سوچنے کی مہلت

کالم نگار  |  محمد سلیم بٹ
سوچنے کی مہلت

پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی قیادتیں آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے فوج کی پشت پر کھڑی ہیں۔ عوام بھی سیاسی شعبدہ بازوں اور تماشوں سے تنگ آچکے ہیں۔ کس جماعت کو حکومت میں رہنا ہے اس کا فیصلہ وہ برسراقتدار جماعتوں کی کارکردگی دیکھ کر 2018ء کے انتخابات میں کریں گے۔
لیکن ہم اپنے بدترین دشمن خود ہی ہیں ہمیں احساس نہیں کہ شمالی وزیرستان میں جو جنگ لڑی جا رہی ہے یہ روایتی جنگ نہیں دہشت گرد نسلوں سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔ یہ زمین کے چپے چپے سے واقف ہیں انہوں نے زمین میں خندقیں اور پہاڑوں میں میلوں لمبے غار کھود رکھے ہیں۔ اُن کے پاس گولے بارود اور اسلحے کے جدید ترین ذخائر ہیں یہ خودکش حملوں اور پہاڑوں پر بیٹھ کر فائرنگ کے ماہر ہیں۔ اُن کی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں ہے اور مشکل وقت میں وہ وہاں چلے جاتے ہیں۔ اُن کے پاس افغان شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی ہیں۔ افغانستان کے مختلف شہروں میں اُن کے کاروبار اور زمینیں ہیں۔ پاک فوج ان سے لڑ رہی ہے۔ شروع میں یہ پاک فوج کو وزیرستان میں داخل ہونے کا موقع دیں گے جسے فوجی اصطلاح میں Suck in کرنا کہتے ہیں۔ ہم جب پوری طرح علاقے میں داخل ہو جائیں گے تو یہ حملے شروع کر دیں گے، اور اپنی گوریلا جنگ کا دائرہ ہمارے شہروں، محلوں اور گلیوں تک پھیلا دیں گے۔ ان حملوں کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں مستقل فوج رکھنا ہماری مجبوری بن جائے گی۔ اس فوج کے لئے سپلائی لائن بھی بنانا پڑے گی جس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے اور فوج کو طویل مدت کے لئے وہاں رہنا پڑے گا، اور ہماری سویلین آبادی بھی بے گھر رہے گی۔ فوجی حکمت عملی یہ تھی کہ وہاں کے لوگوں کو ان علاقوں سے نکلنے کیلئے مہینہ ڈیڑھ مہینہ کی مہلت دی جائے اور اس کے بعد میر علی اور میران شاہ دونوں قصبوں میں بمباری کے بعد ٹینکوں اور توپوں سے حملہ کیا جائے۔ اس آپریشن کے بعد وہاں تعمیر نو کا کام شروع کیا جائے نئے جدید شہر آباد کئے جائیں۔ یہ بات ذہن میںرہنی چاہئے کہ اگر ہم نے آئی ڈی پیز کو مطمئن کیا تو ہم جنگ جیت جائیں گے ورنہ اور طالبان پیدا ہوں گے۔ اس معاملے کی گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو اس کے پیچھے تین عوامل کارفرما ہیں۔ جن کا جاننا ضروری ہے اور ان کا قلع قمع کئے بغیر معاملہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچے گا۔پہلی وجہ افغانستان میں سالانہ 30 ارب ڈالرز کی منشیات کی پیداوار ہے جبکہ افغانستان کا قومی بجٹ 7 ارب ڈالر ہے۔ دوسری طرف 2012ء میں افغان باشندوں نے دبئی میں 12 ارب ڈالر کی جائیدادیں خریدیں۔ افغانستان میں2012-13ء میں تین ہزار ٹن ہیروئین پیدا ہوئی۔ جس کا زیادہ تر استعمال پاکستان میں ہوتا ہے اور اسی راستے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں جاتا ہے۔ جب تک دہشت گردی کی معاشی امداد جاری رہے گی دہشت گردی بھی جاری رہے گی۔ ہمیں طالبان کے مختلف گروہوں کا تجزیہ کرنے کے بعد علم ہو چکا ہے کہ طالبان پانچ قسم کے ہیں ان سب کا بنیادی فلسفہ عیسائیوں اور یہودیوں کو تباہ کرنے کے لئے ایک مضبوط اسلامی ملک کا حصول ہے۔ جس کیلئے انہوں نے پاکستان، افغانستان، سوڈان اور کینیا کو اپنا ہدف چنا ہے۔ تیسری اور سب سے اہم وجہ مذہب کی ٹھیکیداری ہے ہمارے ملک میں72 قسم کے مسالک یا فرقے ہیں۔ ہر فرقہ اور گروہ اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک میں کسی کو بھی شیعہ، سُنّی، وہابی قرار دے کر اُس کی جان خطرے میں ڈالی جا سکتی ہے۔ یہ مسئلہ تب تک ختم نہیں ہو گا جب تک حکومت مسجدوں اور امام بارگاہوں کو قومی تحویل میں نہیں لیتی۔ حکومت جب تک اس مذہبی سوچ کی جڑ نہیں کاٹتی فرقہ واریت پر پابندی نہیں لگاتی نفرت کا مواد یعنی کتابوں اور مذہبی لٹریچر اور تقریروں پر سزائے موت طے نہیں کرتی یہ مسئلہ اور اس مسئلے سے جڑی دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی۔ہماری قوم اب یا کبھی نہیں کی حالت میں ہے۔ ہمیں کوئی بیرونی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ جس بدن میں صحت مند خون دوڑ رہا ہے اُس پر وائرس کا حملہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ لیکن جس چوکھٹ کو دیمک چاٹ چکی ہو اُس کے کواڑ دستک تک برداشت نہیں کرتے۔ آئیے سوچیں ہمیں زمین اور آسمان سے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ انعامات و اکرامات کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ ہم ارضِ پاکستان کی قدر شناسی کیوں نہیں کرتے۔ آئیے سوچئے اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت ختم ہو جائے۔
گِرو گے تو ساتھ گِرے گی شانِ شہسواری بھی
زوال آئے تو پورے کمال میں آئے