’’نیب ‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’نیب ‘‘

چیئرمین نیب کے پاس کام کا وسیع تجربہ ہے۔ انہیں کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور ایمانداری کے ساتھ اپنا کام سرانجام دیں گے تو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہو گی اگر دیکھا جائے تو ان کی ٹیم اچھی ہے وہ اس سے مزید بہتر کام لے سکتے ہیں ۔

نیب کے دفتر میں ملک کے مختلف حصوں میں جیسے ہی کوئی شکایت درج ہوتی ہے، اس ادارے کے چیئرمین کی میز پر پڑے کمپیوٹر کی اسکرین پر شکایت کا ایک نمبر الاٹ کر دیا جاتاہے۔ درج ہونے والی شکایت ایک ایسے خود کار نظام کو حرکت میں لے آتی ہے، جس کے تحت نیب کے تفتیش کار اسے مقررہ وقت کے اندر اندر نمٹانے کے پابند ہو جاتے ہیں۔ آنے والی درخواست کا پہلا مرحلہ انکوائری، دوسرا تفتیش، تیسرا عدالت میں قابل قبول شواہد کی تیاری اور چوتھا عدالت میں مقدمہ قائم کرنا ہے ان چاروں مراحل میں سے ہر ایک کے لئے وقت مقرر ہے اور کسی بھی مرحلے میں اگر تفتیش کار کو زیادہ وقت درکار ہو تو اسے اپنے دفتر کے انچارج سے لے کر چیئرمین تک کو قائل کرنا ہوتا ہے کہ دیئے گئے وقت میں تفتیش کیوں مکمل نہیں ہو سکی۔ سینئر افسروں کے سامنے جواب دہی اتنا مشکل کام ہے کہ ہر تفتیش کار دستیاب وقت میں ہی تفتیش مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ درخواست جیسے ہی دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو چیئرمین کی میز پر پڑا کمپیوٹر ایک بار پھر جاگ جاتا ہے اور صورت حال سے آگاہ کر دیتا ہے۔ مقررہ وقت میں ہر درخواست پر کارروائی کے نظام اور اس نظام کے رکھوالے کمپیوٹر نے نیب کے اس کلچر کو مکمل طور پر بدل ڈالا ہے، اور نیب افسران ملزمان سے پلی بارگینگ کر کے کیسز کو سالہا سال تک لٹکا دیتے ہیں، ان بدعنوان رشوت خور افسروں اور سیاست دانوں نے اس مادر وطن کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کے لئے ان کا بے رحمانہ احتساب ضروری ہو گیا ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے نیب کو حرکت میں آنے کی اجازت دے دی ہے کہ وہ بدعنوانی کا ارتکاب کرنے والے ہر فرد پر ہاتھ ڈال سکتی ہے۔ نیب نے بڑے طمطراق سے اعلانات کیے کہ اس ادارے نے کرپشن کے اربوں روپے سفید پوش ملزموں سے اگلوا لئے ہیں۔ نیب اب تک قائم ہے اور حسب توفیق کام کر رہا ہے تاہم یہ بات اس وقت بھی نا قابلِ فہم تھی کہ مجرموں کو لوٹی ہوئی رقم یا اس کا کچھ حصہ وصول کرکے بری کر دینا آیا قرین انصاف ہے یا نہیںاور آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔
نیب قوانین میں تبدیلی لانی ہے تو سب کو متفقہ طور پر لانی چاہیے۔ ہمارے قوانین میں سقم موجود ہیں جن کے باعث ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔ آصف زرداری جیسے ملزم کو بھی بری کر دیا جاتا ہے یہاں یہ کیس کو سیاسی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور صرف الزام پر ہی دوسروں کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے جو غلط وطیرہ ہے۔ نیب قوانین کی تبدیلی کیلئے تقریباً تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ احتساب سے کسی کو بھی بری الذمہ نہیں ہونا چاہیے۔ نیب کے نئے بل کو پبلک کیا جانا چاہیے تاکہ اس پر عوام میں بحث ہو اور بہتری آئے کرپشن ہر ادارے میں موجود ہے لیکن محض الزام کے باعث کسی کو بے عزت کرنا مناسب نہیں ہاں کرپشن ثابت ہو جائے تو سخت سزا دی جائے نیب نے دیگر کرپٹ افراد کو پکڑنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو خوش آئند ہے اس سے لازمی طور پر ان لوگوں کی زبانیں بند ہونگے جو اٹھتے بیٹھتے نیب کو کوستے رہتے تھے۔ ماضی میں نیب نے صرف چند مخصوص افراد کو نشانے پر رکھا ہوا تھا جس سے صوبوں کو تفریق کا پیغام جا رہا تھا لیکن اب امید بر آئی ہے کہ چیئرمین نیب اپنے عمل سے بتائیں گے کہ سب کے ساتھ یکساں قوانین کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ نئے چیئرمین نیب نے ابتدا اچھی کی ہے۔ سب سیاستدانوں کے کیسز کھول دینے سے اس تاثر کی نفی ہوئی کہ احتساب صرف شریف خاندان کا ہو رہا ہے۔ نیب اگر کرپشن پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان کا مستقبل روشن ہو گا۔ نیب کو ہرگز یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ اس کا رویہ طاقتور اور کمزور سے مختلف ہے۔ ہمارے یہاں ’’کلچر ‘‘ہے کہ طاقتور قابو میں آ جائے تو قانون تک بدل دیئے جاتے ہیںاور اگر غریب ہتھے چڑھ جائے تواسے قانون کے شکنجے میں کس دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم سے پہلے امتیں اس بنا پر تباہ ہوئی تھیں کہ وہ امیر اور غریب کے درمیان انصاف برتنے میں تفریق رکھتی تھیں۔ ہمارے ہاں اب نیب قوانین بدلنے کی بات ہو رہی ہے تو جن کو پہلے قوانین کے تحت سزا دی گئی وہ کہاں فریاد کریں۔ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے پرویز مشرف نے بھی اگر غلط کام کیا ہے تو اسے سزا دینی چاہیے۔ تاہم اسے یہ حکمران کیسے سزا دے سکتے ہیں جو خود اربوں کی لوٹ مار میں ملوث ہیں ان میں تو اخلاقی جرأت ہی نہیں ہو سکتی کہ کسی کو سزا دے سکیں۔ غلط الزام لگانے والوں کو بھی پکڑا جانا چاہیے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب کرپشن کو کیسے روک سکتا ہے؟ کرپشن روکنے کے لیے مختلف طریقے ہیں سب سے پہلے عوام میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ رشوت اور کرپشن معاشرے کا ایسا ناسور ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر دے گا ،اسلامی نکتہ نظر کے لحاظ سے بھی رشوت اور کرپشن کے بارے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی مہنگائی کے لحاظ سے بڑھائے،اگر کسی ملازم کی تنخواہ اچھی ہو گی تووہ کبھی بھی کرپشن کے قریب نہیںجائے گا ،اس لیے اس جانب بھی حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ کرپٹ لوگوں کو گرفتار کر کے فی الفور کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ اگر آپ کسی کرپٹ شخص کو گرفتار کر کے قید کر دیں گے تو وہ مختلف ذرائع استعمال کر کے وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے گا اس لئے نیب حکام کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ وہ ملزم کے خلاف جلد سے جلد تفتیشی مراحل مکمل کیے جائیں، تاکہ ملزم کو اس کے کئے کی جلد سزا مل سکے۔