وقت آچکا ہے کہ…

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

بعض اوقات تصویریں ٹکڑوں میں ہوتی ہیں اور جب یہ ٹکڑے اپنی اپنی جگہ پر فٹ ہوتے ہیں تو یہ ایک واضح تصویر کا روپ دھار لیتے ہیں ۔اکثر اوقات یہ تصویر بولنے بھی لگتی ہے۔ پاکستان کے مستقبل کی تصویر کے ٹکڑے اپنی اپنی جگہ پر آچکے ہیں ۔ تصویر واضح شکل اختیار کر چکی ہے ۔اب تو اس تصویر نے بولنا شروع کر دیا ہے۔ آئیں ذرا پہلے تصویر کے ان ٹکڑوں پر نظر ڈالیں جو کافی عرصے سے مختلف سمتوں سے آگے بڑھائے جا رہے تھے۔
ہمارا پڑوسی اور برادر مسلم ملک افغانستان 1979 سے جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے ۔ قدرت کی عجیب ستم ظریفی ہے کہ افغانستان دنیا کا ایک پس ماندہ ترین اور غریب ترین ملک شمار ہوتا ہے۔اس غریب اور پسماندہ ملک پر جنگ مسلط کرنے والی دورِ حاضر کی دو سپر پاورز ہیں۔ پہلے روس چڑھ دوڑا لیکن منہ کی کھائی اور 2001میں دنیا کی ٹاپ سپر پاور امریکہ اپنے تمامتر حواریوں کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ اپنی بے پناہ تباہ کن طاقت اس جنگ میں جھونک دی لیکن تاریخ کے فیصلے ظاہری طاقت سے نہیں بلکہ انسانی قوت ارادی سے ہوتے ہیں۔
ایک طرف بے تحاشا تباہ کن جنگی مشینری اور دوسری طرف نہتے بے یارو مدد گار افغان طالبان لیکن قوت ایمان اور قوت ارادی سے بھر پور۔ افغانیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مضبوط قوت ایمانی اور قوت ارادی سے دنیا کی کسی بھی انسانی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسکے حواری اپنی تمامتر جنگی طاقت کے ساتھ بے بس نظر آرہے ہیں۔ جیسے جیسے شکست انہیں قریب آتی ہوئی نظر آتی ہے‘ انکا غصہ پاگل پن کی حدوں کو چھونے لگتا ہے‘ جب وہ طالبان کے پہاڑوںسے بلند عزم کیخلاف کچھ نہیں کر سکتے تو پاکستان کا رخ کر لیتے ہیں۔ افغانستان نہ صرف ہمارا پڑوسی ہے بلکہ ہمارا مسلمان بھائی بھی ہے۔ ہماری تاریخ اور جغرافیہ دونوں مشترک ہیں‘ اس لئے جب افغانستان پر چوٹ لگتی ہے درد ہمیںبھی محسوس ہوتا ہے۔ یہی درد ہمیں کھینچ کر روس کیخلاف لے گیا اور بالآخر اُسے اپنی سالمیت سے محروم ہونا پڑا۔
2001میں جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا تو ہم امریکی عزائم کا حصہ نہیں تھے۔ ہماری تمام تر ہمدردیاں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ تھیں لیکن حالات نے ہمیں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اسے اپنی قیادت کی نا اہلی سمجھا جائے یا حالات کی ستم ظریفی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اس جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ ہمیں غیر نیٹو اور صف اوّل کے اتحادی جیسے القاب کے بہانے ہماری عزت، غیرت اور خودمختاری سب کچھ اس جنگ میں جھونک دی گئیں۔ یہ وہ جنگ ہے جس کیلئے ہمارے پاس وسائل ہیں نہ ہم لڑنا چاہتے ہیں‘ ہم پر زبردستی مسلط کر دی گئی ہے اور اب یہ جنگ ہماری سا لمیت کے درپئے ہے اور اسکی بڑھتی ہوئی آگ کے شعلے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لینے کیلئے بے قرار ہیں۔
