ہمارے حکمران اور قانون کا احترام

ڈاکٹر اعجاز احسن،،،،،،،،،،،
خبر رساں ایجنسی اے پی پی کیمطابق اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواب اسلم رئیسانی، وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کوئی ڈگری چاہے اصلی ہو یا جعلی، ڈگری ہوتی ہے اور اگر ہمارے ممبران اسمبلی کی ڈگریاں جعلی بھی ہوئیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔ قارئین! کیا آپ نے کبھی ایسی عجیب و غریب بات سنی ہے اور وہ بھی کسی عام آدمی سے نہیں بلکہ ایک صوبے کے حکمران سے؟ یہی کہا جا سکتا ہے کہ…؎
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
چیف منسٹر بلوچستان وطن عزیز کی سب سے اہم اور طاقتور ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ صوبہ کے حکمران ہیں اور ہر کام انکی مرضی کیمطابق ہوتا ہے۔ وہ وزراء اور سینئر افسران کی تعیناتی کرتے ہیں اور یہ افراد آپکی خوشنودی میسر رہنے تک ہی اپنے عہدوں پر فائز رہتے ہیں۔ صوبے میں وزیر اعلیٰ کے اختیارات پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اتنے زیادہ اختیارات اتنی ہی ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں۔ اتنی ذمہ دار ہستی کی طرف سے اس قدر عجیب بات سمجھ میں نہیں آتی۔ نواب محمد اسلم خان رئیسانی ماضی بعید میں کھوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان دنوں نواب لوگ ایسی باتیں کہہ جاتے تھے لیکن وہ دن شاہانہ مطلق العنانی کے دن تھے۔ آج ایک ایسی حکومت مسند اقتدار پر براجمان ہے جو اپنے جمہوری ہونے کی دعویدار ہے صوبہ میں جرائم میں روز افزوں اضافہ سے بھی زیادہ مایوسی اس ایک بیان سے پھیلے گی۔ کیونکہ اگر صوبے میں قاعدے قانون کے اعلیٰ ترین محافظ کا جرائم کے بارے میں یہ رویہ ہے، تو اسکے افسران اور ملازمین کیونکر جرائم کے سدباب کیلئے کوئی سعی کرنے کیلئے تیار ہونگے؟ پھر اس صورت میں عوام کا کیا بنے گا؟ آئے دن ممبران اسمبلی عجیب و غریب بیان جاری کرتے رہتے ہیں۔ لیکن وزیراعلیٰ کا بیان ان سب سے زیادہ عجیب الخلقت ہے۔ اگر ایک جعلی اور اصل ڈگری میں کوئی فرق نہیں۔ تو پھر ایک جعلی اور اصل سکے یا نوٹ میں بھی ظاہر ہے کوئی فرق نہیں، اگر اس قدر لاقانونیت ہو جائیگی تو جناب وزیر اعلیٰ صوبے کا انتظام کیونکر چلا سکیں گے؟ امتحانات میں بدعنوانیوں کی رسم اور جعلی ڈگریوں کی خرید و فروخت کوئی راتوں رات اپنے عروج تک نہیں پہنچی۔ ان میں روز افزوں اضافہ میں کئی دہائیاں صرف ہوئیں لیکن صوبے کا حکمران یہ کہے کہ اس سب سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا! اگر اعلیٰ ترین افسر کی ایسی سوچ ہو تو کیا یہ قبضہ گروپوں اور اغوا کنندگان برائے تاوان کی حوصلہ افزائی کے مترادف نہ ہوگا؟ بلکہ اسے تو ہر قسم کے جرم کیلئے چھوٹ سمجھا جائیگا‘ گویا یہ بذات خود ایک این آر او ہوگا۔ کئی دہائیوں سے ہماری حکومتیں ایسے ناکارہ افراد پر مشتمل رہی ہیں کہ انکی معافی کیلئے یار لوگوں نے این آر او کے ذریعہ 8,000 قاتلوں، ڈاکوئوں اور خورد برد کرنیوالوں کو آزاد کر دیا تھا۔ اسی طرح ایک شخص کو عدالت کی دی ہوئی تین ماہ کی قید سے بچانے کیلئے صدر زرداری نے وطن عزیز کے ان گنت قیدیوں کی سزا میں تین ماہ کی کمی کر دی۔ ہمارے ہاں بڑے آدمیوں کو اسی طرح بگاڑا جاتا ہے۔ جس کسی ملک میں ذمہ دار حکومت ہو، اس میں اگر کوئی وزیراعلیٰ اس قدر عجیب الخلقت اور قابل مذمت بیان دے، تو اسے مستعفی ہونا پڑے۔
آخر وہ شخص قانون کی عملداری کیونکر کروا سکے گا اگر وہ سرے سے قانون پر یقین ہی نہ رکھتا ہو، اور اسے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہو؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو وہ قانون کو سمجھتا ہی نہیں یا اسکی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ کسی غلط کار کیخلاف انکوائری کیوں کروائے گا، جب وہ اپنے رفقائے کار کے جرائم کو غلط کاری ہی نہیں گردانتا۔