’’تحفظ حکمران ‘‘ بل کی منظوری!!

’’تحفظ حکمران ‘‘  بل کی منظوری!!

پنجابی کی ایک مشہور کہاوت ’’دکھ یاراں دے تے ناں لے لے روندی بھراواں دے‘‘ کے مصداق جس طرح سیاستدان ’’اقتدار‘‘ کی ہوس میں پاکستان بچانے کا نعرہ لگا کر میدان سیاست میں وارد ہوتے ہیں۔ پھر وہی سیاستدان جب دونوں ہاتھوں سے وطن عزیز کو لوٹتے ہیں تو ’’پاکستان بچانے‘‘ کے ’’دعویدار‘‘ مذکورہ صاحب خود کو سزا سے بچانے کیلئے ’’استثنیٰ‘‘ کی شق تلاش کرتے نظر آتے ہیں بالکل ہی صورتحال ’’تحفظ پاکستان بل‘‘ کی ہے جو کہ درحقیقت تحفظ حکمران بل ہے یہ نئی بات نہیں ہے ہر حکمران چاہے وہ جمہوری ہو یا آمر اپنے اقتدار کو تحفظ دینے کیلئے اور ذاتی مفادات کے کوئی پیش نظر وہ آئین میں ترامیم بھی کرتا ہے اور نئے بل بھی متعارف کراتا ہے۔ ’’تحفظ پاکستان بل‘‘ بالآخر قومی اسمبلی سے بھی منظور ہو گیا ہے جماعت اسلامی کے علاوہ تمام جماعتوں نے حمایت کی ہے یہ دو سال تک نافذالعمل ہو گا اور اس کیمطابق حکومتی رٹ چیلنج کرنے والوں، فرقہ واریت، تشدد اور دہشت گردی پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی ہو گی اور غیر ملکیوں شدت پسندوں، غیر ملکی دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی جا سکے گی۔ فورسز کو گریڈ 15 کے افسر کی اجازت سے کسی بھی مشتبہ شخص کو گولی مارنے کا اختیار ہو گا۔ یہ بل سراسر بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اپوزیشن کا وجود ہی نہیں ہوتا جو ایسے حکومتی اقدامات کی بھرپور مخالفت کرے۔ مفاہمت اور مک مکا کے تحت حکومت ہر جائز اور ناجائز قانون پاس کرا لیتی ہے۔ صدر زرداری کے دور میں ’’ناکام لیگ‘‘ تماشائی بنی رہی اور ملکی اداروں کی تباہی ہوتی رہی۔ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ’’ناکام لیگ‘‘ کے جیالے ٹاک شوز میں زرداری حکومت کو ’’ڈرامائی‘‘ انداز میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ فرینڈلی اپوزیشن اور اداروں کی تباہی پر خاموش رہنے کا عوضانہ ’’ناکام لیگ‘‘ نے وصول کیا کہ زرداری حکومت سے تیسری بار وزیر اعظم بننے کا قانون پاس کرا لیا۔ پھر انہی زرداری صاحب کے دور صدارت کو نواز شریف نے جمہوریت کی بہترین خدمت قرار دیا جس زرداری حکومت کے بارے شہباز شریف کی زبان ہر ہر وقت یہ ورد رہتا تھا کہ وہ زر بابا چالیس چوروں کے ٹولے کو بھاگنے نہیں دینگے ایک ایک پائی وصول کرینگے اب شہباز شریف بتائیں کہ ایک سال میں حکومت ان سے ایک پائی بھی وصول کر سکی ہے یا وصول کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے؟ اب نیب کا چیئرمین بھی شہباز شریف کے بقول اسی ’’زر بابا چالیس چوروں کے ٹولے کی مرضی سے لگایا گیا ہے جہاں سے ایک ایک کر کے سب ’’با عزت‘‘ عدم ثبوت کی بنا پر بری ہو جائینگے۔ اسکے بدلے اب زرداری پارٹی آنکھیں اور کان بند کئے بیٹھی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ بیروزگاری انتہا پر ہے۔ لاقانونیت کا حال سب کے سامنے ہے مگر زرداری پارٹی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
 ’’تحفظ پاکستان بل‘‘ کی منظوری بھی اس ’’مفاہمت‘‘ کا ثمر ہے مفاہمت کا سادہ سا مفہوم ہے کہ ’’آئو مل کر ملک کو لوٹیں‘‘ تحفظ پاکستان بل اب مکمل طور پر مخالفین اور عوام کو دبانے کیلئے ناجائز استعمال ہو گا کسی بھی مخالف کو مارتے کیلئے گریڈ 15 کے آفیسر سے ’’رابطہ‘‘ کر لیا جائے گا۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر لاہور ماڈل ٹائون کا سانحہ بل کی منظوری کے بعد رونما ہوتا تو عوامی پارٹی کے 9 بے گناہوں کا قتل ’’تحفظ پاکستان بل‘‘ کے زمرے میں لایا جاتا۔ نہ ہی رانا ثناء سے ’’ڈرامائی‘‘ انداز میں استعفیٰ لینے کی ضرورت پیش آئی نہ ہی خادم اعلیٰ کسی کو جواب دہ ہوتے۔ اس بل کے تحت کونسے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ جو دہشت گرد ہزاروں کی تعداد میں جیلوں میں بند ہیں انہیں تو ڈر کے مارے سزا دینے سے بھی حکومت ڈرتی ہے۔ اب کیا ان دہشت گردوں کو گولی ماری جا سکے گی؟ بل کے مطابق غیر ملکی شدت پسندوں اور غیر ملکی دہشت گردوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ ’’ذات دی کوڑھ کرلی تے شہتیراں نوں جپھے‘‘ کیا مذاق ہے؟ یہ بل محض جھوٹ کا پلندہ ہے اور بنیادی انسانی حقوق کے سراسر منافی ہے رہا یہ سوال کہ تمام سیاسی پارٹیوں کی اسے حمایت حاصل ہے تو جس ملک میں سیاستدان بکتے ہیں کروڑوں کی ٹکٹیں لے کر الیکشن جیتتے ہوں وہاں حکومت کا کسی بھی قسم کا بل منظور کرانا کوئی بڑی بات نہیں زرداری پارٹی اپنے ’’ذاتی مفادات‘‘ کی خاطر حکومت کے ہرفیصلے کی بے شک وہ غلط ہو ’’خاموشی‘‘ اور ادب کے ساتھ حمایت کریگی۔ ’’مولانا‘‘ فضل الرحمن سے حکومت کونسی حمایت حاصل نہیں کر سکتی؟ آئین 1973ء میں عوام کے بنیادی حقوق کو جو تحفظ دیا گیا ہے ان شقوں کو تو حکمران طبقہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ذاتی ’’مقاصد‘‘ کیلئے آئے روز نئے بل لانے کا جواز کیا ہے؟ اپنے مسائل کے حل کیلئے جب عوام جمہوری احتجاج بھی کریں گے تو یہ ’’تحفظ حکمران بل‘‘ ان پر آزمایا جائیگا یا پھر سیاسی مخالفین اسکی بھینٹ چڑھیں گے اور پاکستان کے تحفظ کا نام لے کر اصل میں حکمران طبقہ خود کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