نسیم بہار

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

میری زندگی کی نسیم بہار کا مسکن 4شاہراہ فیصل ایونیو ہے جہاں شہاب اور اختر جیسے روشن اور چمکدار ستاروں کی پاکیزہ اور نورانی کرنیں عالم ارواح سے اترتی ہیں پھر یہ دودھیائی روشنی سے آراستہ کرنیں نسیم بہار کی معطر اور دبیز خوشبوئوں کے امتزاج سے مجھ جیسے ہزاروں گناہگاروں پر رحمتوں اور برکتوں کی رم جھم کی برسات نازل کرتی ہیں اور پھر افق کے اس پار جہاں قدرت اللہ شہاب اور اختر آنٹی کی روحیں بسرا کر رہی ہیں اسکے پہلو میں قوس قزاح نظروں کو قرار دیتی ہے اور پھر کچھ ہی دیر میں دھنک کے ستارے دل و دماغ کی کہکشاں کا احاطہ کر لیتے ہیں۔
میرا مرشد اختر آنٹی کی پاکیزہ محبت اور شہاب صاحب کے قلبی تعلق سے گندھ کر اپنے شخصی اوصاف کو مخلوق خدا کی بھلائی کیلئے وقف کئے ہوتا ہے، وہ سلسلہ اویسہ کی کڑی کا وہ مسافر ہے جو اختر آنٹی کے عشق مجازی کی معرفت اور اپنے مرشد کے توسط سے عشق رسولؐ میں اپنی ذات کو فنا کئے ہوئے ہے۔ جہاں وہ شہاب اور اختر کی جدائی میں بپھری ہوئی کونج کی مانند بے قرار اور بے چین رہتا ہے وہیں وہ عشق مصطفی ؐکیلئے درود و سلام کو اپنی زبان پر سجائے مخلوق خدا کیلئے دعائیں اسلام اور پاکستان کی سربلندی کا ہر دم ورد کرتا رہتا ہے وہ مستجاب الدعا ہے مگر ایسا لگتا ہے وہ نسیم بہار جو نسیم صبح کی مانند تروتازہ اور شگفتہ تھی اب وہ نسیم سحر کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ مرشد معرفت کے اس مقام پر ہے جہاں اس نے کبھی اپنے دکھوں کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، وہ کتنے بھی کرب اور تکلیف میں کیوں نہ ہو وہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے اپنے عقیدت مندوں پر اپنی محبت اور التفات کے دئیے کی لو بکھیرتے رہتے ہیں مگر اب مرشد وہ ولولہ، جوش اور توانائی محسوس نہیں کر رہے ہیں جو دو سال بیشتر تھا اب تو وہ وصل الٰہی کیلئے بے چین اور بے قرار رہنا شروع ہوگئے ہیں جس سے میرا دل کٹ کٹ جاتا ہے کیونکہ ابھی ہم سب کو، ہمارے وطن کو، عالم اسلام کو اس سچے عاشق رسول کی دعائوں کی اشد ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے…ع
ڈیگرتے دن آیا محمد اوڑک نوں ڈب جاناں
میرا مرشد اس گھر میں رہتا ہے جہاں ان کا شہاب صاحب اور اختر آنٹی کی روحوں سے سلسلہ جنبانی برقرار رہتا ہے وہ مقام جہاں چوبیس گھنٹے مسلسل کئی سالوں سے حضور نبی اکرمؐ کی ذات مقدس پر درود و سلام بھیجا جا رہا ہے وہ مقام جہاں گناہ گاروں کا تزکیہ نفس ہوتا ہے وہ مقام جہاں بڑے بڑے فرعونوں کی گردنوں کا خم ذکر اللہ اور ذکر حبیب اللہ کی برکت سے نرم کونپل کا روپ دھار لیتا ہے وہ مقام جو راہ اللہ کے مسافروں کیلئے روحانی فیض اور سائبان کا مقام رکھتا ہے۔ وہ مقام جہاں وقت حاضر کے طاقتور حکمران مرشد کی لحیم شحیم شخصیت کے سامنے پگھلے ہوئے سیسے کی صورت گری اختیار کر جاتے ہیں پھر مرشد کی مرضی کہ خاک پائے رسول کی بدولت وہ کسی شخص کو اپنی نگاہ خاص کا اسیر بنا لے یا دل کے نہاں خانے میں بند کر لے یا پھر اس کو اسکے حال پر چھوڑ دے، اسکی عقلی توجیہہ نہیں دی جا سکتی ہے کیونکہ ہر شخص نگاہ ولی کی تاب نہیں رکھتا‘ ہر شخص میں اتنی سکت اور ہمت نہیں ہوتی ہے کہ مستجاب الدعا صوفی کی دعائوں کی قبولیت کا بوجھ اور کرب اٹھا سکے، اس کیلئے