کرپشن فری کلچر

کالم نگار  |  عتیق انور راجہ

کرپشن اور انسان اور فطرت کا گہرا سمبندھ ہے۔ فطرت میں جو کچھ موجود ہے وہ انسان کی سرشت میں بھی ہے۔ شروع کا انسان اپنی سرشت اور فطرت کے قریب تھا کیونکہ وہ ایک فطری ماحول میں زندگی بسر کرتا تھا۔ پھر تحفظ اور سہولیات نے اسے در و دیوار کی زندگی کی طرف راغب کیا جس سے نہ صرف اس کی زندگی متاثر ہوئی بلکہ کلچر بھی تبدیل ہوتا رہا۔ اچھے بُرے دونوں طرح کے اثرات تھے۔ انسان کے اندر ہمیشہ سے ایک جذبہ بہت توانا رہا ہے۔ وہ ہے حاکمیت کا جذبہ دوسروں کو اپنا فرمانبردار بنانا، اپنے مطیع کرنا، خود کو مضبوط کرنا، اس کیلئے وہ مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے۔ جادو ٹونے سے لے کر اسلحہ تک ہر شے کو اس مقصد کے تحت لاتا رہا ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو پچھلے پندرہ بیس سال سے یہاں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بار بار جمہوریت پر حملوں سے سماجی نظامِ زندگی بُری طرح متاثر ہُوا ہے اور آمریت نے اس تصور کو راسخ ہونے میں مدد دی ہے کہ طاقت اور ناجائز ذرائع سے وسائل پر قدرت حاصل کرنا یا اُنہیں زیرِ تصرف لانا ممکن ہے۔ اسی تصور کے تحت آپا دھاپی اور کرپشن جیسی منفی قدروں کو فروغ حاصل ہُِوا اور وطنِ عزیز کا کوئی ادارہ اُس کی گرفت سے محفوظ نہ رہ سکا، جس کو جہاں موقع ملا اُس نے کھل کر کھیلنے کی پالیسی اپنائی جس سے ملکی معشیت پر بُرے اثرات ثبت ہوئے بلکہ اقوامِ عالم میں بھی ہماری پہچان مجروح ہوئی۔
گذشتہ پانچ سالوں سے پنجاب سرکار اس حوالے سے سرگرمِ عمل ہے کہ کرپشن کی جڑیں کاٹ کر صوبے اور ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ اگر حالیہ حکومت کی کارکردگی ملاحظہ کی جائے تو دیگر صوبوں میں بیشتر وزیر مشیر اور محکمے اس حوالے سے ملوث پائے گئے ہیں۔ مگر پنجاب میں ابھی تک سات ماہ کے دوران ایک بھی کرپشن بڑا یا نمایاں کیس سامنے نہیں آیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب میں کرپشن سرے سے ختم ہو چکی ہے اور سب لوگ ایک دم سے دیانتدار بنائے جا چکے ہیں، ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے جو ایک پَل میں منظرنامہ تبدیل کر دے۔ صدیوں کی بُرائیاں اور مسائل حل ہونے میں وقت لگتا ہے لیکن  یہ کوئی عام بات نہیں کہ پنجاب میں اس حوالے سے جو کام شروع ہُوا ہے اس کے اثرات اُوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب ایم، پی اے اور ایم این اے کے کوٹے ہُوا کرتے تھے اور میرٹ کی سرعام دھجیاں اُڑائی جاتی تھیں۔ نالائق، کم فہم اور نااہل لوگوں کی بھرتی نہ صرف اہل لوگوں کے حق پر ڈاکہ تھی بلکہ نااہل لوگوں کی کارکردگی سب سے بڑا نقصان تھی۔ آج اس طرح کا کوئی ڈرامہ نظر نہیں آ رہا بلکہ قوانین و ضوابط کے تحت بھرتیاں کی جاتی ہیں اور مختلف محکموں کے فنڈز اور ان کی کارکردگی کا بھی سختی سے نوٹس لیا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب نہ صرف پاکستان اور پنجاب میں ایک مثال ثابت ہوئے ہیں بلکہ عالمی طور پر ان کی صلاحیتوں اور خدمات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو پاکستان اور خصوصاً پنجاب کیلئے ایک اعزاز سے کم نہیں۔ آخر میں اس عہد کے خوبصورت شاعر قمر رضا شہزاد کی ایک خوبصورت غزل جس میں رچی حقیقتیں میرے کالم اور میری تحریر کا حاصل بھی ہیں اور وہی شاعری عمدہ شاعری کہلاتی ہے جسے ہر دل کی آوازکہا جا سکے سو میرے دل کی آواز قمر رضا شہزادکے دو اشعار پیش ہے … ؎
اک دوسرے سے خود ہی الگ ہو رہے ہیں لوگ
یہ راستہ کسی کو جُدا کر نہیں رہا
اوروں سے کس لیے ہے تجھے خیر کی طلب
تُو بھی تو دوسروں کا بھلا کر نہیں رہا