’’مولانا عبدالعزیز کیلئے حضرت مولانا عبیداللہ سندھی کا پیغام‘‘

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

شیخ مجیب الرحمان نے کہا تھا ’’ایک انسان کی حیثیت سے مجھے وہ باتیں پریشان کرتی ہیں جو بنی نوع انسان کیلئے پریشانی کا باعث ہیں۔ ایک بنگالی کی حیثیت سے میرے لئے وہ تمام باتیں پریشان کن ہیں جو بنگالیوں کیلئے پریشان کن ہیں۔ یہ وابستگی پیدا ہوتی ہے اور پروان چڑھتی ہے گہری محبت سے جو میری سیاست اور میرے وجود کو بامعنی بناتی ہے‘‘۔ یہاں بنگالی پرست لیڈر نے اپنی مٹی سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ اپنے وطن سے محبت ہی انسانیت سے محبت ہے۔ مجھے بھی آج کی ملکی صورتحال نے پریشان کر رکھا ہے۔ میں بھی سوچتا ہوں ایک پاکستانی کی حیثیت سے بھی اور ایک مسلمان کی حیثیت سے بھی۔ مجھے مساجد، امام بارگاہوں اور صوفیاء کے مزاروں پر دہشت گردی کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ پھر عقیدہ کی بناء پر ٹارگٹ کلنگ کو میں اپنے عقیدہ میں کسی طور بھی جائز قرار نہیں دے سکتا۔ آج کے ایٹمی دور میں پوری انسانیت کیلئے جیو اور جینے دو کے سوا پر امن گزارنے کا کوئی اور د وسرا راستہ موجود نہیں۔ اب مذہبی عقائد اور سیاسی پسند و ناپسند کیلئے صرف مکالمے کا باب کھلا ہے۔ مکالمہ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور اپنے نقطہ نظر کو مزید سوچ بچار کی چھلنی سے گزرانے کا نام ہے۔ لیکن میں یہ کیا سن رہا ہوں۔ طالبان کمیٹی کے رکن لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز فرما رہے ہیں۔ ’طالبان آئین کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہ شریعت کے نفاذ کے بغیر مانیں گے نہیں، ۔ شریعت سے کیا مراد ہے؟ سنی، وہابی، دیو بندی یا شیعہ شریعت؟ اس سوال کا جواب وہ بندوق ہے جو طالبان کے ہاتھوں میں نظر آ رہی ہے۔ ایک عام مسلمان کی طرح یہ ضرور جانتے ہیں کہ جس حکومت میں روٹی، کپڑا، مکان، علاج معالجہ، تعلیم، انصاف اور امن و امان مہیا ہو، وہ حکومت میرے آقا نامدارؐ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ اب رہا طالبان کے نہ ماننے کا مطلب، میں عرض کرتا ہوں۔ میں شاپنگ مال لاہور کینٹ کے تیسرے فلور پر کھڑا نیچے لوگوں کو ادھر ادھر گھومتے دیکھ رہا ہوں یہ سب لوگ مطمئن سے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کا اطمینان یوں ہی نہیں۔ اس کے لئے کئی بندوبست کئے گئے ہیں۔ چھیاسٹھ برس کے قریب اس بوڑھے قلمکار کو یہاں داخل ہونے کے لئے دو مرتبہ تلاشی کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ اس شاپنگ سنٹر میں داخلہ کیلئے میرا میٹل ڈیٹیکٹر ڈور سے گزر کافی نہیں سمجھا گیا۔ وہاں کھڑے ایک ادنی سے اہلکار نے میری مناسب سی جامعہ تلاشی بھی ضروری سمجھی۔ ہاں مجھے یاد آ گیا کہ کینٹ حدود میں داخلہ کے وقت سڑک پر کھڑی رکاوٹوں پر کھڑے چاق و چوبند فوجی اہلکاروں نے بھی میری گاڑی کی ڈگی کی تلاشی لی تھی۔ پھر انہوں نے ایک نظر میں مجھے بھی جانچا کہ میں اس محفوظ علاقہ میں داخل ہونے کی شرائط پر پورا اترتا بھی ہوں یا نہیں۔ اب نومن تیل مہیا ہو چکا تھا اور رادھا ناچ سکتی تھی۔ لیکن یہ صرف محاورے کی بات ہے وگرنہ ناچ گانا اور شاید بھنگڑا دھمال بھی ہمیں اپنی زندگی سے خارج کرنا پڑے گا۔ عرس اور صوفیا کے مقبرے بھی، یہ تبلیغ او افہام و تفہیم کا معاملہ نہیں، بس تگڑوں کی من مانی جانئے، وگرنہ وہی دھماکے، دہشت گردی، قتل عام، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے۔ میں نے کالم کے آغاز میں شیخ مجیب الرحمان کا قول لکھا ہے، اس جملے میں اس کی اپنی مٹی سے محبت کی مہک موجود ہے۔ فیض احمد فیض نے مشرقی پاکستان کے نہیں بنگلہ دیش کے ڈھاکہ پہنچنے پر پوچھا تھا کہ ’حضور خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد؟ جواب آیا کہ ’ہم دھان منڈی میں شیخ مجیب الرحمان کے گھر کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات اور شیخ جی کے خون کے دھبے ابھی تک سنبھالے پھرتے ہیں،۔ فیض احمد فیض سوال پوچھ کر اگلے جہاں سدھارے۔ سوہم نے پوچھا کہ جی وہ گولیاں تو آپ کے اپنوں نے چلائی تھیں اور پھر خون بھی آپ کے اپنوں نے بہایا تھا۔ وہ بولے ’ گولی گولی ہوتی ہے اور خون خون، چاہے غیروں نے بہایا ہو یا اپنوں نے ‘ ۔ میں پھر اپنوں کے بارے میں سوچنے لگا ۔ طالبان کے ہاتھوں مارے جانے والے ستر ہزار پاکستانی ایک سوال اپنے چہروں پر سجائے میری طرف تک رہے تھے۔ ’’کیا ہم شہید ہیں‘‘؟ ’’یہ جواب دینے سے پہلے اک نظر ہماری جانب بھی دیکھ لیں‘‘۔ یہ اس جانب سے آواز آئی جدھر خودکش مجاہدین کھڑے تھے۔ یہ سولہ سترہ برس کے بچپن کے صندل سے رچے معصوم چہرے لئے ، اپنی مائوں کے لاڈلے ہیں۔ ابھی ان کی باتوں سے دودھ کی خوشبو آتی تھی۔ میں ان دونوں کو کچھ جواب دیے بغیر سوچنے لگا کہ یہ سچ ہے کہ ’اے ایمان والو! بیشک تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ‘ لیکن یہاں کون کس کو قصاص ادا کرے گا ۔ واہ! مزہ آ گیا، ایک شہید ہے اور دوسرا غازی، دونوں مسلمان بھائی بھائی، من مرضی کے فتوے، اپنی اپنی تاویلیں، اپنی اپنی تعبیریں، ہر دو فریق قصاص مانگ رہے ہیں، کیا قصاص عدالت پر واجب ہو گیا ہے؟ خوف و ہراس میں سہمے ہوئے اس خطہ اراضی میں طالبان کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کی قبولیت ، لو کے تھپیڑوں میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔ مجھے پاکستان کا پرامن زمانہ یاد آ رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بھٹو دور میں اسلامی ملکوں کے سربراہوں کی کانفرنس میں ہم مال روڈ پر کھڑے اپنے پاس سے گزرتے ہوئے اسلامی ملکوں کے سربراہوں کو دیکھ رہے تھے۔ ہم بھاگتے ہوئے ان کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے تھے۔ آج کی نسل کو یہ سب باتیں ناقابل یقین دکھائی دیں گی۔ ہم نے لاہور ائیر پورٹ کا وہ جنگلہ بھی دیکھا ہے جسے بڑی آسانی سے پھلانگ کر ہوائی جہاز تک پہنچا جا سکتا تھا۔ اب لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز کا ، جی شریعت کے نام پر مذاکرات سے اٹھنے کو چاہ رہا ہے وہ امن مذاکرات کا بائیکاٹ کر کے اپنے مورچے لال مسجد واپس جانا چاہتے ہیں۔ ہم کیا اور ہماری مجال کیا کہ انہیں کچھ عرض کر سکیں ۔ مولانا عبیداللہ سندھی کا ایک قول ان کی نذر کرتے ہیں۔ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی کا دیو بند سے تعلق اور ان کا مقام مرتبہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ مولانا عبدالعزیز اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی ہم جیسے مسلمان نہیں تھے، جنہیں اسلام آباد اجداد سے ورثے میں مفت کے بھائو مل جاتا ہے۔ یہ نو مسلم تھے اور انہوں نے بڑی سوچ بچار کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ اور پھر انہوں نے اس کے لئے کیا کیا عذاب نہیں جھیلے ہونگے۔ ان کی زندگی صرف رشد و ہدایت سے عبارت نہیں تھی۔ انہوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی فرما رہے ہیں: ’’خلافت راشدہ سماجی تاریخ کے اس دور کا ترقی پسند اور وسعت پذیر اسلامی سماج تھا۔ آج مسلمان اس سماج کے نام پر جس سماج کیلئے سرگرداں ہیں، وہ اپنے اندر سکڑنے والا علیحدگی پسند اور ہر نئی چیز کو بدعت سمجھنے والا جاں بہ لب سماج ہے‘‘۔