عبرت پکڑو اے آنکھوں والو

صحافی  |  عطاء الرحمن

اقوام متحدہ والوں نے کہا ہے پاکستان کو غرق کرکے رکھ دینے والا موجودہ سیلاب 2004ءکے مشہور عالم سونامی سے زیادہ تباہ کن ہے۔ میں تو اس مصیبت کا مقابلہ طوفان نوح سے کرنے پر مجبور ہوں۔ اس نے اس سے زیادہ کتنی بربادی کا سامان کیا ہو گا اور اس دور کے کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہوں گے۔ اس عہد کے اعداد و شمار تو معلوم نہیں۔ اتنا سب جانتے ہیں عذاب الیم تھا۔ قہر خداوندی تھا۔ موجودہ دنیا میں 6 برس پہلے ایشیائی ممالک کے اندر جو سونامی آیا تھا اس سے پچاس لاکھ انسان متاثر ہوئے تھے۔ ہماری سرزمین پر تباہی پھیلانے والے آج کے سیلاب نے ابھی تک ایک کروڑ اڑتیس لاکھ افراد کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ ہم پر نازل ہونے والی بربادی سونامی تادم تحریر سونامی سے اڑھائی گنا زیادہ ہے طوفان نوح اس سے کتنا بدتر ہو گا۔ وہ عذاب خداوندی تھا۔ یہ کیا ہے۔ الہامی کتب اور تاریخ دونوں بتاتی ہیں جس قوم پر جب کبھی عذاب نازل ہوا ہے اس کے چند افراد کے سوا کبھی کسی نے تسلیم نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ چکی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اسے معمول کی قدرتی آفات میں شمار کیا اور عبرت نہ پکڑی۔ تباہی مول لے لی لیکن اپنی اصلاح نہ کی انفرادی نہ اجتماعی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں ہم پر جو طوفان نوح آیا ہے اس دوران ہمارے جذبات و کیفیات مختلف نہیں اور یہی اصل المیہ ہے۔ انفرادی اور قومی سطح پر الا ماشاءاللہ ہمیں اس کا کوئی احساس و ادراک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات عمل نے جس کے بیان سے قرآن مجید اور انبیاءکی تاریخ بھری پڑی ہے، ہمیں کہاں لا کھڑا کیا ہے۔ کس عذاب الیم میں مبتلا کر دیا ہے۔ مزید المیہ ملاحظہ کیجئے کہ 2004ءکے خوفناک سونامی نے بھی سب سے زیادہ تباہی انڈونیشیا وغیرہ کی مسلمان بستیوں میں مچائی تھی اور اس سے بھی بڑے سیلاب کی آفت نے اس وقت ہم پاکستانی مسلمانوں کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ وقت دعا ہے امت پہ تیری عجب وقت آن پڑا ہے لیکن یہ وقت دعاﺅں کے ساتھ کڑوی دوا کا بھی ہے جسے قبول کرنے کے لئے ہمارے حلق اور معدے تیار نہیں اس لئے دعاﺅں میں اثر باقی نہیں رہا۔کرپشن اور بدعنوانیوں کی اکاس بیل نے اس طرح ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ شجر قومی کا مسلسل خون چوس رہی ہے۔ وہ اندر سے سوکھا ہوا جا رہا ہے۔ باہر سے بھی اسی کی حالت بہت پتلی نظر آتی ہے۔ قومیں پہلے مذاق اڑاتی تھیں اب رحم کی نظر سے دیکھتی ہیں لیکن بھرپور مدد کے لئے کوئی آگے نہیں بڑھتا کہ کب تک ہمارے کشکول میں خیرات ڈالتے رہیں گے۔ رزق حرام ہمارے اشرافیہ کے لوگوں سے لے کر متوسط طبقے تک رگ رگ میں رچ بس گیا ہے۔ اسی کے ظواہر اور چمک دمک کا نام ہم نے بہتر معیار زندگی رکھا ہوا ہے۔ اسی کی نمود و نمائش میں پھولے نہیں سماتے۔ جب کسی سطح یا مرحلے پر حکمرانوں سے لے کر نچلی سرکاری سطح پر یا تجارت و صنعت کے میدانوں میں ہماری کرپشن کا کوئی راز طشت از بام ہونے لگتا ہے تو اس پر پردہ ڈالنے اور اپنے دفاع میں جھوٹ کا طومار باندھتے ہیں۔ دوسروں پر الزام دھرتے ہیں اور اپنے آپ کو بچا لے جانے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کوئی اہم آدمی خواہ اس کی کرپشن کی دھوم مچی ہو پکڑا نہیں جاتا۔ کسی کو کیفر کردار تک پہنچایا نہیں جاتا۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ ہر شعبے کے لوگ دونوں ہاتھوں سے حسب توفیق مال و دولت سمیٹ رہے ہیں۔ انتہا ہو چکی ہے۔ ایسے میں عذاب نازل نہیں ہو گا تو کیا ہو گا۔لیکن ہماری کوتاہیوں انفرادی و اجتماعی جرائم اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کا دائرہ حرام خوری تک محدود نہیں۔ سیاست اور جملہ قومی معاملات سے لے کر گلی محلوں کے انتظامات تک ہم نے اصولوں کو پامال کیا ہے اور اجتماعی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ اس کی پہلی سزا ہمیں 1971ءکی شکست فاش کی صورت میں ملی تھی جب دشمن نے ہمارے وطن کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دینے میں کامیابی حاصل کی۔ پھر برا وقت 2005ءکے زلزلے کی بلائے ناگہانی کی شکل میں آیا۔ اب اکیسویں صدی کے طوفان نوح نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ یہ عذاب اس عالم میں آیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر غیروں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشت گردی کا جو عذاب ہم پر مسلط ہے ۔ آج حالت یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ جو قدم قدم پر بیرونی امداد کی شکل میں بھیک مانگنے کا عادی ہو چکا ہے اس کے پاس قوم کو اس مصیبت سے نکالنے کی کوئی تدبیر کوئی راہ عمل نہیں۔ ایک واویلا ہے کہ مچا ہوا ہے عذاب اور کسے کہتے ہیں۔ باعتبرو یا اولی الابصار۔