ارادہ یا غلطی کس کی؟

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
ارادہ یا غلطی کس کی؟

انسان نے حکمرانی کے طریقے بھی شاید جانوروں سے ہی سیکھے تھے کیونکہ جنات بھی اپنے سردار کی جگہ نیا سردار بنانے کے لئے پہلے والے کو مار کر راستہ نہیں بناتے۔ البتہ سرداری کا شوق رکھنے والے جانوروں میں کسی بھی ہم پلہ کو مار دینے یا بھگا دینے پر یقین رکھا جاتا ہے۔ مثلاً جنگل کا بادشاہ شیر اپنے زیرتسلط حکومتی ایریا کی اپنے پیشاب سے مارکنگ کرتا ہے۔ اس علاقے میں کوئی دوسرا شیر آنہیں سکتا، جب تک کہ پہلے والا بیمار یا بوڑھا ہوکر مرجائے یا مار نہ دیا جائے۔ اسی طرح بھیڑیوں کے ایک غول میں سب سے طاقتور بھیڑیا ان کا سربراہ ہوتا ہے۔ اس کے کمزور پڑنے پر دوسرا بھیڑیا اسے ہلاک کرکے کرسی سنبھال لیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جنگلی کتوں کے قبیلے کا بھی ایک ہیڈ ہوتا ہے جس کے سب تابع ہوتے ہیں۔ اگر وہ کسی وجہ سے لاغر ہوجائے تو عموماً اسے بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ انسان نے انسان پر حکمرانی کرنے کے لئے شروع میں یہی طریقہ اپنایا۔ جسمانی طور پر طاقتور انسان اپنے سے کمزور انسانوں پر اس وقت تک حکمرانی کرتا جب تک وہ خود کمزور نہ پڑجاتا۔ جب مہذب معاشرے کی بنیاد پڑی تو مخالف کو قبول کرنے کی بجائے سرے سے ہی ختم کردینے جیسے ظالمانہ طریقے کو بہت برا سمجھا گیا۔ حکمرانی کے نئے نظریئے میں مخالف کو اہمیت دیتے ہوئے اُسے بھی اظہارِ رائے کا حق دیا گیا جو جمہوریت کی بنیاد کہلائی۔ پاکستان میں ہمیشہ طرزِ حکمرانی پر جمہوریت کاہی سائن بورڈ لگایا گیا لیکن ہمارے سیاسی مزاج میں مخالف کو قبول کرنے کی بجائے اُسے سرے سے ہی ختم کرنے کا مزاج کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ اس کی جھلک یہاں کے تقریباً ہر سیاسی باشندے یا ہر سیاسی پارٹی میں ملتی ہے۔ سب سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو عقل کل اور دوسرے کو ہرحال میں زیرو کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت دوسری سیاسی جماعت کو دل سے قبول نہیں کرتی۔ ملک کی تاریخ میں بہت سے سیاسی اتحاد نظر آتے ہیں لیکن ان اتحادوں میں شامل تمام چھوٹی بڑی جماعتیں اپنے مخالف کو زیر کرنے کے ساتھ ساتھ اندر ہی اندر اپنے اتحادیوں کی جڑیں بھی کاٹ رہی ہوتی ہیں۔ گویا ہمارے ہاں اقتدار پر تسلط حاصل کرنے کا وہی مزاج اب تک چلا آرہا ہے جو ہزاروں برس پہلے انسان نے جانوروں سے سیکھا تھا۔ حالیہ واقعات پرغور کریں تو نواز شریف اقتدار سے باہر ہوگئے۔ جب انہوں نے اپنی گرتی ہوئی سیاسی رینکنگ کو ہائی کرنے کے لئے عوام سے ملتے ملاتے لاہور جا نے کا فیصلہ کیا تو سب نے انہیں ذوالفقار علی بھٹو والے حالات سے ڈرایا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ابتدائی رہائی کے بعد ضیاء الحق کے خلاف جلسے اور جلوس کی کوشش کی تو انہیں پکڑکر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ نواز شریف پہلے بھی اس ہسٹری کو جانتے تھے مگر صحافیوں کے دوبارہ یاد کرانے پربھی انہوں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور المناک واقعہ بینظیر بھٹو کی موت ہے۔ انہیں بھی پاکستان واپسی کے لئے روکا گیا تھا مگر وہ 18 اکتوبر 2007ء کو کراچی پہنچ گئیں اور استقبالیہ جلوس کی قیادت کے دوران ان پر شدید خودکش حملہ ہوا۔ وہ بچ گئیں مگر درجنوں کارکن مارے گئے۔ انہیں دوبارہ کھلم کھلا سیاسی سرگرمیوں سے روکا گیا مگر وہ نہ رکیں اور 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں دہشت گردی کا شکار ہوگئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو سے بہت پہلے 16 اکتوبر 1951ء کو جب لیاقت علی خان راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لئے کراچی سے روانہ ہوئے تو کہتے ہیں کہ انہیں بھی گمنام خفیہ خط کے ذریعے اس جلسے میں شرکت سے روکا گیا تھا مگر وہ بھی نہ رکے اور قتل ہوگئے۔ نواز شریف نے لاہور جانے کا جو پلان اے بنایا تھا اس کے تحت انہوں نے 6اگست بروز اتوار بذریعہ موٹروے لاہور جانا تھا جسے عین موقع پر تبدیل کردیا گیا۔ پلان بی کے مطابق وہ 9اگست بدھ کے روز جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور روانہ ہوئے۔ اسی دوران 7اگست سوموار کے روز لاہور کے بیرونی راستے پر کھڑا ایک ٹرک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔
یہ ٹرک گزشتہ تین دن سے اسی پارکنگ میں کھڑا تھا۔ کچھ لوگوں کے خیال کے مطابق اگر نواز شریف پلان اے کے تحت موٹروے کے ذریعے لاہور آتے تو اسی پارکنگ کے قریبی چوک میں اپنی ریلی کا جلسہ کرتے۔ اگر یہ بات درست تھی تو تجزیہ کرتے ہوئے بھی خوف آتا ہے اور دھیان بینظیر بھٹو پر 18 اکتوبر کے اُس خودکش حملے کی طرف جاتا ہے جس میں وہ بچ گئیں۔ اس میں دوسری لرزہ خیز سوچ یہ آتی ہے کہ پنجاب میں نواز شریف کے بھائی کی حکومت ہونے کے باعث ساری ذمہ داری شہباز شریف پر آتی اورمخالفین اسے چھوٹے بھائی کی سازش قرار دیتے۔ جب 9اگست بدھ کے روز نواز شریف نے پنجاب ہائوس اسلام آبادسے اپنی ریلی کا آغاز کیا تو ایک دوسرے کی مخالف جماعتوں نے ایک دوسرے کے اقدامات کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا اور اپنے اقدامات کو جمہوریت کی مضبوطی گردانا۔ مثلاً ن لیگ نے نواز شریف کی موجودہ ریلی کو جمہوریت کی بقاء کے لئے ضروری سمجھا۔ ن لیگ کہتی ہے کہ اداروں نہیں بلکہ کچھ افراد کی سوچ جمہوریت کے لئے شدید خطرہ ہے۔ عمران خان کی رائے میں نواز شریف اپنی لوٹی دولت بچانے کے لئے جمہوریت کا تختہ کرنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مطابق نواز شریف اپنی ذات کے لئے جمہوریت کو دائو پر لگا رہے ہیں۔ حالانکہ پیپلز پارٹی کے حوالے سے ایک اہم بات قابلِ غور ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کی نئی پرانی قیادت میں کیا اب اتنا دم ہے کہ وہ لمبی لمبی ریلیاں نکالیں یا لانگ مارچ کریں؟ اگر موجودہ سیاسی صورتحال کی مثال دی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ خشک پتوں اور لکڑیوں کا ایک ڈھیر موجود ہے جس میں کسی کی غلطی یا غلط پالیسی کی چنگاری سے آگ بھڑک سکتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مارشل لاء لگانا اور ان کو پھانسی دینا ایک ارادہ تھا یا غلطی؟ جنرل پرویز مشرف کا نواز شریف کے خلاف مارشل لاء لگانا ایک ارادہ تھا یا غلطی؟ بینظیر بھٹو کو دہشت گردی میں مروا دینا ایک ارادہ تھا یا غلطی؟ اس بارے میں مختلف آراء ہوسکتی ہیں لیکن اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ ان واقعات سے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا۔ موجودہ سیاسی حالات کا ٹرینڈ جمہوریت کے حوالے سے اچھا پتہ نہیں دے رہا۔ یہ نہ ہو آنے والے برسوں میں ہم یہ سوال کررہے ہوں کہ اس مرتبہ ارادہ یا غلطی کس کی تھی؟ نواز شریف، کچھ افراد یا عمران خان؟