چودھری نثار اپنی پوزیشن واضح کریں

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی
چودھری نثار اپنی پوزیشن واضح کریں

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے اپنے ایک بیان میں یہ تو واضح کر دیا ہے کہ انکی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کسی وزیر کیخلاف شکایت کے حوالے سے نہیں تھی بلکہ اس ملاقات میں اہم قومی اور سیاسی مسائل زیر بحث لائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی وزیر انکی وزارت میں مداخلت کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی وزیر ایسا کر سکتا ہے۔ انہوں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اپنے اختلافات کی سختی سے تردید کی۔ تاہم چودھری نثار نے خواجہ محمد آصف، پرویز رشید اور خواجہ سعد رفیق سے اختلافات کی بابت اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن میں کسی گروپ بندی اور انتشار کے حوالے سے بھی خبروں کو غلط قرار دیا۔ چودھری نثار علی خان نے یہ بھی کہا ہے کہ ممکن ہے ایک یا دو وزیر اپنے بغض کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے خفیہ طور پر ان کیخلاف سازشیں کر رہے ہوں مگر ان خفیہ سازشوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حیرت کی بات ہے کہ چودھری نثار علی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر چودھری نثار اور بعض وزراء کے درمیان اختلافات پیدا نہیں ہو چکے تھے تو چودھری نثار کے تحفظات دور کرنے کیلئے بار بار وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو انکے پاس کیوں جانا پڑا۔ چودھری نثار اگر مختلف وجوہات کے باعث اپنی پارٹی قیادت سے ناراض نہیں تھے تو اختلافات کی طویل عرصے تک خبریں شائع ہونے کے بعد انکی ایک طویل ملاقات نواز شریف سے کیوں کروائی گئی۔ جب 8 جون کو کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو یہ کیوں کہنا پڑا کہ وزیر اعظم کیلئے کراچی ہوائی اڈے پر دہشت گردی کے سنگین واقعہ کے 24 گھنٹے بعد بھی اپنے وزیر داخلہ سے رابطہ قائم کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ چودھری نثار اس دن بھی قومی اسمبلی سے غائب تھے جب وزیر خزنہ اسحاق ڈار نے بجٹ پیش کیا تھا۔ جب وزیر اعظم نواز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے آتے ہیں تو یہ دن تمام وزراء اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان کیلئے بہت اہم ہوتا ہے۔ مگر دو مرتبہ چودھری نثار قومی اسمبلی کے ان اجلاسوں سے بھی غائب رہے جن میں خود وزیر اعظم نواز شریف نے شرکت کی۔
جن معاملات پر چودھری نثار کا اپنی پارٹی لیڈر شپ سے اختلاف پیدا ہوا ان میں سب سے اہم مسئلہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ غداری کے مقدمہ میں حکومت کی طرف سے یقین دلایا گیا تھا کہ جب جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف فرد جرم عائد ہو جائیگی اور مقدمہ کی باقاعدہ سماعت شروع ہو جائیگی تو پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائیگا اور انہیں اپنی والدہ کی عیادت کیلئے بیرون ملک جانے دیا جائیگا۔ چودھری نثار کا موقف یہ ہے کہ حکومت کو اپنے وعدے کی پاسداری کرنی چاہئیے جو نہیں کی گئی۔ اگرچہ نواز شریف کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں کہ انکی جنرل (ر) پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں اور یہ کہ پرویز مشرف انکے نہیں بلکہ آئین، قوم اور پاکستان کے مجرم ہیں۔ لیکن عام تاثر یہی ہے کہ نواز شریف ذاتی طور پر بھی وہ سب کچھ نہیں بھولے جو 1999ء میں انکی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت نے انکے ساتھ اور انکے پورے خاندان کے ساتھ کیا۔ نواز شریف کواپنے خاندان کے تمام افراد کے ساتھ طویل مدت تک جلا وطن کی تو پاکستان میں ائیر پورٹ سے ہی زبردستی دوبارہ سعودی عرب بھجوا دیا گیا۔ اگر نواز شریف کی پرویز مشرف کیخلاف ذاتی رنجش کا کوئی حوالہ موجود نہ ہو تب بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے دو دفعہ آئین توڑا۔ دراصل آئین ہی پرویز مشرف کیخلاف مدعی ہے۔ پرویز مشرف کے ساتھ رعایت برتنے کا نواز شریف یا چودھری نثار کو کوئی حق حاصل نہیں۔ چودھری نثار نے باقی معاملات کے حوالے سے تو اپنا وضاحتی بیان اخبارات کو جاری کر دیا ہے۔ اب انہیں یہ وضاحت کرنی چاہئیے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو غداری کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ہی بیرون ملک بھیجنے کیلئے کیوں اپنی حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں۔ کیا پرویز مشرف کیخلاف غداری کے مقدمہ کا آغاز قوم کو بے وقوف بنانے کیلئے کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف صرف آئین توڑنے کے ہی ملزم نہیں ہیں بلکہ وہ اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمہ میں بھی نامزد ملزم ہیں۔ پرویز مشرف کیخلاف جتنے بھی مقدمات ہیں جب تک وہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ جاتے اس وقت تک پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے کیسے نکالا جا سکتا ہے۔ کیا اس ملک میں بارسوخ ملزموں کیلئے الگ قانون ہے؟ چودھری نثار کو اس معاملہ میں اپنی پوزیشن بھی واضح کر دینی چاہئیے۔ کہ ان کا اور انکے قائد نواز شریف کا غداری کے مقدمہ کے حوالے سے اور بالخصوص ای سی ایل سے پرویز مشرف کا نام نکالنے کے حوالے سے موقف مختلف کیوں ہے۔ پرویز مشرف غداری کے مقدمہ اور دیگر مقدمات میں سزا یاپ ہوتے ہیں یا بری یہ فیصلہ عدالت پر چھوڑ دینا چاہئیے۔ چودھری نثار کو اس معاملے میں زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئیے۔ ہمارے خیال میں چودھری نثار کو مطمئن ہو جانا چاہئیے کہ نواز شریف ان سے وزارت داخلہ واپس لے کر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کو اب وزیر داخلہ نہیں بنا رہے۔