مالک نے باندھا کیوں؟

کالم نگار  |  عامرہ احسان

واپس چلتے ہیں منہ زور سیلاب کے تھپڑوں کی طرف ، زلزلے ہی کی طرح یہ بھی اللہ کا عذاب ہے اب بھی ہم نہ مانیں تو کیا ہم بنی اسرائیل کی طرح ایسی ہی 9 نشانیوں کے طلب گار ہیں؟ سیلاب زدہ علاقے سے جو اطلاعات موصول ہورہی تھیں بذریعہ ٹیلی ویژن اور ٹیلی فون وہ اللہ کے خوف سے لرزا دینے کو بہت تھیں منہ زور پانی کی لہریں گویا آنکھیں رکھتی ہیں ہر قطرے میں آنکھ تھی کہ کسے بہانا ہے اورکیسے غرق کرنا ہے چشم دید گواہان سے گرتی عمارتوں بہہ جانیوالے ہوٹلوں، ریستورانوں، انسانوں کی بے بسی کی داستان مت پوچھئے۔ یہ تلپٹ کر دینے والے زلزلے سے کسی طور کم نہیں۔ ہم اپنے گناہوں کے تھپیڑے کھا رہے ہیں مظلوم کی آہ اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
لال مسجد جامعہ حفصہ کا پہاڑوں جیسا گناہ ہمارے قومی اعمال نامے کا بھیانک باب ہے۔ قبائل کے لاکھوں انسانوں کو دربدر کرنے انکے سر کی چھت چھیننے اور آپریشن کے نام پر پوری آبادیوں، بستیوں میں امریکہ کی خوشنودی کی خاطر جو گناہوں کی فصل ہم نے بوئی ہے مسلمانوں کے خون سے سینچی ہے۔ (لا الہ کے وعدے پر حاصل کردہ اس پاک سرزمین میں) اسے کاٹنا بھی تو پڑیگا۔ مظلوموں کے آنسو طوفانی لہروں اور موجوں کی صورت ہمارا سب کچھ بہائے لے جا رہے ہیں اور ہم ہوش کے ناخن نہیں لے رہے۔ خون آشام لکشمی دیوی کے چرنوں میں جو مسلمانوں کے لاشے ہم نے ڈالے تھے یہ اسی کا بھگتان ہم دے رہے ہیں اور مرے تھے جن کیلئے اُنکی طرف نگاہ کیجئے۔
ذرا ہمارے دشمن کے بیچ بیٹھ کر لہک لہک کر ہمیں صلوٰتیں سنانے کا کیمرونی انداز تو دیکھیں۔ 400 امریکی فوجی کیا سیلاب زدگان کی خدمت کیلئے آ رہے ہیں کیری لوگر بھیک مانیٹر کرنے کیلئے 235 امریکی مزید روپیہ روپیہ گنیں گے ! خدارا اللہ کے غضب سے ڈریں اللہ کی عطا مملکت خداداد پاکستان کو امریکہ کے ہاتھوں کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر اُن پر پاکستان کے دروازے کھول کر ہم اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کر رہے ہیں۔
رمضان آرہا ہے شیطان جکڑا جائیگا ہمت باندھ کر لگے ہاتھوں امریکہ سے چھٹکارا حاصل کریں اقتدار کے پایوں سے چمٹے امریکہ کے حواریوں سے جب تک جان چھڑائی نہ گئی امریکی کمبل بھی ہماری جان نہیں چھوڑے گا۔ ہم اللہ کے غضب اور بے رحم حکومتوں کے بیج یونہی کیڑے مکوڑے کی طرح حقیر ہوتے رہیں گے ماہ رمضان، ماہ قرآن، ماہ رحمت و مغفرت ہے۔ اللہ کا حکم مان جائیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے (المائدہ 51) ۔ یہ رفاقت کی سزا ہم بہت بھگت چکے اور مسلسل بھگت رہے ہیں ہمارا شمار مغضوب اور ضالین میں ہو رہا ہے ہم اللہ کی رہنمائی سے محروم گھپ اندھیروں میں عذاب کے تھپیڑوں میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں لوٹ آئیے سوائے مادر آکہ تیمارت کند! (ختم شد)