میں نے پاکستان بنتے دیکھا

میاں محمد ابراہیم طاہر............
سفرکا شوق ہر انسان کی سرشت میں شامل ہے۔بلکہ انسانی زندگی بھی ایک سفر ہی ہے جو انسان کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے، بچپن، جوانی، بڑھاپے کی منزلیں طے ہوتی ہیں اور موت کی منزل پر ختم ہوجاتا ہے۔
مجھے بچپن ہی سے سفر کا شوق رہا ہے۔بچپن میں زندگی کااولیں سفر جو میں نے کیا، وہ کپور تھلہ سے امرتسر تک کا تھا۔یہ 1947ءکے پُر آشوب سال کے ماہ مئی کا ذکر ہے۔والد صاحب کو کاروباری سلسلے میں امرتسر جانا تھا۔امر تسر کے حالات ان دنوں بڑے خراب تھے، مسلمانوں کے خلاف ہندوﺅں کی شہہ پر سکھوں نے قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا تھا مگر امر تسر کے مسلمان بھی پامردی اور جرات کے ساتھ غیر مسلموں کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ امر تسرکے مسلمانوں کی بہادری اور شجاعت کی داستانیں ان دنوں پورے پنجاب میں گشت کر رہی تھیں، چنانچہ جب والد صاحب امر تسر جانے کیلئے تیار ہوئے تو میںبھی بضد ہوا کہ ان کے ساتھ امر تسر جاﺅں گا۔ میری عمر غالباً اس وقت دس سال تھی مگر مجھے اس سفر کے تمام واقعات بڑی اچھی طرح یاد ہیں۔ والد ہ مرحومہ ان پُر آشوب دنوں میں مجھے والد صاحب کے ساتھ بھیجنے پر راضی نہ تھیں کیونکہ ان کے خیال میں اکیلا مرد تو کسی نا گہانی صورت حال میں اپنا دفاع کرسکتا ہے مگر بچے ساتھ ہوں تو اس کیلئے اپنی مدافعت بھی مشکل ہوجاتی ہے اور امرتسر شہر میں ان دنوں ہر طرف موت کا رقص جاری تھا۔بہر حال میری ضد کے سامنے والد ہ کو مجھے والد صاحب کے ساتھ جانے کی اجازت دینی پڑی۔ ہم ایک صبح کو کپور تھلہ سے روانہ ہوکر امر تسر پہنچ گئے۔
امر تسر ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ شہر میں کرفیو نافذ ہے اور ملٹری گشت کر رہی ہے۔ دوسرے شہروں سے آنے والے مسافروں میں سے صرف ان مسافروں کو شہر جانے کی اجازت ہے جنہوں نے خود اپنے یا اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں جانا ہوتا ہے۔ان کو بھی ملٹری اپنے ٹرکوں میں لاد کر ان کے گھروں تک پہنچاتی ہے۔اجنبیوں کو شہر میں جانے کی اجازت نہیںہے۔
ہمیں ہال بازار میں ایک ہندو کھتری کے ہاں جانا تھا، مگر ملٹری والے ہمیں کسی صورت میں ادھر جانے کی اجازت دینے کیلئے تیار نہ تھے۔ سٹیشن پرخطرہ موجود تھا کیونکہ ریلوے کے سکھ ملازمین ننگی کرپانیں لیے اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے۔
خوش قسمتی سے ہمیں سٹیشن پر ایک مسلمان اہلکار مل گیا۔ اس نے ہمیں اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کے کمرے میں بٹھایا اور خود ٹیلی فون پر ہمارے ٹریک کاروبار کھتری کو ہماری آمد سے مطلع کیا( غالباً اس کھتری کا نام کروڑی مل تھا) کھتری نے ہمیں11بجے تک سٹیشن پر ہی ٹھہرنے کا مشورہ دیا کیونکہ 11بجے سے ایک بجے تک کرفیو میں وقفہ ہوتا تھا،اس نے وعدہ کیا وہ اس وقفے کے دوران خود سٹیشن آکر ہمیں اپنے گھر لے جائے گا۔
