عوام اصلی ڈگری والوں سے بھی مایوس ہو چکے ہیں

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

ملک بھر میں جعلی ڈگریوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اخبارات اور جرائد بھی جعلی ڈگریوں کے خلاف آئے روز کالم اور مضامین لکھ رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق ایجوکیشن کمیشن نے جامعات سے اراکین پارلیمنٹ کی تصدیق کے بعد ملنے والی 736 ڈگریوں میں سے 183 کو مستند قرار دیا ہے۔ 137 ڈگریاں جعلی قراردے دی گئی ہیں جبکہ تصدیقی عملہ سے مشکوک ہونے کے باعث 506 ڈگریاں مزید معلومات کے لئے واپس یونیورسٹیوں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ عوامی، سیاسی حلقوں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں میں بڑی تعداد میں ڈگریوں کے جعلی اور مشکوک ہونے سے پورا سسٹم اور اس سسٹم کی سیاسی قیادت مشکوک ہو گئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں جعلی ڈگریوں کی بیساکھیوں پر چل کر جانے والے ملک وقوم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ 141 اراکین اسمبلی کی ڈگریوں کی کاپیاں اتنی غیر واضح اور مبہم ہیں کہ پڑھی نہیں جا سکتیں ایسا دانستہ کیا گیا ہے کہ تاکہ سچ تک نہ پہنچا جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقتدار کے ایوانوں کو جعلی ڈگریاں رکھنے والوں سے پاک کیا جائے اور الیکشن لڑنے کے لئے کم از کم ایم اے یا اس کے مساوی پروفیشنل ڈگری کو لازمی قرار دیا جائے۔ جعلی ڈگریوں کے گند کو پارلیمنٹ سے ہمیشہ کے لئے صاف کر دینا چاہیے۔ جعلی ڈگری رکھنے والوں کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے اور عوام کی نمائندگی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ جعلی ڈگری والوں نے سیاسی قانونی اور اخلاقی طور پر جرم کیا اور اس جرم کی انہیں ضرور سزا ملنی چاہیے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی دباو میں آئے بغیر ڈگریوں کی چھان بین کرے اور حکومت فوری طور پر مشکوک ڈگریوں والے ارکان کی رکنیت معطل کر کے ان کے خلاف عدالتی تحقیقات کروائے۔ عوامی حلقے یہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ جعلی ڈگری والوں کے ساتھ ان خفیہ ہاتھوں کی بھی نشاندہی کی جائے جو جعلی ڈگریوں کی تیاری اور خریدوفروخت میں ملوث ہیں۔ جہاں تک اصل ڈگری رکھنے والوں کی بات ہے قوم ان سے بھی بہت مایوس ہو چکی ہے۔ حکمران دو اڑھائی برسوں کے دوران عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکے غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی عروج پر ہے، مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس بے مہار مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی عملی اقدام کرنے کی بجائے محض طفل تسلیاں اور صرف سیاسی نعرے ہی ہیں۔ جہاں تک ڈگریوں کی ظاہری شکل و صورت کا تعلق ہے تو اصل اور جعلی ڈگریاں کاغذ کی بنی ہوتی ہیں۔ جعلی اور اصلی ڈگری والوں کے درمیان قابلیت کا فرق عملی زندگی سے پتہ چلتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو سب سے بڑی ضرورت دیانتداری پر مبنی اندرونی اتحاد کی ہے اگر اصل ڈگریوں والے لیڈران سول و فوجی افسران اور عدلیہ کے جج صاحبان پاکستان کے اندر خصوصاً وفاقی اور صوبائی حکومتیں عدلیہ اور افواج کے محکموں کے درمیان اتحاد قائم کر دیں تو ان کی اصلی ڈگریاں بلاشبہ قابل قدر اور قابل احترام ہیں وگرنہ ان کے پاس اصلی مگر کاغذی ڈگریاں ہی ہیں جو پاکستان کے اندر دیانتداری پر مبنی اتحاد قائم کرنے کی اہلیت و صلاحیت نہیں رکھتیں۔ ان کی اصل ڈگریوں کی تاثیر بنیادی طور پر جعلی ڈگریوں جیسی ثابت ہوتی ہے اور ہو رہی ہے۔ یوں توتمام پاکستانی قوم کے اندر اتحاد کی بہت ضرورت ہے لیکن پڑھی لکھی وفاقی اور صوبائی حکومتیں پڑھی لکھی عدلیہ اور افواج کے درمیان ایسے سیسہ پلائی اتحاد کی ضرورت ہے کہ یہ چاروں ادارے یکجان چار قالب نظر آنے چاہیں۔ ایسا ہونے سے ہی پاکستان مستحکم ہو سکتا ہے اور اندرونی اور بیرونی سازشوں سے بچ سکتا ہے۔