قومی رہنماوں ہوش کرو

خورشید احمد........
آج وطن عزیز پاکستان کو برطانیہ‘ افغانستان‘ بھارت‘ امریکہ دہشت گردی کے حمایت کا الزام لگا کر دنیا میں بدنام کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے عوام مساجد‘ سکولوں‘ کمرشل و رہائشی علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں دہشت گردی کا خود شکار ہو کر شہید ہو رہے ہیں اور اربوں روپے کا نقصان کرکے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ملک کی افواج پاکستان سوات کے بعد ساوتھ وزیرستان اپنے خون و جان کی قربانی دے کر دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے۔ کیا پاکستان کے حکمران عوام و قوم ان قربانیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرکے ان ممالک کا منہ بند نہیں کر سکتے؟ ملک میں سیلاب سے عوام روٹی و ضروریات زندگی کی اشیاءکو ترس رہے ہیں اور متاثرہ خاندان زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں لیکن ہمارے حکمران بیرون ملکوں کے دوروں میں مصروف ہیں ان کا فرض نہیں کہ وہ قومی خزانہ کی رقم بچا کر سیلاب زدگان کی مدد کی مہم کو کامیاب کریں؟
سری نگر و کشمیر میں محکوم کشمیری اپنی خون و جان کی جنگ لڑ کر بھارتی استبداد و جبر کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن ہمارے رہنماوں نے عوام کو سندھی‘ پنجابی‘ پٹھان‘ بلوچی و مہاجر کی لسانیت کی نفرت زہر ڈال کر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور حکومت خاموش تماشائی بن کر عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے۔ کیا حکمرانوں کا فرض نہیں کہ وہ فرقہ بندی سے بلند ہو کر انسانی جانوں کا قتل کرنے والے اور بدامنی پھیلانے والوں کا محاسبہ کریں؟
ملک میں دن بدن ضروریات زندگی کی اشیاءمیں کمر توڑ مہنگائی اور سرکاری اداروں میں لوٹ کھسوٹ اور بدنظمی سے قوم کو غیر ملکیوں کے قرضوں میں رہن رکھ دیا گیا ہے اور قومی آمدنی کا نصف حصہ غیر ملکی قرضوں کے سود میں ہڑپ ہو جاتا ہے۔ کیا ارباب اختیار کی ذمہ داری نہیں کہ قومی اقتصادی خود کفالت و سادگی اور دیانت داری کی پالیسی اپنا کر عوام کی غربت و بے روزگاری اور خود کشیوں کا مداوہ کریں اور اپنے شاہانہ رہن سہن ختم کریں؟ اس مقصد کےلئے تمام محب الوطن عناصر کو متحد ہو کر اپنے وطن عزیز کی لوٹ کھسوٹ اور بے پناہ اونچ نیچ اور ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ افتخار محمد چودھری چیف جسٹس اور ڈاکٹر قدیر خان جیسے محب الوطن اصحاب اور ملک کے بہادر فرض شناس صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرکے نوجوان نسل کو امید کی راہ دکھانی ہو گی۔
انشاءاللہ ہماری جدوجہد کامیاب ہو کر رہے گی۔