صاف ظاہر ہے کہ امریکہ کا اصل ہدف پاکستان ہی تھا لیکن براستہ افغانستان ۔اب جب شکست امریکہ اور اسکے حواریوں کا مقدر بن چکی ہے تو ناکامی کا تمام تر الزام پاکستان پر تھوپا جا رہا ہے اور جنگ کو افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور جواز یہ پیش کیا کہ یہ القاعدہ کی پناہ گاہ ہے جو 9/11حملے کے ذمہ دار تھے‘ جس کا آج تک ثبوت نہیں دیا گیا۔
پھر عراق پر حملہ اس لئے کیا کہ یہ یہاں بڑی تباہی والے ہتھیار موجود ہیں ۔وہ بھی بغیر ثبوت اور اب خدانخواستہ پاکستان پرحملہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ نہ صرف دہشت گردی کا مرکز ہے بلکہ پوری دنیا میں دہشت گرد حملوں کی تربیت گاہ بھی ہے۔ اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ امریکہ جو کچھ کہتا ہے اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
پاکستان چونکہ نام نہاد قسم کا صف اوّل کا اتحادی ہے اور امریکہ کی جنگ گلے ڈال کر لڑ رہا ہے اس لئے امریکہ کیلئے اسے ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے۔ یہ وہ بد قسمت ملک ہے جو امریکی جانیں بچانے کیلئے اپنے شہریوں کی جانیں قربان کر رہا ہے جو اور کوئی خود دارملک نہیں کر سکتا۔ لہٰذا پاکستان کو اس حد تک بے دست و پا کر نا مقصود ہے کہ یہ امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے ہی اپنی حیثیت کھو بیٹھے‘ اس لئے ہر طرف سے الزامات کی بوچھاڑ۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی کارروائی ہوتی ہے اسکا تمام تر الزام سیدھا پاکستان پر لگایاجاتا ہے۔ پاکستان کا بازو اس انداز میں مروڑا جاتا ہے کہ وہ مجرم نہ ہونے کے باوجود بھی تمام گناہ کا ذمہ دار قرار دیدیا جاتا ہے۔ ہماری قیادت اتنی بے بس ہے کہ وہ احتجاج بھی نہیں کر سکتی۔ اب پچھلے دو ماہ سے پاکستان کیخلاف مختلف اطراف سے الزامات کی اس قدر بوچھاڑ ہو رہی ہے جیسے روئے زمین پر سب سے بڑے خطا کار ہم ہی ہیں بلکہ ہمارا وجود پوری دنیا کیلئے ’’ناسور‘‘ بنا دیاگیا ہے۔
سب سے پہلے تو ہمارا پڑوسی بھارت ہے جو سوتے جاگتے ہر حال میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے پر تلا ہواہے اور پوری دنیا میں اس زور و شور سے چلا رہا ہے کہ ہمارے دوست بھی اب ہمیں مجرم سمجھتے ہیں۔ بھارت کی آتما کو اس دن سکون آیا جس دن برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بنگلور میں کھڑے ہو کر بھارتی میڈیا کے سامنے پاکستان کو دہشت گردی کا مجرم قرار دیا اور پھر ہماری تمامتر منت سماجت کے باوجود اپنا بیان واپس لینے سے انکار کر دیا۔
پچھلے دنوں ہلیری کلنٹن تشریف لائیں اور بغیر لگی لپٹی کہہ دیا کہ پاکستان دہشت گردی کا نہ صرف مرکز ہے بلکہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر جیسی خطرناک شخصیات اسی سر زمین میں چھپی ہیں ۔وہ جتنا عرصہ بھی اس سر زمین پر موجود رہیں مسلسل آگ اگلتی رہیں اور ساتھ ہی ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتی رہیں۔انہیں ہماری ISIکے کردار کیخلاف بھی بہت سی شکایات ہیں۔محترمہ کی تقلید میں کرزئی صاحب نے بھی پوری دنیا اور خصوصاً نیٹو ممالک سے اپیل کی کہ دہشت گردی کے مراکزاور تربیت گاہیں پاکستان میں ہیں۔ دہشت گردوں کو فنڈز بھی وہیں سے مل رہے ہیں‘ لہٰذا اگلے حملے پاکستان پر ہونے چاہئیں۔ یہ ہیں تصویر کے وہ مختلف ٹکڑے جنہیں اب امریکہ میں جوڑ کر تصویر مکمل کی گئی ہے اور بالآخر پاکستان پر حملے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کیلئے یہ تمام تانے بانے بنے گئے تھے ۔ بقول امریکی سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس ’’ہم مشرقی افغانستان میں اپنی افواج بڑھا رہے ہیں اور اب حملے پاک افغان سرحد کی دونوں جانب ہونگے‘‘۔ پاکستان کے اندر ڈرون حملے تو پہلے ہی کافی عرصے سے جاری ہیں اور اب نیا حملہ کس قسم کا ہوگا سوچا جا سکتا ہے۔
معزز قارئین اس پرائی جنگ میں پاکستان نے اب تک جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی اور ملک نے نہیں دیں۔ اب تک اس بالواسطہ جنگ میں دس ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانی شہیدیا معذور ہو چکے ہیں۔ 45ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ ہمارا معاشی اور معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ پورے پاکستان اور خصوصاً بلوچستان اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اس بالواسطہ جنگ کا پاکستانی عوام کیلئے نایاب تحفہ ہے۔ اسی جنگ کی وساطت سے بلوچستان میں بھارتی ’’را‘‘ اور ’’موساد‘‘ اپنے قدم جما چکی ہیں۔ کراچی آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے ۔ امن و امان دہشت گردی کی آگ میں جل کر بھسم ہو چکا ہے۔ان سب تحائف کے باوجود پوری دنیا میں سب سے بڑے ’’دہشت گرد‘‘ بھی ہم ہیں۔ لہٰذا حملہ ناگزیر ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ حملہ ہوتا ہے تو لازماً فاٹا کے طالبان پاکستان کے شہروں ہی کا رخ کریں گے جنہیں روکنے کیلئے ہمارے پاس وسائل ہیں اور نہ استطاعت۔پھرظاہر ہے کہ انکی تلاش میں امریکی یا امریکی یونیفارم میں اسرائیلی ہمارے شہروں کا رخ کریں گے جسکا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔اسے کہتے ہیں ’’باندھ کر مارنا‘‘۔
دراصل1979سے ہم امریکہ ہی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ غیروں کیلئے لڑتے لڑتے اب ہماری اپنی بقا پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ہمارا وجود نام نہاد مہذب دنیا کیلئے ناقابل برداشت بن گیا ہے۔ جب سب قربانیاں دینے کے باوجود ہم مجرم ہیں تو یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے مستقبل کااہم فیصلہ کرنا ہوگا۔ شیکسپیئر نے کہا تھا ’’ہر آدمی کی زندگی میں ایک ایسا موقعہ ضرور آتا ہے جس سے فائدہ اُٹھا کر وہ اپنی قسمت بدل سکتا ہے ‘‘ موت ہمارے تعاقب میں ہے چاہے ڈرون حملوں کی صورت میں ہو۔ ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں ہو۔ خود کش دھماکوں کی صورت میں ہو یا خدانخواستہ اب امریکی بمباری کی صورت میں ۔ یہ سب ہم پر مسلط کی گئی جنگ ہی کے مختلف روپ ہیں۔ اگر خدانخواستہ موت ہی ہمارا مقدر ہے تو آئیں اسے وقار سے گلے لگائیں۔ لہٰذا ہمیں عزت و وقار سے اس جنگ سے باہر ہوجانا چاہیے۔