وزیراعظم صاحب! پی ایم ڈی سی کی بھی خبر لیجئے

کالم نگار  |  بیدار سرمدی
وزیراعظم صاحب!  پی ایم ڈی سی کی بھی خبر لیجئے

لگتا ہے حکومت کے خلاف سازشوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ایک سازش کا سرا یہ ہے کہ اسلام آباد میں موجود پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی بے رحم عمارت سے لیکر پاکستان کے کونے کونے میں پہلے ہسپتالوں اور لوگوں کے علاج معالجے میں مصروف ڈاکٹروں کے ٹھکانوں تک گزشتہ ایک برس سے یہ شور برپا ہے مگر ساری آوازیں پی ایم ڈی سی کی عمارت اور صحت کی وزارت کے دفاتر سے ٹکرا ٹکرا کر واپس آرہی ہیں۔ فیصلہ ساز نشستوں پر بیٹھے چند افراد کی آپس کی ضد اور محاذآرائی نے صحت کے پورے ڈھانچے کو بربادی کے خطرے سے دوچار کرنا شروع کر دیا ہے مگر بے حسی ہے کہ دیکھنے والی۔ ینگ ڈاکٹروں کے ایک لیڈر سلمان کاظمی کے بقول اس بے حسی کا صرف ایک پہلو یہ ہے کہ ایک ہزار سے کچھ کم پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے سینئر ڈاکٹروں کی رجسٹریشن کی تجدید ہی نہیں ہو رہی‘ یہ وہ ڈاکٹر ہیں جنہوں نے سی پی ایس پی یعنی کالج آف فزیشنز اینڈ سرجن پاکستان کراچی سے ایف سی پی ایس کی ڈگری لے لی ہے اور معمول کیمطابق انکی دوبارہ سینئر ڈاکٹر کے طورپر رجسٹریشن ہونا تھی مگر پی ایم ڈی سی کے اندرونی جھگڑوں کے باعث انکو پی ایم ڈی سی کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہو سکا۔ گزشتہ پچاس برسوں سے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پاکستان میں ڈاکٹر کی حیثیت سے ملازمت کرنے یا پریکٹس کرنے کیلئے پی ایم ڈی سی کی رجسٹریشن ضروری ہے اور ایم بی بی ایس کے بعد اعلیٰ میڈیکل ڈگری ایف سی پی ایس کا حصول وفاقی حکومت کے قائم کردہ خودمختار ادارے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجن پاکستان سے ہی ممکن ہے۔ پیپلزپارٹی کے سابق دور میں سندھ کے ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج سے وابستہ شخصیت کو پی ایم ڈی سی پر مسلط کیا گیا اور تب سے یہ ادارہ سیاست اور کرپشن کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے اور آج حال یہ ہے کہ تمام کام ٹھپ پڑے ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ سینئر ڈاکٹروں میں سے 95 فیصدملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں رات دن مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں مگر ایف سی پی ایس کے بعد پی ایم ڈی سی کی طرف سے نئی ڈگری کے حوالے سے رجسٹریشن میں تاخیر کے باعث ان کو کئی پریشانیاں لاحق ہیں۔ علاج معالجے آپریشن کی صورت میں وہ قانونی تحفظ سے محروم ہیں اور ایک اہم مسئلہ جس کی طرف سے ایک سینئر ڈاکٹر سید صہیب حیدر نے اشارہ کیا ہے کہ وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے سینئر رجسٹرار کیلئے اہلیت ہونے کے باوجود محض رجسٹریشن کی عدم موجودگی کے باعث انٹرویو کیلئے نظرانداز کئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح میوہسپتال سمیت صرف لاہور کے بڑے ہسپتالوں کے درجنوں ڈاکٹروں کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی کی کوتاہی کے باعث اپنا مستقبل دائو پر لگتے دیکھ کر ایک اور ڈاکٹر لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر نبیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو فاضل عدالت نے فوری ریلیف دیتے ہوئے آرڈر دیا کہ انہیں ایک ہفتے کے اندر عبوری رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے تو کیا اب ایک معمول کے کام کیلئے سینکڑوں متاثرہ ڈاکٹروں کو فاضل عدالت عالیہ کا رخ کرنا پڑیگا تاکہ وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں شامل ہو سکیں۔متعلقہ وزارت اور حکام کی پی ایم ڈی سی کے بحران سے لاتعلقی یا بے حسی کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ اس جولائی کے آغاز میں قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن نے وزارت صحت اور پی ایم ڈی سی کی ملی بھگت اور بے حسی کا دل کھول کر ماتم کیا اور اعلان کیا کہ وہ تحریری طورپر یہ معاملہ سپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے علم میں لا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی اس ذیلی کمیٹی کے کنوینر ذوالفقار علی بھٹی کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں ڈاکٹر اظہر جدون‘ سید غازی گلاب جمال‘ عبدالقہار خان ودان‘ ڈی جی اکٹر جہاں زیب اورکزئی شریک ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹی کا کہناتھا کہ وزیرمملکت سائرہ افضل تارڑ اور سیکرٹری راشدہ ملک نے اس اہم اجلاس میں شرکت نہ کرکے پی ایم ڈی سی کے معاملے کو مزید لٹکا دیا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صہیب حیدر بھی ڈاکٹر نبیل کی طرح عدالت عالیہ کا رخ کریں اور ان کو بھی عبوری ریلیف مل جائے اور وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں شامل ہرکر اپنا حق حاصل کر لیں‘ لیکن یہ سب کچھ وہ تو نہیں جس کی ایک جمہوری معاشرے میں توقع کی جاتی ہے۔