اولاد … ناخلف، باوصف

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
اولاد … ناخلف، باوصف

سلیم بٹ کی سجائی انجمن میں اعزاز احمد آذر اور افتخار مجاز بھی موجود تھے۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کی اس مجلس میں حکمت دانش اور دانائی کی باتیں ہوتی رہیں۔ سعید آسی صاحب نے بتایا کہ آذر صاحب اور مجاز صاحب دونوں بھائی ہیں اور نہایت وضعدار ہیں۔ رمضان میں نیکیوں کی تو بہار ہوتی ہے۔ نیکی خاندان سے شروع ہو کر عزیزوں، معاشرے اور قوم تک پھیل جاتی ہے۔ وسائل پر سب سے زیادہ حق والدین، اولاد اور درجہ بدرجہ عزیز، رشتہ داروں کا ہے۔ استطاعت ہو تو دیگیں چڑھا کر محلے میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ بے شمار رفاہی اور فلاحی ادارے دیالو طبع مہربانوں کے دم قدم ہی سے چلتے ہیں۔ میرے اور ایڈیٹر سرراہے غلام نبی بھٹ کے سوا دیگر شرکاء بہترین مقرر اور ہم دو باادب سامع تھے۔ اولاد کی والدین سے اعتنائی و بے اعتنائی اور اولڈ ایج ہومز کا ذکر ہوا۔ مجھے اپنے مرحوم ماموں صوبیدار (ر) مختار احمد کے سنائے واقعہ کا تذکرہ برمحل ہوگا۔ایوبی مارشل لاء میں وہ کراچی میں تعینات تھے جہاں ایک کرنل صاحب ایک علاقہ کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے جو بڑے صنعتکاروں کو حاضر کرکے دیگر احکامات کے ساتھ لاہور میں زیر تعمیر کوٹھی کیلئے میٹریل بھجوانے کی فرمائش کرتے۔ دونوں ریٹائرڈ ہوئے تو کئی سال بعد صوبیدار صاحب لاہور میں مالِ مفت سے بنی، تمام جدید سہولتوں سے مرصع و مزین کوٹھی میں کرنل صاحب کو ملنے چلے گئے۔ مکان لوہے سیمنٹ بجری سے تعمیر ہوتے، سنگ مرمر، ٹائلوں،قمقموں اور فانوسوں سے سجتے ہیں لیکن گھر مکینوں ہی سے آباد ہوتے ہیں۔ اس وسیع و عریض مکان میں صرف کرنل صاحب ایک نوکر کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ گھر سائیں سائیں کر رہا تھا، مہمان کے سلام پر میزبان نے جواب تو دیالیکن آواز سے پہچان نہ سکے۔ ماس چڑھ جانے سے آنکھیں چُھپی ہوئی تھیں۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے آنکھوں کے گرد تجاوزات کو ہٹا کر آنے والے کو دیکھا۔ ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سرد آہ بھری اور بتایا کہ دونوں بیٹے بیوی ، بچوں سمیت امریکہ چلے گئے۔ اہلیہ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ دولت بہت ہے لیکن اطمینان اور سکون نہیں۔ یہ کہتے ہوئے ان کی پوشیدہ آنکھوں سے پانی کی لکیریں نمودار ہو کر گالوں پر آ گئیں۔ صاحب نے حلال کی کمائی سے اولاد کی پرورش کی ہوتی یقیناً اس کرنل کی طرح آسودہ حال ہوتے جن کی اہلیہ کی وفات پر ان کا دیرینہ دوست تعزیت کیلئے گیا۔ یہ تعزیت ہی عرصہ بعد ملاقات کا بہانہ بنی۔ قبائلی کلچر کے مطابق گھر کے حجرے میں داخل ہونے سے قبل جوتے اتارے تو ایک شخص نے جوتے ایک سائیڈ پہ کئے اور اندر جانے کیلئے چپل پائوں کے سامنے رکھ دی ۔تعزیت اور حال احوال کے بعد طعام کیلئے اُٹھے تودوسرے شخص نے لوٹا اور چلمچی (آفتابہ) لا کر ہاتھ دھلائے۔ مہمان نے کھانے کے دوران افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے ساتھی کے بچھڑنے سے تم تنہا ہو گئے ،اب مشکل سے گزرے گی ۔ میزبان نے کہا اہلیہ کے بچھڑنے کا بہت غم ہے ۔جس نے آپ کے جوتے سنبھالے یہ میرا بیٹا حاضر سروس میجر جنرل، ہاتھ دھلوانے والا لیفٹیننٹ جنرل ہے۔ باادب اولاد کے ہوتے ہوئے مجھے تنہائی جان لیواکا احساس نہیں ہو سکتا ۔ آذر صاحب ہسپتال داخل تھے۔ وہ ایف ایم ریڈیو پر پنجابی میں پروگرام کرتے ہیں۔ ایک دن ایک صاحب ہسپتال میں ملنے چلے آئے۔ خیریت دریافت کی اور اپنا تعارف (ر) سکواڈرن لیڈر کے طور پر کرایا۔ وہ ائرفورس کی سروس کے دوران بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا انکے دو بیٹے ہیں انکے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ سکواڈرن لیڈر صاحب نے نہایت انکساری سے پیشکش کی کہ وہ دس لاکھ روپیہ علاج کیلئے دینا چاہتے ہیں۔ خوددار آذر صاحب یہ پیشکش کیسے قبول کر سکتے تھے ۔ان کے خلوص کا بڑی عاجزی اور ممنونیت کے ساتھ شکریہ اداکیا۔ آذر صاحب نے اس بندہ خدا کو گھر ڈراپ کرنے کیلئے افتخار مجاز کو بھیجا۔ راستے میں دونوں بہوئوں کے فون آئے جو ان کے گھر نہ پہنچنے پر پریشان تھیں ۔
