ابھی نہ جائو چھوڑ کر…

کالم نگار  |  محمود فریدی
ابھی نہ جائو چھوڑ کر…

بارک اوباما کے انخلائی پروگرام پر مشیر خارجہ طارق فاطمی نے مشورہ نما درخواست میں فرمایا ہے کہ امریکہ کو ابھی افغانستان سے نہیں جانا چاہئے شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ ابھی افغان ہلاکتوں کی تعداد اتنی نہیں ہوئی کہ انہیں گینز بک آف ریکارڈ میں درج کیا جا سکے…؎ بقول شاعر… ابھی نہ جائو چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں… امریکہ کی موجودگی کے فوائد کا اس سے زیادہ ادراک ہمیں نہیں ہے البتہ مشیر خارجہ کے التماس پر ایک والہانہ گدگدی اور بے ساختہ ہنسی نے ایک یادگار لطیفہ تازہ کر دیا۔ ایک تھانیدار کسی کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں ایک گائوں میں گیا۔ دوپہر تک مصروف رہنے کے بعد جب فارغ ہوا تو کئی جانب سے کھانے اور خاطر تواضع کی پیش کش کی گئی۔ اپنی غیر جانبداری اور ایمانداری ثابت کرنے کی غرض سے تمام آفریں ٹھکرا دیں مگر بھوک سے برا حال تھا سوچ سوچ کر پوچھنے لگا سامنے حویلی کس کی ہے (ذہن میں خیال یہ تھا کہ محل نما حویلی کا مالک خوشحال ہو گا اچھی خاط کریگا) ایک خوش باش نوجوان نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا جناب یہ ہمارا گھر ہے۔ تم کون ہو؟ جناب ہم عربی کروڑی ہیں میرا والد سعودی عرب میں ٹھیکیداری کرتا رہا ہے آئیے ہمارے گھر تشریف لائیے ہم انشااللہ آپ کی یادگار خدمت کرینگے۔ تھانے دار نے ساتھیوں کی طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھا اور نوجوان کے ساتھ ہو لیا۔ حویلی کا آہنی گیٹ اندر سے بند تھا میزبان نے گھنٹی پر ہاتھ رکھا ہے لوڈشیڈنگ پر تبرہ بھیج کر گھر والوں کو اونچی آواز میں بلانے لگا۔ کافی دیر تک گیٹ کھٹکھٹانے کے بعد دور سے آواز آئی… شیدے! پاگل تو نہیں ہو گئے ایسی زور دار دستک تو اللہ بخشے تمہارا تایا دیا کرتا تھا۔ ابا! دروازہ کھول تھانے دار صاحب آئے ہیں۔ تھانے دار ہاں تھانے دار ہمراہ چند سپاہی بھی ہیں۔ ’’ایہہ ساڈے گھر کی لین آئے نیں‘‘ ابا سمجھا کرو! بیٹے نے چند برہنہ الفاظ اور اخلاق سوز سرگوشی میں تبادلہ خیالات کیا۔ آخر گیٹ کھل گیا۔ خوبصورت جدید طرز تعمیر وسیع لان شاندار ڈرائنگ روم آرام دہ صوفے، تھانے دار نے دراز ہوتے ہی خراٹے لینے شروع کر دیئے۔ ملاقاتیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا چاچے، مامے، تائے، پھوپھے، بھتیجے، کزن اور انکی اولادیں جو بھی آتا فرشی سلام کرتا۔ حال احوال پوچھتا اور مؤدبانہ انداز میں بیٹھ جاتا۔ کافی دیر انتظار کے بعد جب کوئی مشروب وغیرہ بھی نہ آیا تو تھانے دار نے روانگی کیلئے کہا۔ بزرگ میر عالم نے پائوں پکڑ لئے۔
 حضور آپ تشریف رکھیں خدمت خاطر کے بغیر کسی صورت نہ جانے دینگے۔ اوئے نذیر! مولوی صاحب سے اصیل مرغا ذبحہ کروا لائو۔ اوئے بشیر ماسی نوں کہہ کہ ادھ رڑکے وچ چینی دی بجائے شہد پاوے اوئے سلیم ایدھر آ کے صاحب دے پیر گھٹ۔ اوئے بشارت! سعودی عرب والیاں کھجوارں تے آب زم زم لے آ۔ غرض یہ کہ بزرگ نے کمرے میں موجود سارے نوجوانوں کو کچھ نہ کچھ لانے کا حکم دے دیا۔ جب سارے افراد وہاں سے چلے گئے اور کافی وقت گزر گیا تو تھانے دار نے غصہ میں آ کر میر عالم سے کہا۔ اوئے چھپر قناتی رئیس زادے! دو گھنٹے ہو گئے ابھی تک ٹھنڈے پانی کا گلاس بھی نہیں آیا۔ بزرگ بڑبڑ کرتا اندر گیا (میں خود لاتا ہوں جناب) تھوڑی دیر بعد اونچی آواز میں آہ وبکا کرتا روتا پیٹتا ہوا واپس آیا ٹوٹی پھوٹی آواز میں کہنے لگا صاحب جی ہم لٹ گئے آپ کی خالہ میری والدہ محترمہ فوت ہو گئی ہے۔ تھانے دار بوکھلاہٹ میں بھاگنے کے لئے اٹھا تو بزرگ نے پائوں پکڑ لئے۔ تھانے دار ایسے بھکے بھانے نہیں جانے دوں گا۔ تشریف رکھیو ہم ذرا مائی کا کفن دفن کر لیں اصیل ککڑ، شہد والی لسی اور عرب شریف کا پانی اور کھجوریں کھلائے بغیر نہیں جانے دیں گے۔ یہ ہماری روایت کے خلاف ہے کہ مہمان آئے اور خدمت کے بغیر واپس چلا جائے۔ تھانے دار نے بوڑھے کو دھکیلتے ہوئے ایک بھاری گالی منہ سے نکالی اور یہ جا وہ جا!
پولیس جانے کے بعد میر عالموں کی حویلی میں دیر تک قہقہے سنائی دیتے رہے۔