جوتا اچھالنا مشغلہ نہ بن جائے

خواجہ عبدالحکیم عامر ۔۔۔
تاریخ شاہد ہے کہ جس شخص نے بھی آواز خلق کو نقارہ خدا نہ سمجھتے ہوئے من مانیاں جاری رکھیں اسے بعد میں پچھتانا پڑا۔ اس ضمن میں بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ خاص کر حکمرانوں کی جنہوں نے اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر خلق خدا سے دوری اختیار کی اور خود کو عقل کل جانتے اور سمجھتے ہوئے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جسے اس کے عوام نے منع کیا پھر دنیا نے دیکھا کہ اپنی رعایا کے جذبات کی پرواہ نہ کرنے والے حکمرانوں کو نشان عبرت بننا پڑا۔
لندن سے خبر آئی ہے کہ عین اس وقت جب آصف علی زرداری برمنگھم کے کنونشن سنٹر میں خطابت کے موتی بکھیر رہے تھے کہ حاضرین میں موجود ایک ادھیڑ عمر دل جلے نے ان پر جوتا اچھال دیا جو خوش قسمتی سے زرداری صاحب تک نہ پہنچ سکا کیونکہ جوتا پھینکنے والا شخص سٹیج سے دور تھا۔ قبل ازیں مذکورہ کنونشن سنٹر کے باہر پاکستانی کمیونٹی کا ایک جم غفیر زرداری صاحب کے خلاف احتجاج کرتا رہا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی دولت ”گو زرداری گو“ کے نعرے لگا رہے تھے۔ بینر بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے۔
پاکستانیوں نے اپنے صدر کے ساتھ جو سلوک کیا۔ وجوہات کی سمجھ آتی ہے اور یہ ایسی وجوہات ہیں جنہیں نظرانداز کر دینا۔ غفلت کے زمرے میں آ سکتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی حکومتیں تو اپنے قومی و عوامی فرائض سے غافل ہوتی رہیں یا ہو رہی ہیں مگر پاکستانی قوم اپنیقومی حمیت اور غیرت سے غافل نہیں رہ سکتی تھی جو کام پاکستان میں ہونے کی توقع تھی۔ برمنگھم کنونش سنٹر میں ہو گیا۔ گویا پاکستانیوں نے ادھار سے کام نہ لیا۔ اب پاکستان میں کیا صورت حال بنتی ہے اس کے لئے آنے والے چند دن اہمیت کے حامل ہیں۔ سچ میری فطرت میں شامل ہے اپنی اسی عادت کے باعث اکثر مجھے نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔ آج میں اپنے دوستوں کو ایک سچ اور بتانا چاہتا ہوں کہ میں کل تک بھٹو فیملی کا خیرخواہ رہا ہوں مگر اس سچ کے ساتھ ایک سچ اور بیان کرنا چاہوں گا کہ برمنگھم میں صدر زرداری کے ساتھ جو سلوک کیا گیا مجھے اس حسن سلوک پر صرف اس لئے افسوس ہے کہ دیار غیر میں پاکستانی صدر کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا اور بس۔
صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے ترجمان دورہ فرانس و برطانیہ کے بارے میں جو بھی وضاحتیں کریں اپنی جگہ بجا مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ جناب زرداری کو حالیہ سنگین حالات میں پاکستانی عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بیرون ملک نہیں جانا چاہئے تھا۔ برطانیہ جا کر انہوں نے اپنے عوام کو بتا دیا ہے کہ وہ کتنے عوام دوست، محب وطن اور غیرت مند ہیں۔ زرداری صاحب کے سجن اور دشمن دورہ برطانیہ پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ مگر یہ سچ ہے کہ صدر صاحب نے دورہ برطانیہ کر کے اپنی سیاسی لائف کی ایک بڑی غلطی کی ہے نتیجتاً غیرت مندوں نے بھی ادھار نہیں رکھا اور ثابت کر دکھایا کہ عوام کی بات نہ ماننے والوں کا انجام یہی ہونا چاہئے جو ہو گیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ دوران تقریر حکمرانوں پر جوتا پھینکنے کا آغاز عراق میں ہوا تھا۔ جب ایک دل جلے عراقی صحافی نے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر جارج بش کی طرف اس وقت جوتا دے مارا تھا۔ جب عالمی غنڈہ تقریر کر رہا تھا مگر میرے نزدیک جوتا پھینکنے کی ابتدا پاکستان میں ہوئی تھی جب بھائی گیٹ لاہور کی گراﺅنڈ میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تقریر کر رہے تھے کہ کسی دل جلے نے ان کی طرف جوتا اچھالا۔ بھٹو صاحب زیرک انسان تھے۔ بات گول کر گئے اور تقریر کا موضوع روک کر کہنے لگے، ”جانتا ہوں کہ چمڑا مہنگا ہو گیا ہے۔“ تاریخ بتاتی ہے کہ صدر بش پر جوتا پھینکنے والے صحافی کو موقع پر گرفتار تو کر لیا گیا مگر بعد میں عدالت نے اسے رہا بھی کر دیا۔ بھٹو شہید پر جوتا اچھالنے والے شخص کو بھی پکڑنے کے کچھ ہی دیر بعد چھوڑ دیا گیا۔ اب پتہ چلا ہے کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کی طرف جوتا پھینکنے والے شخص کو بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے اور تاریخ و واقعات بتاتے ہیں کہ حکمرانوں پر جوتے اچھالنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو دوستو اس سے پہلے کہ اپنے حکمرانوں سے نالاں لوگ جوتے پھینکنے کو مشغلہ سمجھ بیٹھیں، حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لے کر ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہئے جو جوتے پھینکنے کا سبب بنیں۔ بطور مثال ارباب غلام رحیم کو پیش کیا جا سکتا ہے جو ہر اس کام سے تائب ہو چکے ہیں جس سے جوتے پھینکنے کا اندیشہ ہو۔