سلیم بٹ نیشنل بنک کے بڑے عہدے پر تھے کہ ایک بنک کی شاخ کی وزٹ کیلئے گئے بنک کے افسران نے پورا پروٹوکول دیا ۔باہر بل جمع کرانے والوں کی لائن لگی تھی۔ لائن سے نکل کر ایک بوڑھی بیوہ انکے پاس چلی آئی۔ اس نے کہا وہ بھکارن ہے نہ لا ولد ہے۔اسکے تین بیٹے اچھی پوسٹوں پر ہیں لیکن وہ اسے اب ملتے تک نہیں، میرا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ محلے کے بل اکٹھے کر کے جمع کراتی اور فی بل دو روپے مزدوری لیتی ہوں۔ آپ کے بنک کا کیشئر کہتا ہے کہ ایک بل جمع کرا کے دوبارہ لائن میں لگو یا پھر فی بل ایک روپیہ مجھے دو۔ اس کیشئر کی تنخواہ 38 ہزار روپے تھی۔ اب شاید وہ بھی کہیں دھکے کھا رہا ہو گا۔ بٹ صاحب ہی کے ایک ایکسائز ڈائریکٹر صاحب سے مراسم تھے۔ یہ صاحب رشوت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ انہوں نے مال حرام سے گلبرگ میں بنگلہ بنوایا جہاں فرانس سے ٹوٹیاں اور شاور منگوا کر لگائے اور بڑے فخر سے دوستوں کو بتایا کرتے تھے۔ بٹ صاحب بنک کی طرف سے تاشقند چلے گئے کئی سال بعد لوٹے تو اس کے بھی کئی سال بعد ان کو ملنے چلے گئے۔ بیرونی گیٹ کے اندر ایک پٹھے کے بان کی منجی پر ایک بوڑھا بیٹھا تھا۔ سرہانہ تیل اور میل سے لتھڑا ہوا تھا۔ اس سے گھر کے مالک کا نام لے کر پوچھا تو اس نے اکھڑ لہجے میں کہا تم اندھے ہو؟ وہ میں ہی ہوں۔ اس نے دکھڑا سنایا کہ اس کی بہوئیں اسے گھر کے اندر داخل نہیں ہونے دیتیں۔ بیٹے رن مرید بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے پوتوں کے سر پر ہاتھ تک نہیں پھیر سکتا۔
 کچھ بدبختوں کو بیگم کے قدموں میں جنت دکھائی دیتی ہے ،وہ بوڑھے والدین کو اولڈ ہومز میں چھوڑ آتے ہیں۔ کچھ تو دوبارہ ملنا تک گوارہ نہیں کرتے ‘کچھ بیگم سے نظریں بچا کے کبھی کبھی ملنے چلے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک پوت باپ کو ملنے گیا اور پوچھا کوئی خدمت (گھر جانے کے سوا)؟ باپ نے کہا کہ اس کمرے میں پنکھے تو لگے ہیں تم اے سی لگوا دو۔ بیٹے نے کہا کہ اس کی ضرورت تو نہیں ہے ۔باپ نے کہا میں اپنے آرام کی بات نہیں کررہا۔ میں نے تمہیں بڑے لاڈ پیار سے پالا ‘میں نہیں چاہتا کہ جب تمہارا بیٹا تمہیں یہاں چھوڑ کے جائے تو تمہیں کوئی تکلیف ہو۔یہ سن کر بیٹے کی آنکھیں کھل گئیں۔ عقل پر پڑا پردہ اترا اور بیوی کے حسن کے جلوے اور ناز و نخرا ہوا ہو گیا۔ والدکو ساتھ لیا گھر لے جا کر بیوی کو کہا ،ابا جی اس گھر میں رہیں گے، آپ نے یہاں رہنا ہے یا نہیں، ابھی فیصلہ کر لو۔ کل میں گھر ان کے نام کرا رہا ہوں۔ بیوی نے دوسری بات نہیں کی۔
 کچھ لوگ کہتے ہیں مزید اولڈ ہومز بنائے جائیں۔ کیا اولادوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ بابوں کو بڑی تعداد میں یہاں جمع کرانے لگیں۔ جو اولڈ ایج ہوم موجود ہیں‘ ان میں سے بھی آدھے دوسرے مقاصدکیلئے استعمال میں لائے جائیں۔جو بچیں ان میں صرف وہی لوگ رہیںجن کا دنیا جہان میں کوئی نہیں۔ جن کی اولاد کھاتی پیتی ہے وہ والدین کو گھر لے جائیں۔ ایک قانون بنا دیا جائے کہ جو بھی اپنے والدین کو اولڈ ایج ہوم چھوڑ کر جائے اس کی آدھی جائیداد اس ہوم کے نام کر دی جائے۔ شاید یہی ایک راستہ بگڑی اولادوں کو راہ راست پر لا سکتا ہے۔ آخر میں مختصراً ایک چینی کہانی ملاحظہ فرمائیے۔ ’’بوڑھے باپ کی کھانسی سے تنگ آکر بیٹے نے اس کا بستر برآمدے میں لگوا دیا‘ بابا فوت ہوا‘ اسکی آخری رسوم سے واپسی پر بیٹے نے سوچا کہ بابے کا سامان ناکارہ ہے‘ اسے باہر پھنکوا دیا جائے۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کا ننھا سا بیٹا پھٹے پرانے کمبل کی تہہ لگا رہا تھا اور چیزوں کو قرینے اور سلیقے سے سنبھال رہا تھا۔ باپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے کہا‘ پاپا آپ بوڑھے ہونگے تو آپ نے بھی یہاں رہنا ہوگا۔میں آپ کیلئے سامان سنبھال رہا ہوں۔