سیلاب زدگان کی مدد جاری رکھنے کے لئے مذاکرہ

نوائے وقت، دی نیشن اور وقت نیوز نے مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے راہنماوں کے ذریعے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاری اور سیلاب زدگان کی مدد کے حجم، سیلاب زدگان کی حقیقی ضرورت اور سیلاب زدگان کی مدد کرنے والوں کے جذبہ کا جائزہ لینے کے لئے 9 اگست 2010ءکو حمید نظامی ہال میں ایک مذاکراے کا اہتمام کیا جس میں الخدمت فاونڈیشن کے صدر مولانا نعمت اللہ، پنجاب حکومت کی قائم کردہ ”فلڈ ریلیف کوآرڈی نیشن کمیٹی“ کے چیئرمین پرویز ملک تحریک انصاف لاہور کے صدر میاں محمود الرشید اور جماعت الدعوة کی فلاح انسانیت فاونڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالروف نے اپنے اداروں کو حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں اظہار خیال کیا اور پاکستان کے عوام اور خاص طور سے صاحب استطاعت اور مخیر لوگوں پر زور دیا کہ وہ نہایت بے غرض اور کشادہ دل ہو کر مصیبت زدگان کی مدد کریں اور اپنی مٹھی بند رکھنے سے گریزاں رہیں۔ سیلاب کی تباہ کاری کا اندازہ کرنا گو ابھی محال ہے تاہم وہ حقیقت ضرور سامنے آ چکی ہے کہ 2005ءمیں قیامت خیز زلزلے سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں جو تباہی آئی تھی اس سے کئی گنا زیادہ تباہی ہو چکی ہے صرف پنجاب میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور لاکھوں ایکڑ اراضی اس طرح زیر آب آ چکی ہے کہ اس پر کھڑی ہوئی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 3 لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ علاقہ طوفانِ سیلاب کی زد میں آ کر عبرت انگیز صورتِ حال پیدا کر رہا ہے، اس مذاکرے میں جو تفصیلات بھی پیش کی گئیں وہ ابھی نامکمل اور نجی نوعیت کی ہیں لیکن ان کو سماعت کر کے بھی سامعین حیران و ششدر رہ گئے، جیسا کہ اس مذاکرے میں موجود ہمارے ساتھی اور نوائے وقت کے سینئر رپورٹر سید شعیب الدین (چاچو) نے بھی اپنی خبر میں لکھا ہے کہ صرف پنجاب میں 100 روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور جو جانی نقصان ہوا ہے اس کی تلافی تو ہو ہی نہیں سکتی۔ ماہرین کا خیال ہے اور وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے بھی واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر ہو چکا ہوتا تو اس ناقابل بیان نقصان سے بچ سکتے تھے اور جانی و مالی تباہی سے ہم محفوظ رہ سکتے تھے، اب صورت وہ ہے کہ سیلاب سے ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں اور لاکھوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے مگر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ اگر اس سیلاب سے پہلے کالا باغ ڈیم تعمیر ہو چکا ہوتا تو اتنا زیادہ جانی و مالی نقصان (قطعاً) نہ ہوتا انہوں نے اس ڈیم کی (فوری) تعمیر پر آمادگی تو ظاہر کی ہے مگر پھر بھی اس بارے میں قومی اتفاق رائے کو ناگزیر ٹھہرا دیا ہے جبکہ کوئی قوم مفادات کے منصوبوں میں تعویق و تاخیر کو برداشت نہیں کرتی اور نہ ہی قومی اتفاق رائے کو ت لاش کرتی رہتی ہے، واقعتاً اس ڈیم کی تعمیر کو بعض حکمرانوں ہی نے متنازعہ بنا یا ہوا ہے تاکہ غیر ملکی پاکستان دمشن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے ان کی خوشی کے لئے پاکستان کی زراعت، توانائی اور دیگر ترقیاتی عمل کے ضامن کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ لٹکایا جاتا رہے، مخالفین وہ بھی کہتے تھے کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا اور خدانخواستہ کسی طرف سے اس کا پشتہ ٹوٹ گیا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا مگر قدرتِ الٰہی نے وہ عذاب بھیجا ہے کہ قاضی حسین احمد نے ایک جلسہ میں کہا کہ ”نوشہرہ“ مکمل طور پر ڈوب چکا ہے مگر آج نوائے وقت کے ڈپٹی چیف رپورٹر خواجہ فرخ سعید نے جس مذاکرے کا اہتمام کیا اس میں مولانا نعمت اللہ نے لوگوں پر واضح کیا کہ پاکستان میں سیلاب کی صورت میں جو عذابِ قدرت آیا ہے اس سے واضح ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اہل پاکستان سے ناراض ہے۔ یہ سیلاب پاکستانی قوم کے لئے ایک آزمائش ہے گویا تباہ کن بارش اور برباد کن سیلاب ہماری نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھیجا ہے، اب بھی وقت ہے کہ ہم میڈیا پر ناچ گانے کا سلسلہ بند کریں اور من حیث القوم اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی معافی کی خواستگار ہوں، انہوں نے وہ بھی بیان کیا کہ 2005ءمیں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے ملتِ پاکستان نے جس طرح جوش و جذبہ سے امدادی کام میں حصہ لیا تھا وہ سیلاب کی تباہ کاری کی زد میں آنے والوں کی مدد کے لئے نظر نہیں آتا البتہ الخدمت فاونڈیشن نے 74 ریلیف کیمپ قائم کئے ہیں، 12 ڈی واٹرنگ سیٹ بھجوائے ہیں اور 18720 لوگوں کی جانیں بچا لی ہیں، پرویز ملک نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ سیلاب تاریخ کا بدترین آبی ریلا تھا جو 72 گھنٹے تک جاری رہا، اس وقت وہ صورت ہے کہ سیلاب سے پاکستان کے چاروں صوبے عبرت انگیز انداز میں متاثر ہوئے ہیں اور اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاری پر بھی سیاست نہ چمکائی جائے، ہم بھی سیلاب پر سیاست نہیں کر رہے ہیں، پنجاب میں 8 اضلاع سیلاب کے ریلے کی زد میں آئے ہیں جبکہ میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، مظفر گڑھ اور راجن پور میں زیادہ تباہی ہوئی ہے، اس سیلاب کے بارے میں محکمہ و آبپاشی نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کیا کوتاہی کی ہے اس کا جائزہ لینے کے لئے ریٹائرڈ انجینئرز پر مشتمل ایک کمشن قائم کر دیا گیا ہے، حافظ عبدالروف نے بھی اس تباہ کن سیلاب جاریہ کو عتاب و عذاب الٰہی سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس سیلاب کی مزید تباہی سے بچنے کے لئے پوری ملتِ پاکستان، اس کے حکمران، سیاستدان، جرنیل، علماءاور تاجر اور دیگر تمام لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں کیونکہ صورت وہ ہو چکی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں 10 کلو آٹے کا تھیلا ڈیڑھ ہزار روپے سے بھی زیادہ قیمت میں مل رہا ہے۔ میاں محمود الرشید نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاری ابھی جاری ہے اور دریائے جہلم اور دریائے چناب کا پانی مل کر تباہی و بربادی کا موجب بن رہا ہے مگر تحریک انصاف ہر جگہ مصیبت زدگان کی مدد کر رہی ہے، اس نے 15 امدادی کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز کی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں مگر ادویات کی نایابی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو حل کیا جانا چاہیے تاہم تحریک انصاف اس کمی کو دور کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