چنانچہ ہم ناشتہ وغیرہ کرکے سٹیشن پرہی ٹھہرے رہے۔ ریلوے کے مسلمان اہلکار ہمیں بار بار کہہ رہے تھے کہ امر تسر کے غیر محفوظ اور مخدوش حالات کے پیش نظر ہمیں امر تسر آنے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے تھی۔بہر حال انہوں نے 11بجے تک ہمارا ہر طرح سے خیال رکھا، بعد ازاں وہ دہلی سے آنے والی ٹرین کے کچھ مسلمان مسافروں کو بھی اپنے ساتھ اسی کمرے میں لے آئے اورانہیں اپنے عزیز رشتہ دار ظاہر کرتے رہے۔ سوا گیارہ بجے کے قریب کروڑی مل آگیا اور ہم اس کے ساتھ ایک ٹانگے میں بیٹھ کر اس کے گھر چلے گئے۔ والد صاحب نے جلدی جلدی اس سے اپنا کاروباری حساب کتاب ختم کیا اور ہم ایک بجے سے پہلے ہی واپس سٹیشن پر پہنچ گئے کیونکہ ایک بجے پھرکرفیو کا نفاذ ہوجانا تھا اور ہم ہندو کے گھرکی نسبت سٹیشن کو اپنے لیے زیادہ محفوظ سمجھتے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد ایک ٹرین دہلی کیلئے روانہ ہونے والی تھی، ہم اس میں سوار ہوکرجالندھر اور وہاں سے بذریعہ بس شام تک واپس کپور تھلہ پہنچ گئے۔ والدہ نے ہمارے سلامتی سے واپس آنے پر شکرانہ کے نفل ادا کیے۔
ہجرت
دوسرا بڑا سفر ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کا سفر تھا۔ یہ سفر اس قدرپُر خطر، کٹھن اور دلدوز واقعات سے پر ہے کہ اسے اگر موت سے زندگی کی طرف سفر یا کفرستان سے ایمانستان کی طرف ہجرت کا نام دیاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔اس سفر کے متعلق بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لکھا جارہا ہے اور لکھ جاتا رہے گا۔ کیونکہ اس سفر کے ہر مسافرکی داستان دوسرے مسافر سے مختلف اور ہر شخص پر گزرنے والے واقعات دوسروں سے جداگانہ حیثیت کے حامل ہیں اورپاکستان پہنچنے والا ہر مسلمان خون کے کئی دریاﺅں اور موت کی کئی وادیوں سے گزر کر پاکستان پہنچا ہے، اس لئے ہر شخص کے تجربات و مشاہدات الگ الگ ہیں اور اس میں داستان گوئی یا مبالغہ آمیزی کا کوئی رنگ نہیں ہے۔ اس لئے اس سفر کے متعلق لکھا جانے والا ہر سفر نامہ، ہرداستان اور ہر واقعہ آئندہ نسلوں کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے اور تاریخ آزادی کا ایک الگ باب ہے۔ ریاست کپور تھلہ، فیروز پور، نکودر تحصیل، جالندھر، ہوشیارپور اور دوسو ہہ کے علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی55.33فیصد تھی اور باﺅنڈری کمیشن نے ان علاقوں کے علاوہ ان سے ملحقہ علاقوں میں مسلم اکثریت کو تسلیم کیا تھا۔ صرف شہر کپور تھلہ میں آبادی کی شرح مندرجہ ذیل تھی۔ مسلمان64.00فیصد، سکھ 30.00فیصد، ہندو 6.00 فیصد۔
” کپور تھلہ کی غیر مسلم ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بہت زیادہ تھا۔یہ ریاست کی کل آبادی میں 68تھے۔ ان کے قتل کے منصوبے بنائے گئے آج اگر آپ کپور تھلہ جائیں تو آپ کو وہاں ایک بھی مسلمان نظرنہیں آئے گا“۔
تحریکِ آزادی
اس وقت ہندوستان بھرمیں تحریک آزادی زوروں پر تھی۔ شہر میں ہر روز ہی کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے جلسے ہوتے اورجلوس نکلتے تھے۔ ہندوﺅں اور مسلمانوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی تھی اور ہندوﺅں نے سکھ رہنماﺅں کو خالصتان کا لالچ، روپے پیسے کا چکمہ اور طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر مسلمانوں کے خلا ف بھڑکانا شروع کر رکھا تھا۔ سکھ ریاستوں کی طرف سے خالصوں میں بے تحاشہ مہلک ہتھیاراور آتشیں اسلحہ خفیہ طورپر تقسیم کیاجارہا تھا، جس کی وجہ سے سکھ بہت دلیر اور طاقتور ہوگئے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف اکا دکا وارداتیں بھی شروع کر رکھی تھیں۔ امرتسر میں تو مئی کے مہینے سے ہی فسادات کی آگ بھڑکی ہوئی تھی۔ (جاری ہے)