنے علاقوں کے ارکان اسمبلی اور وزیروں وغیرہ سے رجوع کرنے کی بجائے سپریم کورٹ میں عرضیاں دینے لگے ایسی ہر عرضی پر توجہ ظاہر ہے چیف جسٹس کیلئے ممکن نہیں تھی تاہم جو اجتماعی اور انفرادی طور پر سنگین معاملات ہوتے ان کا نوٹس لیا جاتا اور داد رسی ہوتی رہی۔
یہ بلاشبہ افتخار محمد چودھری کی راجپوتی آن بان تھی کہ باوردی حکمران اور 6 حاضر سروس جرنیلوں کے سامنے ڈٹ جانے کا فقید المثال مظاہرہ کر دیا اس کمرہ میں تنہا بیٹھے اور حرف انکار ادا کرنیوالے چیف کو معلوم نہیں تھا کہ ان کا حرِفِ انکار انکی ایسی ادا بن جائیگا جو پوری قوم کا دل موہ لے گی اور ملک کے گلی کوچے ”چیف تیرے جانثار، بے شمار بے شمار“ کے نعروں سے گونجنے لگے۔ انہوں نے اپنے بعد کی عدلیہ کو آزمائش کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ افتخار محمد چودھری نے عدل و انصاف کی بالادستی کے سفر کو جس پڑاو¿ پر چھوڑا ہے یہ منزل نہیں بلکہ نشان منزل بنے گا اور اختتام سفر اس ملک میں عدلیہ کی آزادی اور بالادستی کا وہ مقام ہوگا کہ کسی سرکش سول حکمران اور کسی فوجی قوت کی نخوت کے شکار فوجی آمر کیلئے اسے معکوسی رنگ دینا ممکن نہیں رہیگا۔ پاکستان کے لوگوں کیلئے بلاشبہ یہ تقویت کا باعث ہے کہ آج کی عدلیہ ان ججوں پر مشتمل ہے جنہوں نے فوجی آمر کے پی سی او کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا اور افتخار محمد چودھری کے ساتھ آزاد عدلیہ کا پرچم بلند رکھا اور یہ جو افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ”میرے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا“ تو بالکل درست کہا ہے تاہم آج پاکستان کے 18 کروڑ سے زائد عوام کی نظریں آنیوالے چیف جسٹس جناب تصدق حسین جیلانی پر لگی ہوئی ہیں لوگ انکے اندر افتخار محمد چودھری کو تلاش کرینگے کرپشن کرنیوالے بڑے بڑے مگرمچھوں کے حوالے سے یہ تاثر پھیلا ہوا ہے کہ وہ بہت بے چینی سے جناب افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کے منتظر ہیں اس تاثر نے عوام الناس کے اذہان میں کچھ کھلبلی سی مچا دی ہے مگر ساتھ ہی یہ یقین بھی ہے کہ چیف جسٹس کا نام بدلے گا کردار نہیں بدلے گا اسلئے کرپٹ افراد کیلئے جناب افتخار محمد چودھری کی چیف جسٹس کے منصبی سے سبکدوشی زیادہ مدت سامان مسرت نہیں رہے گی ۔ یہ عاجز مگر ایک خدشہ کا شکار ہے ایسا ہی خدشہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے تھا اور اس خدشے کا اظہار ان سطور میں ”ڈاکٹر قدیر، ذرا سنبھل کے“ کے عنوان کیا گیا تھا ان سے استدعا کی گئی تھی خارزار سیاست میں آبلہ پائی سے اپنے مرتبہ و مقام کو مجروح نہ کریں انہیں باور کرانے کی کوشش کی گئی تھی کہ بہت سے چاپلوس سیاست کے اکھاڑے میں گھسیٹنے کی کوشش کرینگے ہر گز انکے بھرے میں نہ آئیں۔ آج بڑی شدت سے یہ احساس ہو رہا ہے یہ خدشہ جاں گزین ہے کہ یہی کچھ جناب افتخار محمد چودھری کیساتھ ہوگا انہیں بھی عوام کے مفاد میں کا نام دیکر سیاسی پارٹی بنانے کی راہ دکھائی جائیگی خدا انہیں محترم ڈاکٹر قدیر خان کے سیاسی انجام سے دوچار نہ کرے مگر اس عاجز کی ان سے بھی یہی استدعا ہے ”افتخار چودھری آپ بھی ذرا سنبھل کے“