افغان امن عمل

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
افغان امن عمل

افغانستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے بنے چار ملکی تعاون گروپ نے اب تک چار بار میٹنگ کی ہے۔ اس چار ممالک کے مذاکراتی عمل میں پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ شامل ہیں۔ جس کا آغاز دسمبر 2015 ء میں ہوا تھا۔ ان چار ممالک کے آخری اجلاس 23 فروری کے جوائنٹ اعلامیے کے مطابق افغان طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے اور مارچ کے پہلے ہفتے میں اگلا اجلاس پاکستان میں ہو گا۔ جس کا وقت گزر چکا ہے۔ جس کے بعد افغان طالبان نے اپنی شرائط عائد کرتے ہوئے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ طالبان نے تین پیشگی مطالبات کئے ہیں۔ نمبر ایک‘ جب تک افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا کا ٹائم فریم دیا جائے‘ نمبر دو طالبان کا نام عالمی بلیک لسٹ سے نکالا جائے اور نمبر تین طالبان قیدی رہا کئے جائیں، طالبان نے کہا ہے کہ اس کے بغیر مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔ اصل میں طالبان کے ان مطالبات کی کہا نی یہ ہے کہ افغان طالبان مذاکرات کیلئے اپنے ہارڈ کور لوگوں کو جو مذاکرات کے حامی نہیں ہیں انہیں مطمئن کرنے کیلئے یہ کر رہے ہیں کیونکہ افغان طالبان کو ڈر ہے کہ اس طر ح مذاکرات میں جانے سے افغان طالبان کہیں تقسیم نہ ہو جائیں اور کو ئی الگ گروپ نہ بن جائے۔ اس سے پہلے اشرف غنی طالبان کے ساتھ مذاکرات کیخلاف بیان دیتے رہے تھے کہ جنگ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس بار افغان صدر نے طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ طالبان کو جنگ یا امن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ گزشتہ سال جولائی میں افغان طالبان لیڈر ملا عمر کی موت کی خبر پھیل جانے کی وجہ سے مصالحتی عمل معطل ہو گیا تھا۔
اس پر امریکہ کے دو مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں ایک یہ کہ امریکی صدر نے طالبان کے ردعمل کو ایک حربہ قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔ اور دوسرا مارک ٹونر نے کہا کہ اگر طالبان امن مذاکرات سے انکاری رہے تو امریکہ جنگ زدہ ملک میں امریکی فوج کے قیام میں اضافہ کرسکتا ہے اور کہا ہے کہ طالبان مذاکرات میں نہ آئے تو خون خرابے میں اضافہ ہو گا۔ اور زمینی آپریشن جاری رہیں گے۔
جنوری 2013ء کو امریکی صدر اوباما اور سابق افغان صدر حامد کرزئی وائٹ ہاوس میں ملاقات میں اس بات پر رضامند ہو گئے تھے کہ افغانستان میں2013ء کے موسم بہار میں امریکی افواج کی زیادہ تر جنگی کاروائیاں ختم کر دی جائیں۔وائٹ ہائو س میں حامد کرزئی کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا تھا کہ موسم بہار کے شروع سے ہمارے فوجیوں کا ایک مختلف مشن ہو گا، وہ تربیت ، مشورہ اور افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کریں گے۔ انہوں نے دہرایا تھا کہ امریکہ افغانستان میں کوئی مستقل اڈہ نہیں رکھنا چاہتا۔ امریکی انتظامیہ نے افغان صدر حامد کرزئی کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ 2014ء کے بعد افغانستان میں اس کے فوجی موجود نہیں رہیں گے تاہم افغانستان میں شدت پسندوں کا پیچھا کرنے اور افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کرنے کے لیے 6ہزار سے 15ہزار تک فوج افغانستان میں رکھی جائے۔ 2016ء میں بھی افغان عوام امریکی افواج کا افغان شہروں اور قصبوں سے فوری انخلاء چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں افغان خودمختاری کے لیے یہ بہت اہم ہے۔
اگر افغان حکام کے یہ دعوے درست ہیں کہ 2014ء کے اوائل سے افغان سکیورٹی فورسز 80فیصد آپریشن کو سنبھال رہی ہیں اور آئندہ 90فیصد افغان عوام سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان کے اکثر علاقوں پر آج بھی افغان حکومت اپنی رٹ برقرار رکھنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو سکی۔ حقائق و حالات یہ ہیں کہ امریکی حکام 3 برس گزرنے کے باوجود اس عذر لنگ کا سہارا لے رہے ہیں کہ افغان حکومت کی دعوت پر ہی امریکی فوجی افغانستان میں2014ء کے بعد ایک معاہدے کے تحت قیام کررہے ہیں، جہاں تک موسم بہار میں خون خرابے کا تعلق ہے تو افغان طالبان جو کہ ہر سال موسم کی تبدیلی کے ساتھ موسم بہار آپریشن کے نام سے کارروائیاں کرتے ہیں، افغان عوام کی خاطر اس کا اعلان نہ کر یں اور امریکہ کو بھی چاہیے کہ وہ خطے میں امن کیلئے کسی لچک کا مظاہرہ کرے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب امریکی فوجی کی بازیابی کیلئے امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے اور امریکی فوجی کی بازیابی کیلئے پانچ طالبان کو گوانتانوموبے جیل سے رہا کیا تھا‘ تو اب افغان عوام اور خطے کے امن کیلئے ماحول سازگار بنانا ہو گا اب مذاکرات کی کنجی امریکہ کے ہی پاس ہے۔