وفاقی و پنجاب حکومت کی سرپرستی میں داتا دربار پر روح کش حملہ

محمد شعیب مرزا......
21جولائی کی شب پی ٹی ہوم پر ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ 8مارچ کو پاکستان آرٹس کونسل حکومت پاکستان اور لاہور آرٹس کونسل حکومت پنجاب کے اشتراک سے الحمرا ہال لاہور میں ”صوفی میلہ“ کے نام سے ہونے والے ایک پروگرام کی ریکارڈنگ تھی۔ ہال کے ایک طرف شاہ حسین کی تصویر اور ان کا کلام لکھا ہوا تھا۔ جبکہ اسٹیج کے پیچھے بیک ڈراپ پر حضرت داتا گنج بخش ہجویریؒ کا بہت بڑا مزار بنا ہوا تھا۔ مزار کا گنبد اتنا نیچا تھا کہ اسٹیج پر اپنے ”فن“ کا مظاہرہ کرنے والوں کے پاﺅں بھی مزار کے اوپر تھے۔ مزار کے پیچھے داتا دربار کی مسجد دکھائی گئی تھی۔
اسٹیج پر مختلف گلوکاروں نے عارفانہ کلام پیش کیا۔ پروگرام کا آغاز اور اختتام زلفیں بکھیرے خواتین کے رقص سے ہوا۔ یہ رقص بھی عارفانہ کلام پر ہوا۔ نہ جانے کیوں اب عارفانہ کلام کو بہت جاہلانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس سارے پروگرام کی سب سے تکلیف دہ اور روح کش بات یہ تھی کہ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ تمام پروگرام داتا دربار کے احاطے میں ہو رہا ہے۔ میں نے مختلف چینلز پر داتا دربار کے احاطے میں ہونے والے خود کش حملے کی کوریج دیکھی تھی۔ جگہ جگہ خون اور لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ زخمی کراہ رہے تھے۔ یہ روح فرسا منظر دنیا بھر میں دیکھا گیا تھا۔ اس پر شدید دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ اسلام اور انسانیت دشمنوں نے صدیوں سے فیوض و برکات کے مرکز کے تقدس کو مجروح کیا تھا۔
حکمرانوں نے اس دلسوز واقعہ کی بھرپور مذمت کی تھی لیکن آج سرکاری ٹی وی پر سرکاری اداروں کی سرپرستی اور سرکاری نمائندوں کی موجودگی میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مذاق اڑایا جا رہا تھا۔ شریعت اور طریقت کا درس دینے والے حضرت علی ہجویریؒ کے مزار کے تقدس کو مجروح کیا جا رہاتھا۔ کل داتا دربار کے احاطے میں انسانیت کی تذلیل کی گئی تھی آج احکام شریعت کا مذاق اڑاتے دکھایا جا رہا تھا۔ کل زخمی انسان کراہ رہے تھے۔ آج اخلاقی اقدار جان کنی کے عالم میں تڑپ رہی تھیں۔ کل اس حادثے کو دیکھ کر لوگ بین کر رہے تھے جبکہ الحمرا میں بیٹھے لوگ اس سانحے کو دیکھ کر تالیاں پیٹ رہے تھے۔
”صوفی ازم“ کی جو ایک لہر تیزی سے چلائی جا رہی ہے۔ اس کے محرکات پر ایک کالم مجھ پر قرض ہے جلد یہ قرض ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔ فی الحال ”صوفی میلہ“ کے نام سے پی ٹی وی سے نشر ہونے والے اس پروگرام کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر پی ٹی وی کے حکام کو مسلمانوں کے جذبات اور بزرگان دین کی تعلیمات کا ذرا سا بھی احساس ہوتا تو سانحہ داتا دربار کے بعد اس پروگرام کو پی ٹی وی پر چلا کر دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کی دل آزاری نہ کی جاتی۔ بات الحمرا میں موجود چند سو لوگوں تک محدود تھی تو اسے محدود ہی رہنے دیا جاتا۔ اگر ایسا کیا جاتا تو پھر بیرونی ایجنڈے پر عمل اور بیرونی آقاﺅں کو خوش کیسے کیا جاتا۔
وزیراعظم گیلانی جو خود بھی ایک دربار کے سجادہ نشین ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب جو حضرت علی ہجویریؒ سے گہری عقیدت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ خفیہ دہشت گردوں اور خود کش حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے کے عزائم رکھتے ہیں۔کیا وہ کھلی روحانی دہشت گردی کرنے والوں او روح کش حملہ آوروں کے خلاف بھی کوئی کارروائی کریں گے؟
یقیناً کریں گے، اگر وہ واقعی بزرگان دین سے سچی محبت، عقیدت اور نسبت رکھتے ہوں گے۔