’’مرسوں‘ مرسوں‘ سندھ نہ ڈیسوں‘

کالم نگار  |  امیر نواز نیازی

سرائیکی اور سندھی زبانیں‘ دو خوبصورت بہنیں ہیں جو میانوالی سے لیکر کراچی تک پاکستان کے شیر دریا سندھ کے دونوں کناروں پر شاد و آباد ہیں۔ دریائے سندھ کوہ قراقرم کے پہاڑی سلسلوں سے نکل کر کالا باغ ضلع میانوالی کے معروف مقام پر میدانی علاقے میں داخل ہوتا ہے۔ تو یہیں سے سرائیکی زبان کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ پتے کی بات یہ ہے اور جوں جوں دریا کے بہاؤ میں متانت اور دھیما پن آتا چلا جاتا ہے۔ سرائیکی کے لب و لہجہ میں بھی انکساری اور وضع داری آتی چلی جاتی ہے۔ اور اس زبان کا شمار اس خطہ کی قدیم ترین زبانوں میں ہوتا ہے۔اور پھر دریائے سندھ جب پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کو عبور کرکے سکھر صوبہ سندھ میں داخل ہوتا ہے تو یہ سرائیکی سندھی زبان کے روپ میں بدل جاتی ہے۔ بلکہ دونوں زبانیں آپس میں شیرو شکر ہو جاتی ہیں۔ اپنی اپنی پہچان کیلئے یہ اگرچہ دو مختلف زبانیں ہیں لیکن ان میں لب و لہجہ اور تلفظات کے لحاظ سے بڑی حد تک مماثلت اور یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ایسے کچھ خیالات آج ہمارے ذہن میں اس لئے گردش کر رہے ہیں کہ ان دنوں پیپلز پارٹی کے ’’سرپرست اعلیٰ‘‘ بلاول زرداری بھٹو نے سندھی زبان میں نعرہ لگایا ہے۔’’مرسوں‘ مرسوں‘ سندھ نہ ڈیسوں‘ مرسوں مرسوں پاکستان نہ ڈیسوں‘‘ اور ہم جو اس سندھی زبان کے نعرے کو اپنی سرائیکی میں سمجھ پائے ہیں۔ اس کا اردو میں ترجمہ کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ ’’مر جائیں گے‘‘ مگر سندھ نہیں دیں گے۔ مر جائیں گے مگر پاکستان نہیں دیں گے۔ اس سے شاید ان کی مراد سندھ اور پاکستان ہر حکومتی قبضہ برقرار رکھنا ہی ہے۔ ماشاء اللہ جو بے صادق ہوں تو اللہ تعالیٰ بھی ساتھ دیتا ہے۔ اللہ کرے انکی مرادیں پوری ہوں مگر لگتا یہ ہے برخوردار بلاول نے یہ نعرہ اس لئے لگایا ہے کہ وہ لوگ جو انہیں لندن پلٹ ایک غیر سندھی نوجوان سمجھتے ہیں۔ باور کر لیں کہ وہ سندھ ہی کے فرزند ہیں اور سندھی روانی سے بول لیتے ہیں۔ بلکہ اب تو وہ دوسروں کی لکھی ہوئی اردو میں بھی دھواں دھار تقریریں کر رہے ہیں تاکہ انہیں آئندہ پاکستان کا شہری تسلیم کر لیا جائے۔ اپنے آپ کو منوانے کیلئے ایک لمبی تگ و دو کرنی پڑی۔ جبکہ بلاول تو ابھی سے اپنے نانا اور والدہ کی جگہ لینے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ جہاں ان کے والد گرامی جناب آصف علی زرداری کے سرانجام دیئے ہوئے کارنامے بھی ان کے درپیش ہوں گے جو ان کیلئے سدراہ بنیں گے۔ گویا ان کیلئے بہت کٹھن ہے  ڈگر پنگھٹ کی۔ اور وہ جوکہہ رہے۔ ’’مرسوں‘ مرسوں‘ سندھ نہ ڈیسوں‘ تو ہمیں خدشہ ہے کہ سندھ کی سیاسی اور انتظامی بلکہ بدانتظامی صورت حال ایسی ہی رہی تو کچھ بعید نہیں آنے والے وقتوں میں سندھ بھی ان کے ہاتھ سے ایسے ہی نکل جائے گا۔ جیسے پنجاب اور کے پی کے نکل چکے ہیں۔  سندھ میں بھی انہوں نے ڈیلور نہ کیا تو یہ حکومت بھی اسکے لئے آخری موقع ہو گا اور جہاں تک ’’مرسوں مرسوں پاکستان نہ ڈیسوں‘‘ کا تعلق ہے تو نہ جانے وہ کیونکر یہ نعرہ لگا رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان کی حکومت بھی تو ان سے پہلے ہی روٹھ چکی ہے اور اس کو منا کے واپس لانا اس پارٹی کیلئے کاردارد ہو گا۔ مگر خواہشوں پر کون قدغن لگا سکتا ہے۔ بلاول کا ایسا کوئی خواب ہے تو انہیں سمجھ لینا چاہئے‘ ہنوز دلی دور است‘ چہ عجب ان کا یہ خواب ہی رہے گا کہ پچھلے پانچ سال جو اس پارٹی کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ عوام کیسے بھول پائیں گے۔ بلاول زرداری بھٹو اگر پی پی کی مقبولیت کو واپس ذوالفقار علی بھٹو کی سطح پر لے آئیں تو یہ پاکستان کی سیاسی زندگی کا ایک معجزہ ہی ہو گا۔ ورنہ یہ ’’مجال است و محال است‘‘ والا معاملہ ہی رہے گا کہ اب پلوں کے نیچے بہت سا پانی ہی نہیں۔ انسانی خوں کی ندیاں بھی بہہ چکی ہیں اور پاکستان کی سیاست اب نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ایسے میں اسے نئے خون‘ نئی سوچ اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ کیا بلاول اس کے ان تقاضوں پر پورا اتر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز کرے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ مستقبل کا ذوالفقار علی بھٹو بن سکیں گے یا آصف علی زرداری بن کر رہ جائیں گے۔ یا پھر واپس لندن لوٹ جائیں گے۔ اور یہ جو انہوں نے سندھ فیسٹیول کے نام پر جو سندھ بھر میں ہنگامہ برپا کر رکھا ہے ہمیں اچھا لگا لیکن دکھ بھی ہوا کہ جس گھر میں ہر روز لاشیں اٹھ رہی ہوں‘ ہر طرف آگ اور خون کے دریا بہہ رہے ہوں تو وہاں یہ ڈھول ڈھمکے گانے اور ناچ اور ٹھمکے اچھے نہیں لگتے۔ بلکہ یہ ایسے ہی ہے۔ جیسے روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ ہر اچھا کام مناسب وقت پر اچھا لگتا ہے تو… ع
 کوئی سمجھائے کہ ہم سمجھائیں کیا