پاکستان کوئی سوکھا بَنیا ؟

سید آصف علی شاہ ولد سید چراغ علی شاہ جالندھر سٹی انڈیا ۔ سرگودہا پاکستان
جالندھر شہر ہماری تین پُشتوں کا شہر تھا۔ میرے والد اکلوتے اور ایک بہن تھی۔ میں مسلم لیگ نیشنل گارڈ کا سالار محلہ تھا۔ 27 رمضان المبارک کو آزادی پاکستان کا اعلان ہوا تو جہاں مسلمان اقلیت میں تھے ہندو سکھوں نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ ہمارے محلہ صقاقاں پر بھی چار حملے ہوئے لیکن ہمارے کچھ لوگ زخمی ضرور ہوئے لیکن جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری طرف ہم نے چار سکھ اور پانچ ہندووں کو جہنم واصل کر دیا۔ ان حملوں میں ہماری عورتوں نے بھی ہماری مدد اس طرح کی کہ انہوں نے چھتوں کے اوپر سے اینٹیں اور روڑے برسائے۔ اس کے بعد ہم نے اپنی عورتوں اور بچوں کو اپنے ننہال محلہ سید کبیر میں چھوڑ آئے، واپس آنے پر ہم نے مٹی کا تیل اکٹھا کر کے ہندووں کے گھروں کو آگ لگا دی اور واپس اپنے ننہال آ گئے وہاں سے اپنی عورتوں اور بچوں سمیت جالندھر چھاونی کیمپ میں آ گئے اس کیمپ میں ہم تقریب دو ماہ تک رہے۔ اس دوران خوراک کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ تھا کبھی فاقے کبھی کچھ کھانے کو مل گیا پھر ہم بلوچ رجمنٹ کی نگرانی میں بذریعہ ٹرین لاہور پاکستان پہنچ گئے۔ اس پوری مدت میں میرے خاندان یا ہمارے کسی رشتہ دار کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، پاکستان پہنچنے کے بعد میرے والد کو اپنے ہی محکمہ کے ڈی سی او آفس میں ہیڈ کلرک کی اپنی سیٹ پر تعیناتی مل گئی اور سرگودہا میں پوسٹنگ ہوئی اس وقت سے ہم سرگودہا میں ہی آباد ہیں۔ تحریک پاکستان کے دوران ایک گول میز کانفرنس میں جو کہ شملہ میں ہو رہی تھی اس دوران ایک ہندو رہنما ولبھ بھائی پٹیل نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ہندوستان ہے اور یہ صرف ہندووں کے ہی رہنے کی جگہ ہے مسلمانوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں، اس کے جواب میں سردار عبدالرب نشتر نے اس کے سر پر ایک زوردار تھپڑ مارا کیونکہ وہ سر سے گنجا تھا اس کے بعد سردار صاحب نے اسے مارنے کے لئے کرسی اٹھائی لیکن سہروردی اور لیاقت علی خان نے کرسی پکڑ لی۔ اگر اس وقت کی جماعت اسلامی، احرار پارٹی، تحریک خاکسار اور جمعیت علمائے ہند یہ تمام آل انڈیا مسلم لیگ کو ووٹ دے دیتیں تو آج پورا مشرقی پنجاب پاکستان میں شامل ہوتا۔ آخر میں میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دو شعر کہے جو حاضر خدمت ہیں
تسلی دیتے ہیں قوم کو تب ماں باپ لگتے ہیں
ملے جب اقتدار اِن کو تب پھنیّر سانپ لگتے ہیں
خزاں جائے گی جائے گی بہار آئے گی گلیوں میں
صدا اللہ اکبر کی انشااللہ گونجے گی دہلی کی گلیوں میں