صبر ادب اور انتظار کی چلہ کشی میں سے گزرنا پڑتا ہے تب ولی کامل کی نگاہ سے مرد مومن کی تقدیر بدلتی ہے وگرنہ ہر دل کا ظرف نہیں ہوتا ہے کہ وہ ولی کامل کی محبت اور توجہ کا سزوار ٹھہرے میں جو گذشتہ کئی سالوں سے مرشد کی محبت کا سزوار تھا ذرا سی بے ادبی پر کئی سال خطا وار ٹھہرا، راہ سلوک کی منازل طے کرنے کیلئے ادب ہی پہلا قرینہ ہے شاہد بہت سوں کو میری عرضداشت میں مبالغہ آمیزی کا رنگ نظر آئے مگر اہل تصوف ہی اس کا ادراک کر سکتے ہیں کہ سالک اور صوفی معرفت کی ان منازل کو پلک جھپکنے میں طے کر لیتے ہیں جہاں اہل فقیہہ صدیوں کی ریاضت کے بعد بھی نہیں پہنچتے ہیں کیونکہ یہ نصیب کی باتیں ہیں مرشد کے مرشد اعلیٰ مدینہ پہنچے تو خاک مدینہ اٹھا کر آنکھوں میں ڈال لی تو پھر محبت اور عشق میں جنون کی یہ ادا بارگاہ الٰہی میں کیسے قبولیت کا درجہ حاصل نہ کرتی شہاب صاحب کے بیٹے ثاقب اختر آنٹی کی میز پر خاموش بیٹھے نظر آئے چپکے سے انکل کے کان میں گویا ہوئے عمرہ کر کے آرہا ہوں پھر خاموش ہوگئے، مرشد نے پوچھا کیا ہمارے لئے دعا کی تو پھر خاموش ہوگئے، رخصت ہونے لگے انکل کار کے دروازے کے قریب کھڑے دعا کر رہے تھے تو یکدم کار سے باہر نکلے آپ کیلئے دعا کیسے کرتا آپ بھی تو وہیں تھے۔
قارئیں یہ باتیں عام انسانوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں مرشد تو نبی اکرمؐ کے عشق، پاکستان سے محبت، اسلامی اقدار کے احیاء اور قرآن و سنت کے نظام کی پیروی کو ہی اسلامی تصوف کی بنیاد تسلیم کرتے ہیں وہ اسلام کو انسانی دوستی، عجز و انکساری اور جذبہ عمل کی جاذبیت کو انسان کی شخصیت کے اندر نرمی اور ملائمت سے اتارنے کے حق میں ہیں مگر وہ اقبال کے اس سپاہی کی مانند ہیں…؎
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
وہ اپنے عقیدت مندوں کی روح کی بالیدگی کیلئے ان کو رخصت کرتے وقت اس طرح دعا گو ہوتے ہیں کہ انکی روح کی سیرابی کا عمل شروع ہو جاتا ہے، اچانک ایک معجزہ نمودار ہوا دلان کے جس پتھر پر وہ کھڑے ہو کر درود شریف پڑھتے ہیں وہاں اسم محمدؐ نمودار ہوا انکے خدمت گزاروں کو وہ پتھر وہاں سے اکھاڑنا پڑا تاکہ بے ادبی کا احتمال نہ ہو۔
قارئین میرا مرشد کوئی منصور حلاج یا معروف کرخی جیسا صوفی اور سالک نہیں ہے کہ جنون میں چاک گریبان ہو جائے بلکہ وہ تو حضرت جنید بغدادی کے نقش قدم پر رہے جہاں شریعت اور تصوف اکٹھے ہو جاتے ہیں جہاں اسلام کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ قلبی تعلق پر ہوتی ہے آپکے نزدیک برائی سے اجتناب اور نیکی کا ارتکاب اس لئے ضروری نہیں کہ انسان جہنم کے عذاب سے بچ جائے بلکہ یہ اس عمیق محبت کا ایک ادنیٰ تقاضہ ہے جو ایک بندے کو اپنے رب سے ہونی چاہئے، ان کی قدرت اللہ شہاب سے عقیدت اور اختر آنٹی سے محبت انسانیت کیساتھ محبت میں تبدیل ہوگی وہ ہر دم سکھی دلوں کی آبیاری کرتے رہتے ہیں شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ انصاف کرنا اس شخص کے مقدر میں لکھ دیا گیا تھا وہ آج تک پاکستان اور اسلام کیلئے انصاف حاصل کرنے کیلئے سامراجیوں سے برسرپیکار ہیں یونیسکو کی ملازمت ہو یا پاکستان پر امریکی یلغار وہ ہمیشہ حق و صداقت کے علمبردار اور اسلام اور پاکستان کی بقاء کیلئے پورے قد سے کھڑے ہیں ایسا کیوں نہ ہو …؎
پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا