سیلابی سیاست

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ

غالب نے کہا تھا کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد۔ آج کا سیلاب ایسا ہے جو قریباً ہر گھر پر دستک دے کر گزرا ہے۔ کھیت کھلیان، بستیاں اور مکان، مساجد اور مزار کوئی بھی اس کی دستبرد سے نہیں بچا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، ناگہانی موت نے الگ سے اپنا کھاتہ کھول رکھا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ہزار لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس سے کئی گنا زیادہ لوگوں کا قحط اور بیماریوں سے مرنے کا اندیشہ ہے۔ گو پانی زندگی کی دلیل ہے اسی سے سانس کی ڈوری جُڑی ہوئی ہے لیکن جب یہ نیل بے زنجیر کی طرح چیختا چلاتا اور دھاڑتا ہوا آتا ہے تو اس کی بے لگا موجیں خشک و تر میں تمیز نہیں برتیں اور ہر چیز کو تہس نہس کر دیتی ہیں۔ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں سیلاب نہ آتے ہوں امریکہ، چین، لاطینی امریکہ نقصان بھی تھوڑا سا ہوتا ہے لیکن فعال حکومتیں اور بیدار حکمران اپنی حکمت عملی اور عمدہ پلاننگ سے انہیں قابل قبول سطح پر لے آتے ہیں اگر حکومت نااہل ہو، حکمران بے حس ہوں تو پھر ایسا ہوتا ہے جو آجکل ہم سب دیکھ رہے ہیں بلکہ بھگت بھی رہے ہیں۔ ماڈرن ٹیکنالوجی نے موسموں کے تغیر و تبدل کو جاننا آسان بنا دیا ہے۔ بروقت اطلاع اور متاثرہ علاقوں سے آبادی کے انخلا، متبادل رہائشی انتظام، کم سے کم خوراک کی فراہمی سے لوگوں کے مصائب کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت ہمیشہ فنڈز کی کمی کا رونا روتی آئی ہے۔ سَستی روٹی سکیم، بے نظیر انکم سپورٹ کو بھی تھوڑی دیر کے لئے Suspend کر کے خطیر رقم کو اس طر موڑا جا سکتا تھا اس طرح بنیادی پالیسی سے بھی روگردانی نہ ہوئی کیونکہ ہر سکیم کا بنیادی مقصد تو غریب کی امداد کرنا ہے۔
اس سے ڈیموں بالخصوص کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی افادیت کا سوال ایک بھر پھر سے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان کے حامیوں کا موقف یہ ہے کہ اگر منڈا ڈیم اور کالا باغ بن جاتے تو خیبر پختون خواہ صوبہ تباہی سے صاف بچ جاتا، نہ نوشہرہ ڈوبتا اور نہ چارسدہ، صوابی و دیگر اضلاع کسمپرسی کی حالت میں ہوتے۔ دوسرے فریق کا موقف یہ ہے ”دیکھا ہم نے کہتے تھے کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہیے، اگر بن جاتا تو 1930 کے سیلاب سے زیادہ تباہی پھیلتی۔ اس بحث میں ہمارے بھائی ایک بنیادی حقیقت بالکل فراموش کر دیتے ہیں ایک تو یہ کہ 80 سال کے بعد ایسا سیلاب آیا ہے پھر تباہی دریائے کابل کے پانیوں نے نہیں مچائی، اصل مجرم دریائے سوات ہے جس کی لہروں کو منڈا ڈیم ہی سے لگا دی جا سکتی ہے۔ اس کی فزیبلٹی رپورٹ تیار ہے لیکن بوجوہ تکمیل نہیں ہو سکی۔ جب دریائے کابل 1930 میں تباہی لایا تھا تو اس وقت یہ بے لگام تھا اب وارسک ڈیم اور دیگر کئی چھوٹے منصوبوں کی وجہ سے اسکو نکیل ڈالی جا چکی ہے۔ منگلا ڈیم کی طرح وارسک کو بھی اونچا کیا جا سکتا ہے۔
رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ۔ اب جبکہ چارسُو موت اور تباہی کا رقص جاری ہے، ہمارے قومی سطح کے لیڈر اپنے شبستانوں میں بیٹھے ایک دوسرے کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے زرداری کو رگیدا ہے تو بابر اعوان نے میاں صاحب کی ٹانگ کھینچنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ان کی دیکھا دیکھی سارا سیاسی آرکسٹرا بجنے لگا ہے۔ میاں صاحب کا موقف یہ ہے کہ صدر زرداری کو فرانس اور برطانیہ کا دورہ کرنے کی بجائے سیلاب زدہ علاقوں کا چکر لگانا چاہیے تھا۔ نیز برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ”افسوسناک“ بیان کے بعد اس سے ملاقات قرین مصلحت نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا ہے تخت لاہور والوں کو اپنے لندن کے فلیٹ بیچ کر سیلاب زدگان کی امداد کرنا چاہیے، کھوکھلی ہمدردیوں سے کام نہیں چلے گا۔ صدر زرداری نے میاں صاحب کو بالواسطہ پیغام بھیجا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں وہ ڈیوڈ کیمرون کی ”آنکھوں میں آنکھیں“ ڈال کر بات کریں گے۔ یہ بیان اس اعتبار سے معنی خیز اور ”خوش کن“ ہے کہ اغلباً پہلے حکمران غےر ملکی آقاوں کو آنکھیں ”نیویں“ کر کے دست بستہ ملتے رہے ہیں۔ یہ سعادت مردِ حُر کے حصے میں آئی ہے جو برابری کی سطح پر ملاقات کر رہے ہیں۔
صدر زرداری کیمرون کو کس طرح ملتے ہیں اس کا پتہ تو جلد یا بدیر چل ہی جائے گا لیکن ہمیں کیمرون کی فہم و فراست پر حیرانی ضرورت ہو رہی ہے۔ مرزا نے کہا تھا
لیتا ہوں مکتبِ غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
لگتا ہے ڈپلومیسی کے سکول میں کیمرون کی سوچ بھی رفت اور بود سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ بیس سال بعد نیک بخت کی پارٹی کو حکومت ملی ہے، وہ بھی مخلوط حکومت جو کسی وقت بھی گر سکتی ہے۔ حضرت کی بلند سوچ کا یہی عالم رہا تو وہ دن دور نہیں جب اپنے ساتھ پارٹی کا بھی بھٹہ بٹھا دیں گے۔ برطانوی سیاست دان بڑے گھاگ مشہور ہیں، بڑی سوچ بچار کے بعد نپا تلا بیان دیتے ہیں۔ محترم نے ہندوووں کو خوش کرنے کے لئے متنازعہ بیان پہلے داغ دیا ہے۔ سوچ اور غور و فکر کو دریائے ٹیمز میں ڈال دیا ہے۔ رہی بات میاں صاحب اور زرداری کی تو دونوں کو اپنی حدود و قیود کا بخوبی ادراک ہے۔ یہ کبھی کھل کر کیمرون کی مذمت نہیں کریں گے۔ جس ملک میں آدمی کی اربوں کی جائیداد ہو، وسیع و عریض کاروبار ہو، وہاں کئی اندیشہ ہائے دور دراز ہر وقت دامن گیر ہوتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے۔ ویسا میں برطانوی ویزے کی فراہمی بھی شامل ہے۔ دونوں کو دور ابتلا میں اس کا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